44

داد بیداد ۔۔۔۔علاقائی تنظیم کی رکنیت کا تاج۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

شنگھائی تعاون تنظیم ) SCO) نے پاکستان اور بھارت کو باقاعدہ رکنیت دیدی ہے 2001ء میں شنگھائی کو اپریشن ارگنائزیشن کی بنیاد رکھی گئی تو اس کے ممبران کی تعداد محدود رکھی گئی تھی بانی ارکان میں 6ممالک چین ، روس ، کزاخستان ، کرغیزیہ، تاجکستان اور ازبکستان شامل تھے ۔ 16سال بعد جنوبی ایشیا کے دو ممالک پاکستان اور بھارت کو رکنیت دیدی گئی تنظیم میں افغانستان ، بیلا روس اور منگولیا کو مبّصر کا درجہ حاصل ہے شنگھائی تعاون تنظیم کا تاج پاکستان کے سر پر کس طرح سجے گا اس حوالے سے پختون شاعر خوشحال خان خٹک فرماتے ہیں
کہ دستار تڑی ہزار دی
د دستار سڑی پہ شما ر دی
سر پردستار سجانے والے ہزاروں ہونگے مگر دستار کے لائق انگلیوں پر گنے جاتے ہیں پاکستان اس وقت اندرونی طور پر تین بڑے مسائل سے دو چار ہے پہلا مسئلہ یہ ہے کہ 68سال امریکی بالادستی کے نیچے دب کر رہنے کی وجہ سے 88ارب ڈالر کے قرضوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے اس بوجھ کو سر سے اتار پھینکنے کی کوئی صورت نظر نہیںآتی دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی قیادت بالغ نظری سے محروم ہے بین لاقوامی تعلقات میں بھی اندرونی دشمنی کو مقدم رکھتی ہے اور ہر محاذ پر اندرونی خلفشار کی وجہ سے ناکامی سے دوچار ہوتی ہے سیاسی قیادت بالغ نظر ہو تو بین لاقوامی تعلقات میں اندرونی اختلافات کو پس پشت ڈال دیتی ہے تیسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں نے بار بار مداخلت کرکے پاکستان کی بیورکریسی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے دنیا کے مختلف ممالک میں ہمارے سفارت خانے پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں شنگھائی تعاون تنظیم کی مثال بجلی گھر کی طرح ہے ہمارے ٹرانسفارمر جل گئے ہوں تو بجلی گھر سے کوئی فائدہ نہیں ملے گا اس لئے ہماری حکومت کو علاقائی تنظیموں کی رکنیت سے فائدہ اٹھانے کے لئے اندرونی سسٹم کی خرابیوں کو دور کرنا ہوگا اس جملہ معترضہ کے بعد کزاخستان کے شہر آستانہ میں ہونے والی اہم کانفرنس کی تفصیلات پر غور کرنا بیحد ضروری ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ’’آستان‘‘ سے آستانہ تک لمبا اور تھکادینے والا سفر ایک جست میں طے نہیں کیا اس کے پیچھے تین حکومتوں کی کاوشیں کار فرما تھیں جنرل مشرف اور آصف علی زرداری نے اپنے ادوار میں مثبت پیش رفت کے ذریعے مبّصر کا درجہ حاصل کیا تھا موجودہ رکنیت اس کوشش کا تسلسل ہے اس کی خاص اہمیت یہ ہے کہ بھارت شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے تگ ودَو کررہا تھا اگر پاکستان کو رکنیت نہ ملتی تو ہماری پوزیشن خطے کے اندر کافی متاثر ہوتی اور تنظیم میں پاکستان کی غیر موجودگی سے بھارت ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا اس کی دوسری اہمیت یہ ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم تجارت، معیشت اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کے ساتھ علاقائی سلامتی کے معاملات میں بھی تعاون کے لئے بنائی گئی ہے اس حیثیت میں نیٹو (NATO)کی حیثیت کے قریب تر ہے اور کسی مرحلے پر یہ تنظیم وسطی ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کے اقوام کے لئے وہی کام کرسکتی ہے جو کام امریکہ اور یورپ کے ممالک نیٹو(NATO)سے لے رہے ہیں SCOکی رکنیت حاصل کرکے پاکستان نے اپنی سفارتی تاریخ کا بڑا سنگ میل عبور کر لیا ہے گزشتہ 68سالوں سے پاکستان امریکہ اور یورپ پر انحصار کرتاآیا ہے مغربی ممالک نے پاکستان کو ٹیکنالوجی ٹرانسفر کرنے سے صاف انکارکیا وہ قرض دے کر سود لیتے رہے وہ اپنا اسلحہ فروخت کرنے کے لئے پاکستان کو مارکیٹ کا درجہ دیتے رہے پاکستان صارف ملک بن کر رہا صنعتی ملک نہ بن سکا اگر عوامی جمہوریہ چین کے تعاون سے ٹیکسلا اور کامرہ کی دفاعی صنعتوں کا انتظام نہ ہوتا تو امریکہ پر انحصار کی وجہ سے ہمارا دفاعی نظام اب تک مفلوج ہوچکا ہوتا شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت پاکستان کو صنعتی اور دفاعی شعبے میں ترقی کے نئے مواقع فراہم کرے گی اس تنظیم کو بامعنی بنانے کے لئے شنگھائی میں تجارت اور صنعت کا ایشائی بینک بھی قائم کیا گیا ہے یہ بینک ممبر ملکوں کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) اور ورلڈ بینک کی غلامی اور محتاجی سے نجات دلائے گا اور خطے میں ترقی کے نئے دروازے کھولنے میں مدد دے گا آستانہ کانفرنس کے موقع پر وزیر اعظم محمد نواز شریف نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن ، چینی صدر شی جن پنگ، کزاخ صدر نور سلطان نذر بایوف، کرغز صدر المازبیگ حاتم بایوف ، ازبک صدر شوکت مرزایوف اور تاجک صدر امام علی رحمانوف سے الگ الگ ملاقاتیں کرکے دوطرفہ تعاون بڑھانے کے مواقع اور امکانات کا بھی جائزہ لیا ان میں سے چار لیڈر ایسے ہیں جو گزشتہ 3دہائیوں سے حکومت میں ہیں امریکہ کے آستان سے علاقائی طاقتوں کے آستانے تک پاکستان کا سفر بہت خوش آئند ہے آستانہ کانفرنس اور SCOکی رکنیت نے پاکستان کو ترقی اور سلامتی کے نئے مواقع اور امکانات کی راہ دکھائی ہے ورنہ ہم امریکہ بہادر کے آستان پر کب تک پڑے رہتے بقول غالبؔ
دَیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستان نہیں
بیٹھے ہیں رہ گذر پہ کوئی ہمیں اٹھائے کیوں

Print Friendly, PDF & Email