51

بدھ مت کے ’’ پر امن پیرو کار‘‘ ۔۔۔۔کمال عبدالجمیل

یہ نوے کے دہائی کے آخری سالوں کی بات ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی جو کہ خالصتاً ایک کٹر نظریاتی حکومت تھی۔ وہ حکومت کس کس کے آنکھوں میں کھٹکتی رہی اور اسے ڈھانے میں کس کس نے کیا کیا کردار ادا کئے یہ سب تاریخ کا حصہ ہیں جن پر کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں جبکہ بعض تو اب بھی زیر طبع ہیں۔ ان سطور میں طالبان کے حکومت یا انکے طرز حکومت کے بارے میں رائے زنی نہیں کرنی بلکہ طالبا ن کے دور حکومت میں ایک واقعے کا مختصراً ذکر کرنا ہے ۔ یہ واقعہ طالبان کے ہاتھوں افغانستان کے صوبے بامیان میں ہزاروں سالوں سے ایستادہ ’’ بدھا‘‘ کے مجسموں کو زمین بوس کرنے کا ہے۔ ہوا یہ کہ طالبان حکمرانوں نے بت پرستی کے حوالے سے اسلامی تعلیمات اور احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے افغانستان میں موجود ’’بدھا‘‘ کے مجسموں کو زمین بوس کیا۔ جس دن ’’بدھا‘‘ کے یہ مجسمے بارود سے اڑائے گئے اس دن افغانستان کے صوبے بامیان کے اس علاقے میں بدھ مذہب کا ایک بھی پیرو کار موجود نہیں تھا بلکہ پورے اٖفغانستان میں اس مذہب کے پیر وکار نہ ہونے کے برابر تھے۔ پھر بھی طالبان کی طرف سے ’’بدھا ‘‘ کے مجسموں کو اڑانے کے عمل کو مسلمان رائے عامہ نے بھی نا پسند کیا کہ اسلام میں ہر ایک مذہب کے پیروکاروں، انکے مذہبی مقامات اور عبادت گاہوں کے تقدس اور حفاظت کا درس موجود ہے۔ اسوقت میڈیا بھی اتنی ترقی یافتہ نہیں تھی ، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا اتنی وسیع نہیں تھی پھر بھی اس سارے عمل کو اچھال کر دنیا کو سر پر اٹھا یا گیا۔ مغربی میڈیا نے اپنے ممالک میں رائے عامہ کو ہموار کرنے اور حکومتوں کو ’’کچھ ‘‘ کرنے پر مجبور کرنے کیلئے تن من دھن کی بازی لگائی۔ پوری دنیا میں طالبان پر لعن طعن کیا گیا۔ اگر اسوقت کے اخبارات کو اٹھا کر دیکھیں تو اس عمل کو موجودہ دور میں ثقافتی تباہی (Cultural Disaster) اور مذہبی انتہا پسندی سمیت نہ جانے کیا کیا نام دئیے گئے۔ اسوقت میڈیا کے سرخیوں کو اگر دیکھیں تو یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ ’’بدھا‘‘ کے مجسمے نہیں شاید لاکھوں لوگوں کو زندہ درگور کیا گیا ہو۔ ایک معاصر کا ٹائٹل پیج کچھ یوں تھا{World Mourn Cultural Devastation}۔ اس وقت دنیا بھر کے میڈیا نے ’’بدھ مت‘‘ کے پیروکاروں کو امن کے داعی اور نہایت بے ضرر لوگوں کے طور پر بھرپور انداز میں پیش کیا اور یہ راگ الاپا جاتا رہا کہ اس وقت اس نیلے آسمان کے نیچے اور خاک زمین کے اوپر انسانوں میں کوئی انتہا ئی بے ضرر، عجز و انکسار کے پیکر، وفا شعار وغیرہ وغیرہ اوصاف کے حامل کوئی مخلوق بستی ہے تو وہ صرف اور صرف بدھ مت کے پیروکارہیں ۔ اب آئیں تصویر کے دوسری رخ کی طرف ۔ برما ایک ملک ہے جسے آجکل میانمر کہا جا تا ہے ۔ برما کی ایک ریاست ’’رخائن‘‘ ہے جہاں پر مسلمانوں کی اکثریت ہے اور اسوقت اس نیلے آسمان کے نیچے اور خاک زمین کے اوپر ظلم ، جبر اور استحصال کا شکار ’’رخائن ‘‘ کے رہنے والے روہنگیا مسلمان ہیں وہ ناقابل بیان اور انتہائی دردناک اور افسوسناک ہے۔ ویسے تو دنیا میں ہر جگہ آجکل سب سے سستی چیز خون مسلم ہے لیکن اس ملک میں جو مظالم مسلمانوں پر ڈھائے جا رہے ہیں ، جو مصیبتیں اور آلام مسلمانوں پر ہیں انہیں سوچ کر ہی رونگٹھے کھڑے ہوتے ہیں۔ بدھ مت کے وہ خود ساختہ امن کے داعی پیرو کار انسانوں کو زندہ جلا رہے ہیں، میا نمر میں انسانیت سڑکوں پر زندہ جلتی ہے لیکن مٹی اور لکڑی کے بتوں کے لئے آسمان سر پر اٹھانے والے آج خاموش ہیں۔ کئی ہزار مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا ہے۔ املاک کی بات ہی چھوڑ دیں کیونکہ جہاں انسانی زندگی اور عظمت کی قدر نہ ہو وہاں املاک کی کیا وقعت ہو تی ہے۔ مسلمانوں کے نسل کشی پر میڈیا کی مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی سمجھ سے بالا تر ہے کیونکہ یہی میڈیا ہے جو کہ ہندوستانی اداکاراؤں کے سالگروں کی تقریبات کو بڑھا چڑھا کر بریکنگ کے طور پر نشر کرتی رہتی ہے لیکن دور جدید کے المناک ترین ظلم کے حوالے سے بالکل چپ ہے۔ مسلمانوں کے قتل عام کی خبر کو بالکل کوئی اہمیت نہیں دی جارہی ہے اور میڈیا و بین الاقوامی برادی کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ ایک معمولی واقعے کو لیکر آسمان سر پر اٹھانے والی ملکی و عالمی میڈیا تاریخ انسانی کے اس عظیم قتل عام پر مجرمانہ غفلت اور خاموشی کا مرتکب ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں مسلمان بے یا رو مددگار پڑے ہیں ، انکی جان، عزت اور آبرو کو تاراج کیا جا رہا ہے۔ مسلمان بچوں کو پیروں تلے کچلا جارہا ہے۔ اس سارے المیے کا انتہائی دردناک پہلو یہ کہ ابتک پاکستان سمیت کسی بھی مسلمان ملک نے اس انسانی تذلیل کے خلاف مؤ ثر آواز نہیں اٹھائی ہے ۔ جب اپنے ہی ایسے ہوں تو بیگانوں کی کیا بات جائے۔ بدھ مذہب کے ایک اہم راہنما دلائی لامہ ہیں۔ وہ تبت (چین ) کے باشندے ہیں مگر بھار ت میں جلا وطنی کی زندگی گزاررہے ہیں۔ انکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ امن کے سب سے بڑے داعی ہیں اور مذہبی برداشت اور بردباری کے پرچارک ہیں۔ اسی طرح بدھ مت کے سیاسی راہنماؤں میں ایک خاتون ہیں جنکا تعلق میانمر (برما) سے ۔ دنیا انہیں آنگ سان سوچی کے نام سے جانتی ہے۔اسے امن کا داعی تسلیم کرتے ہوئے نوبل انعام سے نوازا گیا، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسی خاتون کو’’ ضمیر کا قیدی‘‘ ڈکلیئر‘‘ کیا۔ اسی آنگ سان سوچی کو میڈیا اور بین الاقوامی برادری میں جمہوریت، سیاسی جدوجہد اور مذہبی رواداری کے حوالے سے ایک آئڈئیل کے طور پر پیش کیا جا تا ہے۔ مگر پچھلے کئی مہینوں سے میانمر (برما) میں مسلمانوں کے قتل عام اور انسانیت سوز مظالم پر بدھ مت کے مذہبی پیشوا دلائی لامہ سمیت میانمر کے خودساختہ امن پسند اور مذہبی رواداری کے داعی آنگ سانگ سوچی کی زبان پر تالے لگے ہوئے ہیں۔ ان دونوں شخصیات کی وہ آوازیں خاموش ہیں جو وہ بدھا کے مجسموں کیلئے اٹھاتی تھیں۔ مسلمانوں کو سرعام زندہ جلا یا جا رہا ہے، ٹرکوں مین بھر بھر کر لاکر دریاؤں میں ڈالا جا رہا ہے اور ہاتھ باندھ کر فائرنگ اسکواڈ زکے حوالے کئے جا تے ہیں مگر کسی کو بھی یہ آلام نظر نہیں آرہے ہیں۔ وجہ صرف یہ ہے کہ وہاں خون بہتا ہے تو صرف مسلمان کا، وہ عزت لوٹتی ہے تو صرف مسلمان کی، املا ک جلتے ہیں تو صرف مسلمان کے اور اسوقت دنیا میں مسلمانو ں کے خون کی اہمیت نہیں ہے۔ آن سانگ سوچی نے تو اپنا منہ حال ہی میں یہ کہ کر کالی کر دی کہ وہ اقوام متحدہ سمیت کسی بھی بین الاقوامی تنظیم کو ان مظالم کی تحقیقات یا حالات کا جائزہ لینے کی اجازت نہیں دے گی ۔ کیا اتنے بد ترین ظلم، استحصال اور قتل عام کی سرپرستی کرنے والی اس خاتون سے ’’نوبل انعام‘‘ واپس لینا قرین انصاف نہیں؟؟

Print Friendly, PDF & Email