112

ست رنگی مسائل کا مظلوم شہر کراچی ۔ راحیلہ سلطان

دنیا کا ساتواں بڑا شہر  کراچی ، کئی عشروں سے  ست رنگی  مسائل کے انبار تلے دبا ہوا ہے ۔اس مظلوم شہر کا سب سے بڑا مسلہ ہے کہ اس کو ابھی تک دل سے اپنایا ہی نہیں گیا ، ایم کیو ایم نے  کئی سال تک یرغمال بنائے رکھا  اور یوں  اس کو باقی ملک سے کاٹ دیا ۔
 
 جس پی پی پی نے پچھلے کئی عشروں سے اندرون سندھ میں کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا ، اس سے کراچی میں کیا توقعات رکھی جاتیں  ۔ یہ سیاسی جماعت  صرف زندہ ہے بھٹو کے نعرے پر زندہ ہے، لہذا  بلاول ہوں یا زرداری اب سمجھ لیں کہ خالی کھوکھلے نعرے ان کو نہیں جتواسکتے کچھ نہ کچھ ہاتھ ہلانا پڑے گا۔مسلم لیگ ن کے لیے پاکستان صرف پنجاب تک محدود ہے اس سے زیادہ ان کی سوچ نہیں ۔ وہ صرف موٹر وے اور پل بنا کر ہی جنت کے ٹکٹ کٹوائیں گے۔باقی عوام جیے ، مرے یا ڈوبے ان کو کوئ سروکار نہیں ۔
 
عہدے پا کر مزار قائد کو سلام کرنے والے اپنی شکل ایسے گم کرتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ  ۔ شہر قائد کا کوئی ایسا پرسان حال نہیں وہ جو کراچی کو سندھ کی ملکیت سمجھتے ہیں۔ ازل سے اس مظلوم اور ظلمات رسیدہ شہر کو بھولے بیٹھے ہیں ہاں اگر آپ اس کو الگ صوبہ بنانے کی بات کرو تو یقیناً برساتی مینڈکوں کی طرح اچھل اچھل کر باہر آئیں گے اور پھر خوب ٹرائیں گے بھی ، کیونکہ اس صورت میں ان کی روزی روٹی کا سوال آجاتا ہے ۔
 
حد تو یہ ہے کہ حالیہ مردم شماری میں بھی صریحاً ڈنڈی ماری جارہی ہے ، دو کروڑ سے زیادہ کی آبادی کو ڈیڑھ کروڑ کے قریب کردیا وہ دن دور نہیں جب کاغذی ریکارڈ میں سب سے زیادہ آبادی لاہور کی ہوگی ۔۔
جب کراچی کے حقوق کی بات کی جائے تو باقی ملک کی عوام فوری  آستینیں چڑھا کر کھڑی ہوجاتی ہے ۔ افسوس یہ کیسا تعصب کا بیج بو دیا گیا ہے ۔ شہر قائد ڈوب رہا ہے یہ کوئی گاؤں نہیں ملک کا تجارتی حب ہے یہاں ایک دن زندگی مفلوج ہوجائے تو ملک کو اربوں کا نقصان ہوجاتا ہے مگر ملک کی کس کو پرواہ ہے بس اپنی جیبیں گرم رہیں پیٹ بھرے رہیں تجوریاں ابلتی رہیں
کرپشن زندہ باد 
لوٹ مار پائیندہ باد
 
محکمہ موسمیات نے کئ دن پہلے شہر میں شدید بارشوں کی پیشن گوئی کی انتظامیہ نے اسے ناک پر مکھی کی طرح سمجھا اور ہاتھ سے اڑانا بھی گوارا نہیں کیا ۔ 150 ملی میٹر بارش کی پیشن گوئ تھی سب سے زیادہ 97 ملی میٹر نارتھ کراچی کے علاقے میں ریکارڈ کی گئ مجموعی طور پر 30 ملی میٹر بارش ہوئی مگر آدھا شہر ڈوب گیا ۔ لوگ گھروں تک محصور ہو گئے ہیں اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سڑکوں پر انسانوں سے لیکر جانور اور گاڑیاں بھی تیر رہی ہیں
 
ابھی تک بیس سے زائد  افراد ہلاک ہوچکے ہیں ، اور کچھ شدید متاثرہ علاقوں میں کشتیاں چل رہیں ۔ ۔ تمام  کاروباری مراکز بند ہیں ۔ ۔ لوگوں کے گھروں میں جو کئی کئی فٹ پانی اندر داخل ہو چکا ہے ، اس میں سوریج کا پانی بھی شامل ہے۔ گھروں کا سامان تیر رہا ہے ، اور تعفن ,گندگی اور اس میں بیٹھی ہے روشنیوں کے شہر کی اشرف المخلوقات ۔ ۔ سیوریج کا نظام مکمل ٹھپ ہے ، نالوں میں طغیانی ، ایک اور تیز بارش سیلاب کی صورتحال لے آئیگی جس کا اندیشہ اور پیشن گوئی بھی ہے ۔ ۔ سڑکیں گلیاں پانی سے ڈوبی ہوئی ۔ ۔ انڈر پاس سمندر اور اہم شاہراہیں ندیاں ۔ ۔ ماشاللہ کئی ندیاں وجود میں آئیں جیسے نیپا ندی ۔ ۔
 
انتظامیہ ایک دوسرے پر الزام تھوپنے میں مصروف ہیں ۔ جبکہ میڈیا پر گھٹنوں تک منہ لٹکائے عوامی نمائندے ایک دوسرے کے دامن کھینچ رہے ، لیکن خود وہ اپنے اختیارات کو کس طرح بروئے کار لا سکتے تھے اس کا جواب ندارد
اب بس ایک ہی دعا ۔۔۔  کہ اللہ شہر کراچی کو اپنے حفظ وامان میں رکھے قدرتی آفات سے بھی اور کرپٹ عوامی نمائندوں سے بھی ۔ ۔آمین
یہ شہر صرف دعاؤں پر چل رہا ہے
Print Friendly, PDF & Email