تازہ ترین
Home >> مضامین >> صدا بصحرا ۔۔۔۔۔ یادگارِ پاکستان ۔۔۔۔ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی ؔ

صدا بصحرا ۔۔۔۔۔ یادگارِ پاکستان ۔۔۔۔ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی ؔ

اسلام اباد میں شکر پڑیاں کی خوبصورت پہاڑی پر ایک یاد گار تعمیر کی گئی ہے جو دوردور سے نظر آتی ہے یہ بیرونی سیاحوں ، سفارت کاروں اور سرکاری مہمانوں کے لئے تعمیر کی گئی ہے اس لئے انگر یز ی میں اس کا نام ’’ پاکستان ما نو منٹ ‘‘ رکھا گیا ہے مانو منٹ کا اردو ترجمعہ یاد گار ہے اس لئے ہم اس کو یا د گارِ پاکستان ہی کہتے اور لکھتے ہیں یاد گار پاکستان کا سب سے یاد گار واقعہ یہ ہے کہ اس کی سیر کر نیوالا با بائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت کا اسیر اور پر ستار ہو جاتا ہے 4 سال کی عمر کا بچہ عمر فاروق کا نونٹ سکول میں پلے گروپ کا طالب علم ہے یاد گارِ پاکستان کی سیر میں عمر فاروق کو دو گھنٹے لگے سیر کے دوران وہ بچگانہ سوالات پو چھتا رہا، ہر تصویر کو دیکھ کر ایک سوال ، ہر گیلری میں جا کر دو چار سوالات اُسے کسی سوال کا پورا جواب ملا کسی سوال کا آدھا جواب ملا گاڑی میں بیٹھ کر اس نے 100 روپے کا نوٹ مانگا نوٹ ہاتھ میں لیکر اُس نے پو چھا قائد اعظم اس نوٹ میں کیوں رہتا ہے ؟ اس سوال کا کوئی آسان اور عام فہم جواب نہیں تھا بڑوں نے کہا تم بڑے ہوجاؤ گے تو سکول میں سب کچھ تمہیں معلوم ہو جائیگا اگلی صبح عمر فاروق سکول کے لئے تیا ر ہوا تو اُس نے پوچھا کیا سکول میں قائد اعظم مجھ سے ملنے آئیگا ؟ سکول سے واپسی پر اُس نے قائد اعظم کے بارے میں سوالات کا سلسلہ جاری رکھا ایک ہفتہ ہوا بچہ قائد اعظم کے بارے میں ہی پوچھتا ہے بعض باتیں اس کو سمجھ آتی ہیں بعض باتیں سمجھ نہیں آتیں لیکن ایک بات طے ہے کہ بابائے قوم کی مسحور کن شخصیت اور مثالی ہستی کا جو نقش اس عمر میں اس کے دل پر اثر کر گیا ہے یہ اثر نہیں اتر ے گا دل پر ثبت رہے گا اس چھوٹے سے واقعے سے اند ازہ ہو تا ہے کہ نئی نسل کو اپنے نامور اسلاف کی تاریخ سے آگا ہ کر نا کتنا ضروری ہے چین کے دارالحکومت بیجنگ کا تیان امن سکو ئیر انقلا ب کی یاد گار کے لئے مشہور ہے اپریل 1998 ؁ء میں ہمیں دو ہفتوں کے اندر دو بار اس مقام پر جانے کا اتفاق ہوا دونوں دفعہ ہم نے سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ اور طالبات کی بڑی تعداد کو یو نیفارم میں جھنڈے لیکر اساتذہ کے ہمراہ اس مقام پر آتے جاتے دیکھا شنگھائی ،شیا ن اور سو چو کے عجائب گھروں میں بھی یہی منظر دیکھا دیوار چین کے تھری ڈی ہال میں بھی طلبہ وطالبات کی تعداد دوسرے سیاحوں سے تین گنا زیادہ تھی تحقیق کر نے پر معلوم ہو ا کہ اُن کے تعلیمی کیلینڈر میں تاریخی یاد گاروں کی سیر کو با قا عد ہ جگہ دی گئی ہے ہر تعلیمی ادارے کے بجٹ اور نظام لاو قات میں اس کی باقا عد ہ گنجائش رکھی جاتی ہے ہر کلاس کو سال میں 6 تاریخی مقامات اور یادگاروں کی سیر کرائی جاتی ہے 10 سال کی تعلیم میں بچے اور بچیاں 60 یاد گاروں کا دورہ کر تی ہیں18 سال کی تعلیم میں انہیں 100 سے زیادہ یاد گار مقامات کی سیر کرائی جاتی ہے اس طرح چین کا بچہ بچہ اپنی تاریخ ،اپنی ثقافت اور اپنے اسلاف کے کارناموں پر فخر کرنا سیکھتا ہے ہر بچہ طاقت ورقوم کے قابل فخر ملک کا پُر عزم شہری بنتا ہے اور یہی قومی طاقت کا راز ہے وطن عزیز پاکستان میں نئی نسل کو اسلاف کے کردار اور کارناموں سے آگاہ کرنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے ہمارا پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا زمانہ حال کے بہرو پیوں ،ڈرامہ بازوں اور گندم نما جو فروشوں کے کرتو توں کو صبح و شام منظر عام پر لا تا ہے تو نئی نسل یہ سوچتی ہے کہ ہمارے ملک میں دھوکا دہی،دھوکا بازی،فراڈ ،کرپشن ،بد عنوانی ،چوری، کمیشن ،رشوت اور بد معاشی کے سوا
کچھ بھی نہیں یہ کیسا ملک ہے؟ ہمارا مستقبل کیا ہے؟اسلام اباد میں پاکستان مانو منٹ کیسے بنا؟لاہور میں مینار پاکستان کس طرح تعمیر ہوا؟دوکتابوں کا مطالعہ ہمیں دونوں یادگاروں کی مختصر تاریخ جاننے میں مدد دیتا ہے مختار مسعود نے ’’ آوازِ دوست‘‘ میں لکھا ہے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے مینار پاکستان کی تعمیر کے لئے کمیٹی بنائی تو کمشنر لاہو رکی حیثیت سے مجھے اس کمیٹی کا سر براہ بنایا گیا یوں میں خوش بختی کے اُس جزیرے پر پہنچا جو فرض منبصی اور خواہش قلبی کے اتصال سے وَجود میں آتا ہے عکسی مفتی نے اپنی کتاب ’’کاغذ کاگھوڑا ‘‘ لکھتے ہوئے اس میں ایک عنواں ڈال دیا ’’بڑے صاحب کی میٹنگ میں‘‘اس باب میں پاکستان مانو منٹ کی تعمیر کا ذکر ہے عکسی مفتی لکھتے ہیں کہ جنرل مشرف نے نائن الیون کے بعد ایک اہم میٹنگ بلائی میٹنگ میں انہوں نے یہ بات رکھی کہ اب بیرونی سفارت کار، صحافی اور سربراہان حکومت پاکستان آتے رہینگے اسلام اباد میں اپنی قومی تاریخ سے ان کو آگاہ کرنے کے لئے کوئی یادگار سال ڈیڑھ سال کے اندر تعمیر ہونی چاہیے انہوں نے حکام سے رائے مانگی کہ یادگار پر کتنا خرچہ آئے گا اور کتنا وقت لگے گا ؟سب نے 80 کروڑ سے اوپر کا بجٹ اور 5 سال سے زیادہ کا وقت مانگا عکسی مفتی نے آخر میں جان کی امان پانے کے بعد عرض کیا میرے پاس بلیو پرنٹ ہے ڈیڑھ سال میں مانو منٹ تعمیر ہو گی اور 5 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی اگلے روز تفصیلی رپورٹ پیش ہوئی ایک ماہ کے اندر کام شرو ع ہوا اس طرح جنرل مشرف نے اسلام اباد کے باسیوں کو یہ عظیم تحفہ عطا کیا جسے انگریزوں کے لئے پاکستان مانو منٹ کہا جاتا ہے ہم یاد گار پاکستان کہتے ہیں ۔