51

جماعت اسلامی مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے سیلاب زدہ بھائیوں کے دکھ درد میں پوری طرح شریک ہے۔پروفیسرابراہم خان

چترال ( نمائندہ ڈیلی چترال) چترال کے طول وغرض میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے اور متاثریں کی مشکلات معلوم کرنے کے لئے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان تین دوزہ دورے پر چترال پہنچ گئے جس کے دوران وہ سب ڈویژن مستوج اور گرم چشمہ روڈ پر واقع متاثرہ دیہات میں عوام سے ملیں گے۔ منگل کے روز انہوں نے دورے کے پہلے روز ایون ، بروز ، موری بالا اور ریشن میں سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے سیلاب زدہ بھائیوں کے دکھ درد میں پوری طرح شریک ہے اور الخدمت فاونڈیشن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ سیلاب آنے کے بعد تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں سب سے پہلے ان کے پاس ریلیف کے سامان لے کر پہنچ گئے جب وہ ہر گھر بار لٹاکر مکمل طور پر بے سروسامان تھے۔ انہوں نے کہاکہ سیلاب اور دوسرے آفات ناگہانی دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان ہیں ان کے لئے بھی جو متاثر ہوتے ہیں اور ان کے لئے بھی جومتاثر نہیں ہوتے جن کا امتحان اس بات پر لیا جاتا ہے کہ وہ اپنے متاثر بھائیوں کی کس طرح امداد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان آفات سے ہمیں سبق بھی لینا چاہئے اور اپنے باطنی اور ظاہری ماحول میں بہتری لاتے ہوئے ان کاموں سے احتراز کریں جن سے ہماری طبعی ماحول متاثر ہوکر سیلاب اور دوسرے قدرتی آفات کا سبب بنتے ہیں اور اپنے رب کی نافرمانی سے بھی بچ کررہیں تاکہ ان کا قہر نازل نہ ہوجائے ۔ جماعت اسلامی کے صوبائی امیر نے متاثرین کو یقین دلایا کہ ان کی مکمل بحالی تک ان کی ہرطرح امداد جاری رکھی جائے گی جبکہ صوبائی حکومت میں ایک پارٹنر کی حیثیت سے بھی وہ تباہ شدہ انفراسٹرکچرکی بحالی اور دوبارہ تعمیر میں متعلقہ اداروں کو موبلائز کرنی کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ابپاشی کے لئے ہزاروں چھوٹے چھوٹے ایریگیشن چینلز سیلاب برد ہوچکے ہیں جن کی جلد ازجلد بحالی نہ ہونے کی صورت میں ضلع بھر کے کسانوں کی معیشت برباد ہوکر رہ جائے گی اور صوبائی حکومت کو سب سے پہلے ہنگامی بنیادوں پر ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر ابراہیم نے الخدمت ضلعی ریلیف آفس میں رضاکاروں سے بھی خطاب کیا ۔ جماعت اسلامی کے ضلعی امیر مغفرت شاہ نے بھی اس موقع پر خطاب کیا

Print Friendly, PDF & Email

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں