54

عمران خان نااہلی سے بچ گئے/حنیف عباسی کی پٹیشن مسترد کردی گئی/ جہانگیر خان ترین کوتاحیات نااہل قراردیدیا گیا

سپریم کورٹ نے  چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو اہل جب کہ جہانگیر ترین کو نااہل قرار دے دیا.عمران خان اورجہانگیرترین نااہلی کیس میں غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات مسترد کر دیے گئے۔ عمران خان نااہلی سے بچ گئےجب کہ جہانگیر ترین کو نااہل قرار دے دیاگیا ہے. عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ صرف وفاقی حکومت دیکھ سکتی ہے۔فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس عمرعطابندیال پرمشتمل 3 رکنی بینچ نےسنایا۔ فیصلہ چیف جسٹس نے پڑھ کرسنایا۔فیصلہ سنانے میں تاخیرپرچیف جسٹس نے کہا کہ آنے میں دیر ہوئی جس پر معذرت چاہتا ہوں۔ ایک صفحے پر غلطی تھی اس لیے دوبارہ 250 صفحے پڑھنے پڑے۔تحریک انصاف کے قائدین عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کیلئے مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی نے سپریم کورٹ سے دو نومبر دو ہزارسولہ کو رجوع کیا۔ حنیف عباسی نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ عمران خان اور جہانگیر ترین نے آف شور کمپنی چھپائی ۔ حنیف عباسی کی جانب سے جائیداد کی شفاف منی ٹریل نہ ہونے کا الزام بھی عائد کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں کونااہل قرار دینے کے لیے علیحدہ علیحدہ درخواستیں دائرکی گئیں۔سات نومبرکوسابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے درخواستیں پاناما کیس کے ساتھ منسلک کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماؤں سے جواب طلب کر لیا ۔ابھی صرف چار سماعتیں ہی ہوئیں تھیں کہ تیس دسمبر 2016 کو جسٹس جمالی کی ریٹائرمنٹ کے بعد بنچ ٹوٹ گیا۔ کم وبیش ساڑھے پانچ ماہ بعد تین مئی 2017 کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ازسرنو سماعت شروع کی۔

عمران خان کے کیس میں 405 روز کے دوران 45 جبکہ جہانگیر ترین کیخلاف درخواست پر 42 طویل سماعتیں ہوئیں جس کے بعد 14 نومبر کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 7 ہزار دستاویزات کا جائزہ لیکر فیصلہ محفوظ کرلیا۔مقدمات میں اہم موڑ اس وقت آئے جب عمران خان نے موقف میں تبدیلی کی استدعا کی اور جہانگیر ترین نے لیز پر لی گئی اراضی کا سرکاری ریکارڈ نہ ہونے کے ساتھ ٹرسٹ کے تاحیات بینیفشری ہونے کا اعتراف کیا۔ سپریم کورٹ میں سماعتوں کے دوران عمران خان کی آمدن، رقوم کی منتقلی، لندن فلیٹ کی خریداری پرکی جانے والی بحث نمایاں رہی جبکہ جہانگیر ترین کی زرعی آمدن، آف شور کمپنی، برطانیہ میں جائیداد اور اِن سائڈ ٹریڈنگ پر بھی خوب بحث ہوئی۔کیس میں عمران خان کے وکیل نعیم بخاری اور جہانگیر ترین کے وکیل سکندر مہمند تھے جبکہ حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ تھے۔

عمران خان کا موقف رہا کہ لندن فلیٹ بیچ کر پیسہ قانونی طور پر ملک میں لایا جس سے متعلق 60 صفحات کی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرائیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ایک موقع پر یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک بھی دستاویز غلط ثابت ہوئی تو سیاست چھوڑدوں گا۔

Print Friendly, PDF & Email