تازہ ترین
Home >> مضامین >> داد بیداد ۔۔۔یونیسکو سے اخراج ۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ
Qashqar Lab

داد بیداد ۔۔۔یونیسکو سے اخراج ۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

امریکہ نے اقوام متحدہ کے سکرٹری جنرل کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ یونیسکو کی رکنیت واپس کرنا چاہتا ہے امریکی محکمہ خارجہ نے اقوام متحدہ کو خط لکھا ہے خط میں بتایا گیا کہ امریکی حکومت اپنے ملک اور عوام کے مفاد میں عالمی تنظیم کے ذیلی ادارہ UNESCO کی رکنیت واپس کرنا چاہتا ہے وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ سال بہ سال اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ UNESCOمیں چندہ دینا، وسائل فراہم کرنا امریکہ کے لئے ممکن نہیں رہا اس لئے امریکہ UNESCOسے نکلنے کا خواہشمند ہے یہ خبر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں آگئی ہے تاہم پاکستانی اخبارات نے خبر کو زیادہ اہمیت نہیں دی ایرانی صدر احمدی نژاد اقتدار میں ہوتے یا لیبیا کے رہنما معمر قذافی زندہ ہوتے تو اس خبر کی خوب خبر لیتے اقوام متحدہ میں اس وقت کوئی جاندار آواز ایسی نہیں ہے جو امریکہ کو جواب دے سکے لے دے کے روسی صدر ولاد یمیرپیوٹن رہ گئے ہیں امید کی جانی چاہیے کہ صدر پیوٹن کی طرف سے مناسب ردّ عمل سامنے آئے گا 2002 ؁ ء میں عراق پر حملے کیلئے امریکہ نے سیکورٹی کونسل کو استعمال کیا تو روسی صدر نے یاد دلا یا تھا کہ امریکہ نے اقوامتحدہ کے واجبات ادا نہیں کئے یہ ملک ناد ھندہ ہے اس کی رکنیت ختم کر کے اس کو سکیورٹی کونسل کی سیٹ سے الگ کیا جائے ریکارڈ کی چھان بین ہوئی تو امریکہ نے 1986 ؁ ء کے بعد اقوام متحدہ کے واجبات ادا نہیں کئے تھے ناد ھندہ ہونے کا لیبل لگ گیا دوڑ دھوپ شروع ہوئی نصف واجبات اد ا کرکے امریکہ نے اپنی سیٹ بچالی مگر 2017 ؁ ء میں حالات بہت بد ل گئے ہیں اب اگر صدر پیوٹن نے سخت موقف اپنایا تو امریکہ کے لئے سکیورٹی کونسل کی سیٹ اور ویٹو پاور کو بچانا مشکل ہو جائے گا یونیسکو (UNESCO)اقوام متحدہ کا وہ معتبر ادارہ ہے جوممبر ملکوں میں تعلیمی اور سائنسی ترقی کے مختلف پروگراموں پر عملد رآمد کے لئے فنڈ اور سہولیات فراہم کرتا ہے خاص طور پر افریقہ اور ایشیا کے غریب ممالک میں اس طرح کے پروگراموں کی ضرورت ہے امریکہ کے موجودہ صدر نے ری پبلکن پارٹی کی انتخابی مہم میں دو باتوں پر زور دیا تھا ان کی پہلی بات یہ تھی کہ امریکہ نے غریب ملکوں کی مدد کا ٹھیکہ نہیں لیا ہم اپنے شہریوں کے ٹیکس کا پیسہ غریب ملکوں پر خرچ کرنے کا سلسلہ بند کرینگے انہوں نے دوسری اصولی بات یہ کہی تھی اور اس پر زور دیا تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ دوستی ،اتحاد اور تعاون جیسے الفاظ میری لغت میں نہیں ہیں ہم کسی بھی مسلمان ملک کو دوست اور اتحادی کا درجہ نہیں دینگے صدر منتخب ہونے کے بعد انہوں نے مسلمان ملکوں کے خلاف اپنے انتخابی وعدوں کو نبھانے کیلئے متعدد فیصلے کئے سعودی عرب ،پاکستان اور قطر کو کرارا جواب دیا اب امریکہ نے مسلمان ملکوں کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کی ہے اگلے 3 سالوں میں کسی مسلمان ملک کے ساتھ امریکہ کی دوستی نہیں رہیگی یونیسکو کے فنڈ سے استفادہ کرنے والے ممالک میں بھی کئی مسلمان ممالک شامل ہیں اس لئے یہ بات امریکی پالیسی کے مطابق بالکل درست ہے کہ کسی مسلمان ملک کی مدد کرنے والے ادارے کے ساتھ امریکہ کا کوئی تعلق نہیں ہوگا یہاں تک تو بات درست ہے اوریہ امریکہ کا حق ہے کہ وہ کس سے دوستی کر تا ہے کس کے ساتھ دشمنی کرتا ہے مگر بات اُس وقت گڑبڑ ہو جاتی ہے جب امریکہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو مسلمان ملکوں کے خلاف استعمال کرتا ہے مسلمان ملکوں کے خلاف سلامتی کونسل میں اپنا ویٹو پاور استعمال کرتا ہے اب اصولی بات یہ ہے کہ اگر امریکہ اقوام متحدہ کے فلاحی ادارے یونیسکو سے استعفیٰ دینا چاہتا ہے اپنی رکنیت ختم کرنا چاہتا ہے تو اس کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے مستقل رکن اور ویٹو پاور کی حیثیت سے بھی خود کو خارج کرنا ہوگا کڑوا کڑوا تھو تھو ،میٹھا میٹھا ہپ ہپ والی پالیسی اب نہیں چلے گی کذشتہ 40 سالوں کے اندر امریکہ میں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کی 10 حکومتوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کندھے پر بندوق رکھ کر 9 اسلامی ممالک پر حملے کئے ان میں سے 3 ممالک کو فتح کر کے غلام بنا لیا 6 ممالک ابھی تک امریکی حملوں کی زد میں ہیں ہمیں موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس بات پر داد دینی چاہیے کہ انہوں نے امریکہ کی خفیہ پالیسی کو اعلانیہ پالیسی میں بد ل دیا ہے عراق،لیبیا اور افغانستا ن کو غلام بنا کر اپنی نو آبادی میں بدلنے کے بعد اب امریکہ کی نظر شام ،یمن ،سعودی عرب ،قطر ،ایران اور پاکستان پر ہے ان میں سے ہر ملک اپنے مخصوص حالات ،مخصوص جغرافیہ اور منفرد خصوصیات کی وجہ سے امریکہ کے نشانے پر ہے اگر UNESCOسے نکلنے کے بعد امریکہ پر سلامتی کونسل سے نکلنے کیلئے دباؤ نہیں ڈالا گیا تو امریکہ اقوام متحدہ کوایک بار پھر اسلامی ملکوں پر حملوں کیلئے کندھا دینے پر مجبور کرے گا اس لئے اب اسلامی ملکوں کو روس کے تعاون سے امریکہ کے خلاف جارحانہ سفارت کاری سے کام لینا چاہیے ورنہ یہ موقع بھی ہا تھ نکل جائے گا

error: Content is protected !!