143

پاک آرمی تجھے سلام۔۔۔ ( تحریر۔ شہزادہ مبشرالملک)

*رونڈور کا راہ گیر۔
دونڈور…. میں ایک مسجد سیلابی ریلوں کی ضد میں آئی ہوئی تھی اور لوگ بے بسی سے اسے دیکھ رہے تھے…. ناگہاں ایک جاننے والے سادہ لوح صاحب نے مجھے دیکھ لیا اور اظہار ہمدردی کے طور پر
کہا…. میتار…. غریبوں کے گھر…. شغور کا قلعہ…. ہمارا جماعت خانہ بھی نہیں بچا…. پیچھے سے ایک راہ گیر نے با آواز بلند کہا….وہ اپنے گھروں (مسجد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کو نہیں بخش رہا…. اورتم قلعہ ،گھروں اور جماعت خانے کی بات کرتے ہو…. ؟
*دوکارنامے۔
آفتوں اور آزمایشوں … نے چترال کو جھنجوڑ کے رکھ دیا مگر دو کارنامے ایسے بھی ہوئے جنہوں نے …. ڈوبتے ہوئے آرمانوں اور امیدوں کوسنبھا لہ دیا…. ایک …. سولر ٹیکنالوجی…جس نے سورج کی شعاؤں کو گرفتار کرکے ….. ظلمت کدئے میں روشنی مہیا کی….اور اسے حرام کہنے والے بھی اس کی …. روشنی …. سے مستفید ہوئے۔ دوسرا کا رنامہ …. پانی کے کنواں… جہاں جہاں مخیر حضرات اور SRSP نے نکلوائے تھے وہ لوگوں کے لیے صاف و شفاف پانی مہیا کرنے کا بہترین ذریعہ بنے جس پرRPM طارق احمد صاحبSRSP مبارک باد کے مستحق ہیں… اس پراجیکٹ کو مزید پھلانے اور ٹھیکدار کی سخت نگرانی اور جنوری فروری کے سیزن میں کام کی تکمیل وقت کی اہم ضرورت ہے۔
*بے جا پھنے خانی۔
ہم چترال کے لوگ …. روایتی طور پر قدیم دور سے ہی …. کچھ نا کچھ بلکہ بہت کچھ ….غیرسنجیدہ واقع ہوئے ہیں…. بڑے سے بڑے کام کو… ہنسی مذاق میں اڑا لیتے ہیں اور …. رائی کو پہاڑ…. بنانا ہمارئے لیے بائیں ہاتھ کا نہیں …. بائیں پاؤں…. کا کھیل ہے…. مشکل کی اس گھڑی میں جہاں لوگوں کو فوری ریسکیواور ریلیف کی ضرورت تھی …. موسم کی مسلسل خرابی… پورئے ملک میں سیلابوں کی بدولت وسایل کی کمی کے باوجود پاک آرمی کے ہیلی کاپٹرز کے پائیلٹس نے جان ہتھیلی پہ رکھ کر لوگوں کی خدمت کی اس دوران بھی سننے میں آیا کہ نمائیدئے ناظمیں اور دیگر لوگوں نے … ہیلی کاپٹرز کو بے جا استعمال کرنے اور لوگوں کو دیکھانے کے لیے…. پھنے خانی …. کی کوشیشں کیں جومشکل کی کھڑی میں مہذب قوم کو زیب نہیں دیتیں۔
*جنٹل مین بسم اللہ.
جب سے ہمارئے …. سول اداروں کو وقتی ضرورت کے تحت آرمی کے …. چھتری تلے…. بیٹھایا گیا ہے یہ …. فرمان بردار…. بچے بن گئے ہیں ایسا لگ رہا ہے اس …. شہرناپرسان…. میں ابھی ابھی حکومت قائم ہووئی ہے… سارئے دفترات والے الرٹ ہوگئے ہیں … نجانے کب بولاوا آجائے اور میٹینگ کے لیے …. چھاونی جانا پڑئے…. وہ بجلی جو …. آنکھ مار مار….. کے ہمیں سر اٹھانے کا موقع نہیں دئے رہا تھا وہ بھی سنجیدہ اور باوقارہوگئی ہے…. میرا مشورہ ہے کہ ایسا قانوں پاس کیا جائے جس طرح … تبلغی حضرات چلہ و چار مہینے کے لیے راونڈ جاتے ہیں … بالکل اسی طرح ہمارئے سول اداروں کے ملازمیں کو…. چلہ کشی …. کے لیےGHQ میں ٹھرا کر …. وطن سے محبت ، لوگوں کی خدمت ۔ بروقت فیصلے ، وقت کی پابندی ، تنخواہ کو حلال کرنے کے ….. ٹیکے…. لگوادیے جائیں…. اور اس وقت تک واپس نہ کیا جائے جب تک یہ…. حفا ظتی کورس…. مکمل نہ ہوں۔ چترال کی ویرانی کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ یہ کام شروع ہونا جلد ممکن نہیں لیکن آرمی کے جوان اور افیسرز جس لگن اور جذبے سے مصروف عمل ہیں لگتا ہے یہ کام جلد پائے تکمیل کو پوچھیں گے…. اگر وہ بائی پاس روڈ، جیل کے سامنے روڈ کی کٹائی ، بجلی کی دستیابی…. کچھ حد تک کرپشن اور احتسابی عمل پر بھی نظر رکھیں تو یہ ضلع آگے کی جانب بڑھ سکتا ہے….. اس کے علاوہ گرم چشمہ روڈ کی بحالی اور شغور میں پل کی ہنگامی طور پربحالی جو علاقے کے ہزاروں گھرانوں کے لیے زندگی اور موت کا مسلہ بناہوا ہے پر توجہ کی ضرورت ہے۔
* زندہ باد ہیں آ پ لوگ۔
مشکل کی اس گھڑی میں وہ سب لوگ قابل ستائیش ہیں جنہوں نے …. روحمابینہ ھم… کا مصداق بنتے ہوئے ازمائیش کی اس گھڑی میں اپنے بہن بھائیوں کی بھرپور مدد کی ان میں انفرادی اوراجتمائی طورپربھرپور کام کا سلسلہ تاحال جاری ہے جن میں الخدمت۔ فلاح انسانیت، فوکس ، قاری فیض اللہ صاحب کا ٹرسٹ ، کراچی کے علماء کرام ۔، مقامی علماء اور ان کے شاگرد، اسلامی جمعیت طلباپختون بھائیوں ،این جی اوز اور خصوسصا میڈیانے احسن خدمات انجام دیں۔جس پر وہ شکرئے اور زندہ باد کے مستحق ہیں۔ اگرچہ یہ خدمت رب کی رضاکے لیے ہو رہا ہے او ریہ … رب کعبہ …کے حضور سرخرو رہیگے انشااللہ۔ لیکن آنے والی ضلعی حکومت سے ہماری درخواست ہے کہ ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی پارٹی اور سرٹفیکٹ کا اہتمام کیاجائے۔
*مہمان ڈونرز۔
وزیر اعظم پاکستان کی دوبارہ آمد متوقع ہے اس طرح اور بھی سیاسی اور دیگر ڈونرز مشکل کی اس گھڑی میں چترال کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ان لوگوں کے سامنے ہمارئے مشکلات مصائیب کو مناسب اور دانش مندی سے پیش کرنا وقت کا تقاضا ہے تاکہ کسی کو بھی ہمارے سیاسی اختلافات کا پتہ نہ چلے کیونکہ یہ وقت …. نمبر بنانے…. کا نہیں کام کرنے کا ہے …. اچھا تو یہ ہوگا ہمارئے تمام … نمائیدے ان ملاقاتوں میں موجود ہوں اور لوگوں کے مسائل کو احسن طریقے سے بیاں کرسکے۔ اس کے علاوہ امدادی سامان کی مستحقین تک رسائی بھی بہت ضروری ہے جو غم سے نڈھال اپنے خانہ ویراں کے بچے کچے اشیا ء کو سمٹنے میں مصروف ہوکر …. تقسم والی جگہ پہنچ نہیں پاتے اور …. دو نمبری…. کام دیکھا دیتے ہیں…. اس کے علاوہ ہمارئے تعمیری کام جو سنا ہے فوجی اداوں کی نگرانی میں ہورہے ہیں اور ہمارئے لیے ہورہے ہیں اس لیے ان مہمانوں کے ساتھ بھی تعاون … مہمان نوازی میں کمی کوتاہی نہیں آنی چاہیے تاکہ ہمارئے متعلق ایک اچھا تاثر قائم ہوسکے۔
*****

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں