تازہ ترین
Home >> مضامین >> رنگ نرالے سیاست کے۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ
Qashqar Lab

رنگ نرالے سیاست کے۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

اگرچہ مسلم لیگ نون ایک سیاسی قوت اوراس وقت ملک کی حکمراں جماعت ہے جبکہ پنجاب جو کہ آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب بڑاصوبہ ہے کااقتداربھی اسی جماعت کے ہاتھ میں ہے اور اگلے الیکشن میں پنجاب سمیت ملک کے دیگرحصوں میں خاطر خواہ کامیابی لینے پراگلی حکومت دوبارہ مسلم لیگ نون بناسکتی ہے اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتامگرجہاں سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی عدالت سے نااہلی کے بعد بظاہر ان کی نااہلی ختم ہونے کے کوئی آثارنظرنہیں آرہے وہیں مسلم لیگ نون کو نوازشریف ہی چوتھی مرتبہ وزیراعظم بنتا دکھائی دے رہے ہیں اور نوازشریف کی صاحبزادی سابق دختر اول مریم نوازتواس نعرے کے ساتھ دعویٰ کررہی ہیں کہ اگلے وزیراعظم نواز شریف ہی ہونگے روک سکوتوروک لو،ادھر نواز شریف کے نااہل ہونے پر خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست این 120کے ضمنی الیکشن میں بدترین شکست سے دوچارہونے والی جماعت اسلامی اورملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت کہلانے والی پیپلزپارٹی کو اپنی غلطیوں اورعوام میں غیرمقبول ہونے کااعتراف کرنے اور بجائے اپنی شکست تسلیم کرلینے کے جماعت اسلامی خود کوسیاسی قوت اورعوام میں مقبول ترین جماعت قراردینے کے دعوے پر قائم ہے اوراس کی قیادت یہی کہتی سنائی دے رہی ہے کہ اگلی حکومت جماعت اسالامی کی ہی بنے گی جبکہ لاہورمیں اتنی بڑی شکست کھانے سمیت کراچی اوراندرون سندھ ،بلوچستان اور خیبرپختونخوامیں پارٹی کے تنظیمی امورمیں درپیش مشکلات اورچیلنجز کے باوجود پیپلزپارٹی کی قیادت کواگلی حکومت پیپلزپارٹی کی ہی بنتی دکھائی دے رہی ہے،پیپلزپارٹی کے بعض قائدین توکہہ رہے ہیں کہ ہواپیپلزپارٹی کے حق میں چلی ہے اور2018میں حکومت پیپلزپارٹی کی بنے گی،سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دورمیں منصب اقتدارپر پوری آب وتاب کے ساتھ فائز رہنے والی مسلم لیگ ق صدرمشرف کے اقتدارسے الگ ہونے پریوں تازہ ہواکا جھونکاثابت ہوئی کہ آج ملک کے سیاسی افق پر اپنے وجود کااحساس دلانے سے بھی قاصرہے مگرخواب کوئی بھی دیکھ سکتاہے کہ خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں کے مصداق اقتدارمیں آنے کاخواب مسلم لیگ ق بھی دیکھ رہی ہے،بڑے بڑے دعوں کے باوجود دیگر جماعتوں کی طرح این اے 120کا ضمنی الیکشن ہارنے والی تحریک انصاف جوخیبرپختونخواکااقتداررکھتے ہوئے نیاخیبرپختونخوابنانے سے توقاصررہی مگراگلے الیکشن میں وفاق پر حکمرانی کے لئے پر تول رہی ہے،جمعیت علمائے اسلام ف،عوامی نیشنل پارٹی، ایم کیوایم ،پختونخواملی عوامی پارٹی وغیرہ ایسی جماعتیں ہیں جو قومی اسمبلی میں عددی لحاظ سے اس قابل نہیں کہ کسی ایک دوجماعتوں کو ساتھ ملاکر اپنی حکومت بناسکیں تاہم یہ جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے دوراقتدارمیں ایک آدھ وزارت یاکسی اورعہدہ پر اکتفاء کرکے زیادہ تر مخلوط حکومت کے ساتھ ہی ہوتی ہیں جیسے جمعیت علمائے اسلام ف موجودہ وفاقی حکومت میں اتحادی جماعت کی حیثیت سے موجود ہے یااس سے پہلے پیپلزپارٹی کے دور اقتدار میں عوامی نیشنل پارٹی،جے یوآئی ف اورمتحدہ قومی موومنٹ حکمراں اتحادی جماعتیں تھیں،یہ بات توطے ہے کہ اب تک اقتدار میں رہنے والی پیپلزپارٹی،مسلم لیگ نون میں کوئی بھی جماعت اتنی اکثریت لینے میں ناکام رہی ہے جس سے وہ بغیر کسی اتحادکئے حکومت تشکیل دے سکیں جبکہ اگرکوئی پارٹی ذاتی حیثیت میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں بھی ہوتب بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ہونے والی قانون سازی میں مطلوبہ درکاراکثریت کے لئے ایک یاایک سے زائد جماعتوں اتحاداس کی مجبوری ہوتی ہے ایسے میں بڑی جماعتوں کی مجبوری اوراپنی اہمیت سے آگاہ چھوٹی جماعتیں حکومت سے وزارتیں،اہم حکومتی عہدے اوردیگر مراعات لینے میں کوکسرنہیں چھوڑتیں اور حکومت کے پاس اکثراپنی مجبوریوں کے پیش نظران جماعتوں کے دباؤمیں آکران کاہرمطالبہ ماننے کے سواء کوئی دوسراراستہ نہیں ہوتا ،باہر کے ممالک میں دیکھاجائے تویورپ اورامریکہ میں جہاں دوجماعتیں الیکشن میں مدمقابل ہوتی ہیں وہاں توایک جماعت حکمرانی کاتاج پہنتی ہے اور دوسری اپوزیشن پارٹی بن جاتی جبکہ جہاں انتخابی دوڑمیں دوسے زائد جماعتیں ہوں توالیکشن جیتنے پرحکومتی اتحادہم خیال جماعتوں کے مابین ہوتاہے لیکن ہمارے ہاں صورتحال مختلف ہوتی ہے یہاں الیکشن مہم میں ایک دوسرے کی پالیسیوں پر شدید تنقید اور تنقید اورمخالفت اس حد تک کہ معاملہ پارٹی قائدین کی ذات پر سنگین الزامات عائد کرنے تک پہنچ جاتاہے لیکن الیکشن کے بعد جب حکومت بنانے کی باری آتی ہے تونظریہ ضرورت کے تحت یہ جماعتیں غیر فطری اتحادی بن جاتی ہیں جن کاایجنڈااورسیاسی پروگرام ایک دوسرے سے یکسرمختلف ہوتا ہے اورشائد ہمارے ہاں مخلوط حکومتوں کی ناکامی کی وجہ بھی یہی ہے کہ یہ ں نظریہ ضرورت اور غیرفطری اتحاد کے تحت وجود میں آتی ہیں اور ظاہربات ہے کہ جب حکومت میں شامل حلیف جماعتوں کانظریہ،سیاسی ایجنڈاآپس میں متصادم ہوااوران کی ترجیحات بھی مختلف ہوں ہراچھے کام کاکریڈٹ خودلینے اور ناقص پالیسیوں کی ذمہ داری حلیف جماعت پر ڈالنے کی روش قائم ہوایسے میں کوئی مخلوط حکومت کیسے بہتر کارکردگی دکھانے کی اہل ہوسکتی ہے،یہاں سیاسی جماعتیں حکومت میں آکراس لئے بھی کچھ کردکھانے میں ناکام رہتی ہیں کہ ان کے پاس مہنگائی پر قابوپانے،روزگارکی فراہمی،ترقیاتی منصوبوں،معاشی استحکام ،امن وامان کے قیام صنعت وتجارت کے فروغ،صحت وتعلیم کی بہتری کے لئے اصلاحات لانے، سرکاری ملازمین کے سروس سٹرکچربہتر بنانے،صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم ،کرپشن کے تدارک،نوجوانوں اوربیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کے فلاح وبہبودسمیت داخلہ اور خارجہ اموربارے کوئی طے شدہ مؤثرپالیسی نہیں ہوتی اب بھی جبکہ اگلے عام انتخابات قریب سے قریب ترآرہے ہیں توتمام سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی برتری لینے کی دعویدارتوہیں مگر کوئی بھی جماعت مؤثرپالیسیوں پر مشتمل اپناانتخابی منشور،ایجنڈاپیش کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے ایسے میں تووہی ہوگاجوہمیشہ سے چلاآرہاہے یعنی نہ رہے گابانس اور نہ بجے گی بانسری۔

error: Content is protected !!