75

پاک چین تعلقات کی کوئی مثال نہیں ملتی،ہم ہر لحاظ سے آہنی بھائی،خطے میں ہماری دوستی تزویراتی استحکام کی علامت/وزیراعظم پاکستان

(اے پی پی) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے علاقائی رابطوں، آزادانہ تجارت اور وسیع تراقتصادی ترقی کو برداشت و دوستی کے فروغ اور انتہا پسندی کے انسداد کی کلید قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں حقیقی صلاحیتوں سے استفادہ اور مربوط کاوشوں کے ذریعے امن، ترقی و خوشحالی کے مشترکہ مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات چین کے صوبہ ہینان میں باؤ اقتصادی فورم برائے ایشیاء کی افتتاحی تقریب سے کہی۔

وزیر اعظم نے کہاکہ حالیہ تاریخ میں پاک چین تعلقات کی کوئی مثال نہیں ملتی ہر لحاظ سے ہم آہنی بھائی ہیں۔ ہمارے خطے میں ہماری دوستی تزویراتی استحکام کی علامت ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان وسیع تر رابطوں کے ذریعے امن و خوشحالی کے نئے دور کے آغاز کے لئے چین کے ساتھ شراکت داری کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری "بیلٹ اینڈ روڈ اقدام” کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جس کے دور رس ثمرات ہیں۔ وزیراعظم نے اسے کشادہ، مربوط اور ہمہ جہت ترقی کی عمدہ مثال قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس سے تمام فریق مستفید ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس راہداری کے جنوب میں گہرے سمندر کی بندرگاہ گوادر کی ترقی تیزی سے ہو رہی ہے ۔ تکمیل سے یہ نہ صرف راہداری اور نقل وحمل کا محور ثابت ہوگی بلکہ اقتصادی مرکز بھی بنے گی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پاک چین اقتصادی راہداری مغربی چین ، وسطی اور جنوبی ایشیاء ، مشرق وسطیٰ کے لئے آسان ترین رسائی مہیا کرے گی۔ ” وسیع تر خوشحالی کی حامل دنیا کے لئے کشادہ اور جدید ایشیاء” کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دنیا کی آبادی کی اکثریت کا گھر ، قدرتی وسائل سے مالا مال اور تجارت کے لئے ساز گار محل وقوع کی بناء پر ایشیاء اقتصادی نظام کے لئے نمایاں حیثیت حاصل کررہاہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ باؤ فورم ایشیاء کے بارے میں بین الاقوامی اقتصادی نظام وضع کرنے اور دنیا میں اپنا مقام بنانے کے حوالے سے ممتاز پلیٹ فارم کی حیثیت سے ابھرا ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ 2017ء میں دنیا کی تقریباً ایک تہائی اقتصادی نمو ایشیاء بحر الکاہل خطے سے ہوئی جس میں زیادہ تر حصہ چین کا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایشیائی صدی کی صبح طلوع ہورہی ہے، ہم پر ذمہ داری ہے کہ حقیقی صلاحیتوں سے استفادہ کریں اور اپنے اندر موجود بصیرت کو از سر نو دریافت کریں۔

وزیراعظم نے بہتر زندگی کی مشترکہ امنگوں کے لئے نئے جذبے اور عزم کے ساتھ مربوط کاوشوں پر زور دیا جس میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات، علاقائی اداروں کااستحکام، باہمی رابطوں میں اضافہ، ٹیکنالوجی سے استفادہ اور انسانی وسیلے پر سرمایہ کاری شامل ہے۔ ترقی اور سلامتی کو لازم و ملزوم قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ کھلی تجارت اور شراکتی جدت کے ثمرات کو فروغ دے کر ہی ہم برداشت اور دوستی کو فروغ دے سکتے ہیں اور اس طرح انتہا پسندی کے لئے گنجائش بھی نہیں ہو گی۔ چین پاکستان، افغانستان کے سہ فریقی فرہم ورک کا مقصد انہی مقاصد کا حصول ہے۔

Print Friendly, PDF & Email