112

فکرفردا…جشن ققلشٹ سے جشن چترال تک۔۔۔۔کریم اللہ

موسم بہار میں چترال میں منعقد ہونے والے دو کلینڈر ایونٹ یعنی جشن قاقلشٹ کے بعد جشن چترال اپنی تمام رنگارنگیوں کے ساتھ اختتام پزیر ہوا۔ چترال اپنی ثقافتی گوناگونی اورادب و ثقافت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اہالیان چترال شرافت، سادہ لوحی اور منکسر المزاجی کے لبادے میں اپنی اناپرستی، نسلی ونصبی تعصبات اورعدم برداشت کی روایات کو بھی چھپانےمیں کامیاب رہیں۔ اورمعصومیت وسادہ مزاجی کی مصنوعی چادر اوڑھے اپنے آپ اور دنیا کے دیگر اقوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ اس مضمون میں چترال کے ادبی و ثقافتی ٹھیکیداروں کی ایسے ہی دوغلا پن پر بات کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تاکہ عوام الناس کو پتہ چلے کہ ہمارے ادیب و شعراء جن خوبصورت الفاظ کا استعمال کرتے ہیں اورجس انداز سے وہ خود کو معاشرتی مصلح کے طور پر پیش کررہے ہیں اندر سے ان کی باتیں کتنی کھوکھلی اور بے معنی ہے اور ان کے یہ خوبصورت الفاظ محض لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے ہوتی ہے جبکہ اپنی ذات میں ان الفاظ اوراس کے پس منظر میں موجود فلسفہ پر کبھی عمل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ ان کے ہاں ادب محض دکھاوا اور معاشرتی جمود واسٹیٹس کو کو برقرار رکھنے کا ایک ٹول ہے۔ ہمارے ادیب و نام نہاد دانشور خود کو مقدس مخلوق سمجھ کر کسی قسم کی تنقید برداشت کرنے کوتیار نہیں۔ جب جشن ققلشٹ کے موقع پران ٹھیکیداروں کو ضلعی انتظامیہ نے نظر اندازکردیا تو سوشل میڈیا پر کہرام برپا کردی اوراس جشن کا بائیکاٹ کردیا۔ ہمارے ادیبوں کی عظمت اس بات سے عیاں ہے کہ اپنی احتجاجی غصے سے بھری پریس ریلیز میں انہوں نےانتظامیہ کو دھمکی دینے کےعلاوہ چترال کے ایک نوجوان جسے ضلعی انتظامیہ نے جشن ققلشٹ کی زمہ داری سونپی تھی کوغیر متعلقہ کہہ کر ان کی تظہیک کرنے کی کوشش کی۔ جب اس طرز عمل پر سوال اٹھایا گیا توان کا جواب بھی غصے سے دیتے رہے۔ پھر جشن چترال کی مناسبت سے اے ڈی سی چترال منہاج الدین صاحب نے ادب و ثقافت سے متعلق افراد کی میٹنگ بلائی۔ اس میٹنگ میں ہم بھی موجود تھے۔ جشن چترال سے دو روز قبل ہم اے ڈی سی صاحب سے ملاقات کرکے ثقافت کے حوالے سے ایک پروپوزل دیا تھا۔ اور اے ڈی سی صاحب ہمارے آئیڈئیے کو بہت سراہاتھا۔ پھراسی میٹنگ کے بعد ہمیں خصوصی طور پراسی آئیڈے پر کام کرنے اور جشن چترال میں اسی آئیڈے کو پیش کرنے کی تاکید بھی کی۔ ساتھ ہی میٹنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ آنے والے کل کو سارے آئیڈیاز کو پروپوزل کی صورت میں ضلعی انتظامیہ کو دیا جائے گا جبکہ اسی شام پروپوزل تیار کرکے سارے شرکاء کے ساتھ شئیر کرنےکا بھی فیصلہ ہوا۔ اس کے بعد ادیب صاحبان خاموش ہوگئے۔ پھر پتہ چلا کہ ادیبوں کا یہ گروپ کوغزی میں جاکر میٹنگ کی اور پروپوزل وہاں سے تیار کرکے اے ڈی سی کے حوالے کردیا۔ ہمارے ذرائع کے مطابق ادب و ثقافت کے ٹھیکیداروں نے ہمیں سائیڈ لائین کرنے کے لئے اے ڈی سی سے چھپکے سے ملاقات بھی کرلی اور انہیں ان سارے انتظامات سے ہمیں بے دخل کرنے کا کہا۔ یوں ہم سے پوچھے بنا پروپوزل تیار کرکے اے ڈی سی کے حوالے کردیا گیا۔ ادب و ثفاقت کے ان ٹھیکیداروں نے ہمیں یہ کہہ کر سائیڈ لائین کیا کہ آپ لوگوں نے ابھی تک ادب و ثقافت کے لئےکوئی کام نہیں کیا ہے۔ اے ڈی سی کے ساتھ میٹنگ میں بیٹھے ایک جی کے سریر کی تنظیم “سہارا” کے کردار کو خوب سراہا اور ان کی خدمات کا تذکرہ کیا گیا۔ پھر انہیں بھی نظر انداز کرکے سارے انتظامات چند قبضہ گروپ کے حوالے کردی گئی۔ ٹھیکیداروں نے پہلے سوشل میڈیا کے ذریعے ضلعی انتظامیہ کو بلیک میل کیا پھر جشن چترال کے سارے انتظامات سے اپنے مخالف بیانئے کے حامل افراد کو بے دخل کردیا۔ یہی ہمارے ادبی ٹھیکیداروں کی لالچ، حوس زد کی کرامات اور تعصبات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ مخالفین کو وہ کسی صورت بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email