تازہ ترین
Home >> مضامین >> بے بس مخلوق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریرسیدنذیرحسین شاہ نذیر

بے بس مخلوق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریرسیدنذیرحسین شاہ نذیر

عورت کو اللہ رب العزت نے چار روپ عطا کیے ہیں بیٹی بہن بیوی اور ماں، ہر روپ میں وہ انسانوں کے لیے رحمت ہی رحمت بن کر اترتی ہے۔روئے زمین پر سب سے مقدس رشتہ والدین اوراولاد کا ہوتاہے۔ اللہ نے اگر بیٹے کو نعمت بنایا ہے تو بیٹی کو بھی رحمت بنا کر بھیجا ہے۔مگر ہمارے معاشرے میں کچھ اصول بہت غلط ہے جن کی و جہ سے ہماری بیٹیاں بہت مشکلات کا شکار ہیں بیٹے کو ہمیشہ والدین کے ساتھ رہنا پڑتا ہے جبکہ بیٹی کے مقدر میں جدائی لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ اسے والدین کے گھرسے رخصت ہونا پڑتا ہے۔اسے اک نیا گھر بسانا ہوتاہے۔ والدین کے گھر بیٹی پر کچھ حقوق ہوتے ہیں جس میں تعلیم، اخلاقیات، اور مناسب وقت میں شادی وغیرہ عمرکے ساتھ ساتھ یہ سب حقوق بیٹی کوملناچاہیے۔اسلامی قانون کے مطابق شادی کیلئے لڑکی کی عمر کم از کم 16 سال اور لڑکے کیلئے 18 سال ہے۔ اس سے کم عمری میں شادی کرنا قانوناًجرم ہے مگربعض والدین بیٹیوں کواُن کے مرضی کے خلاف اپنی خاندانی رواج کوبرقراررکھتے ہوئے اپنی مرضی کے مطابق شادی بیاہ کراتے ہیں جس سے بچی کی مستقبل کافیصلہ ایک سمجھوتہ ہوتاہے کئی سالوں سے یہ دستورچلا آ رہاہے جن کے خلاف کوئی آواز بھی نہیں اُٹھارہے ہیں۔مگرہراچھے ،باشعوراورمحب وطن شہری وہی ہوتا جو شرعی اور ملکی قوانین پر عمل کرتا ہے۔بیٹی کے ساتھ امیتازی سلوک نہیں کرتے ہیں بیٹی رب کی طرف سے ایک نعمت ہے آپ کے ظلموں کاشکارہونے کے لئے پید انہیں کی گئی شادی اس کاجائزحق ہے اورشریعت نے اُسے اپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کاپوراحق دیاہے۔والدین پر لازم ہے کہ بیٹی کے مرضی کے مطابق اسلامی طریقے سے اُس کارشتہ کریں ۔جس طرح زندگی گزارنابیٹے کا حق ہے اسی طرح بیٹی کو بھی یہ حق حاصل ہے بیٹی کو ظلم ستم سہنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا۔ماں باپ بڑی محبت اور محنت مشقت کیساتھ اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہوئے بڑا کرتے ہیں۔بچیوں کے پیدا ہوتے ہی ما ں باپ کو ان کی شادی کی فکر شروع ہو جاتی ہے جیسے جیسے وقت گزرتا ہے اس فکر میں بھی اضافہ ہو تاجاتا ہے جب بھی موقع ملتے ہیں اُن سے پوچھے بغیراُن کی زندگی کافیصلہ کرتے ہیں اوروہ اپنی دل کی بات بھی اپنے ماں باپ ،بہیں بھائیوں سے کرنے کی ہمت بھی نہیں کرتی ہیں ۔ہمارے مذہب میں بیٹی کا پہلا رْوپ ہی رحمت ہے جب بچی، بیٹی و بہن کے روپ میں جلوہ افروز ہوئی تو والد اور بھائیوں کو جنت میں لے جانے اور حضورکی رفاقت دلوانے کا سبب قرار پائی، جب بیوی کا روپ اختیار کیا تو شوہر کا آدھا ایمان مکمل کرنے والی قرار دی گئی اور جب ماں بنی تو اللہ نے جنت اْس کے قدموں میں ڈال دی۔ لہذا ہمارے لئے بیٹی کی پیدائش بھی اسی قدر مسرت کا باعث ہونا چاہیے جس قدر لڑکے کی پیدائش ، بیٹیاں تو گھر کی رونق ہیں اللہ کی رحمت ہیں ان سے گھر میں بر کت ہوتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم ایک ترقی پزیر ممالک کی طرح نئے دور میں داخل ہو گئے ہیں پرانے رسم و رواج ختم ہو گئے ہیں۔ لیکن یہ سوچتے ہوئے دکھ ہوتا ہے کہ ہم آج بھی پستی کی طرف جارہے ہیں خیالات اتنے بلند ہیں کہ لگتا ہے کہ آسما ن کی وسعتوں کو چھو لیں گے ، مگر عملی دنیا میں ہم سب نہ ہونے کے برابرہیں۔والدین کے بچے اوربچی میں فرق کے رویے کودیکھ کربچی آگے چل کے احساس کمتری میں مبتلا ہو کر اپنی شخصیت تباہ کر لیتی ہے ،وہ جب ایسے ہی ماحول میں پل کر بڑی ہوتی ہے جہاں اْس کے ساتھ چونکہ ایسا غیر مساوی سلوک ہوچکا ہوتا ہے تو پھر وہ اپنی آنے والی نسل کے ساتھ بھی اس قسم کا غیر مساوانہ رویہ رکھ سکتی ہے۔ والدین کوچاہیں تو ماحول بہتر بنا سکیں اوربچی کو بتاتے رہیں کہ ان کے کون سے حقوق ہیں اور انہیں کتنا مخلصانہ رویہ رکھنا چاہیے تاکہ اْن کے اندر خوداعتمادی پیدا ہوتاکہ وہ اپنا دفاع کر سکیں۔آپ کا یہ اعتبار ہی ان کو زندگی کی حقیقتوں سے آشنا کرائے گا۔اورآنے والی نسل بھی اپنے حقوق اس طریقے سے حاصل کرسکیں۔ایک کامیاب زندگی بسرکرسکیں۔
انتہائی افسوس کی بات ہے ہمارے یہاں سب اس کے برعکس جاتے ہیں اوربہت سے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں شادیاں نہ ہونے کی بنا پر بچیاں نفسیاتی مریض اور پاگل تک ہوجاتی ہیں اس کے علاوہ ایسے کئی کیسزبھی سامنے آئے ہیں کہ لڑکیاں اسی خواہش کو دل میں دفن کرکے دل برداشتہ ہو کر خودکشی کرنے پرمجبورہوجاتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں تعلیم کوعام کرکے لوگوں میں شعوراورآگاہی پیدکرناہوگی ۔جس سے آنے والے نسل اپنے ذمہ سمجھنے میں کوئی کمی نہ رہے معاشرے میں چلنے والے غیررسمی فرسودہ نظام کوختم کرناہے اوراسلامی طرز طریقے بچے بچیوں کواُن کاحقوق ملناچاہیے اگریہ نظام یوں ہی چلاتارہاتوبیٹیوں کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔حکو مت اس حوالے سے سنگین اقدام اٹھائیں معاشرے کے محروم طبقات کواُن کاحق ملناچاہیے ۔ معاشرے میں والدین کے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے بچیوں کی شادیاں کرواتے ہیں۔اس کے علاوہ بہت سے ایسے افراد بھی معاشرے میں موجود ہیں جو ہر سال بچیوں کی اجتماعی شادیوں کا بندوبست کرتے ہیں۔ اگر ہر علاقے میں صاحب حیثیت لوگ مل کر اجتماعی شادیاں کروانے کا عہد کر لیں تو یہ بھی ایک بہت بڑا کام ہوگا ۔حکومت بھی یونین کونسل کی سطح پر اس حوالے سے کمیٹاں قائم کریں جومعاشرے میں بیٹیاں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کاازلہ کریں اوران کے حقوق کے لئے آواز اُٹھائے اورعملی جمامہ پہنائے جس سے ہمارے میں معاشرے میں انشاء اللہ تعالیٰ تبدیلی سب کے سامنے آئے گا۔بیٹیاں تو قدرت کاوہ انمول تحفہ ہیں جس کی جتنی قدر کی جائے کم ہے