تازہ ترین
Home >> تازہ ترین >> ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر چترال فضل باری نے چھاپہ مار کر بڑی مقدار میں زائد المیعاد چپس بر آمد کرکے گودام کو سیل کر دیا

ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر چترال فضل باری نے چھاپہ مار کر بڑی مقدار میں زائد المیعاد چپس بر آمد کرکے گودام کو سیل کر دیا

چترال ( محکم الدین ) ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر چترال فضل باری نے چھاپہ مار کر بڑی مقدار میں زائد المیعاد چپس بر آمد کرکے گودام کو سیل کر دیا ۔ منگل کے روز انہوں نے زرگراندہ میں واقع ایک گودام پر چھاپہ مارا ۔ اور رنگے ہاتھوں ٹرکوں کے حساب سے غیر معیاری اور زائد المیعاد چپس بر�آ مد کی ۔ جبکہ گودام میں ٹنوں کے حساب سے چپس ، مشروب اور دیگر سامنا موجود تھے ۔ اس موقع پر ڈی ایف سی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ۔ کہ محکمہ فوڈ چترال میں ناقص چپس ، مشروبات اور اشیاء خوردونوش کے خلاف اقدامات کر رہی ہے ۔ اور چترال کے لوگوں کو ہر ممکن حفظان صحت کے معیار کے مطابق خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ تاہم یہ کام تب ہی کامیاب ہو سکتی ہے ۔ جب لوگ اُن کے ساتھ بھر پور تعاون کریں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہمیں اپنے بچوں کو ناقص چپس سے بچانے کیلئے اُنہیں گھر کی بنی ہوئی اشیاء کھانے کی عادت ڈالنی چاہیے ۔ اور بازار سے وہی چیزیں خریدی جائیںِ ۔ جو معیار پر پورے اُترتے ہوں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ محکمہ فوڈ ناقص اشیاء کی فروخت کے حوالے سے غافل نہیں ہے ۔ لیکن جو سمپل لیبارٹری بھیجا جاتا ہے ۔ اس کے نتائج آنے میں کئی دن لگ جاتے ہیں ۔ دوسری طرف مذکورہ کاروبار سے وابستہ لوگ کسی نہ کسی طریقے سے اُس کی مثبت رپورٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے اُن کی طرف سے کی گئی کاروائی بھی بے نتیجہ ہوتی ہے ۔ ڈی ایف سی نے چترال بازار میں مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف بھی اقدامات کی یقین دہانی کی ۔ اور کہا ۔ کہ ماہ رمضان میں ناجائز منافع خوری ، اشیاء کی مقررہ نرخ سے زیادہ قیمت وصول کرنے اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے کسی بھی رورعایت کے قابل نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ بازار میں مُرغی زندہ وزن کے حساب سے فروخت کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں ۔ اس لئے لوگوں کو چاہیے کہ وہ مُرغی فروشوں سے مُرغی وزن کے حساب سے دینے کا مطالبہ کریں۔ انہوں نے کہا ۔ کہ عوام لوٹنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے میں محکمہ فوڈ اور انتظامیہ سے تعاون کریں۔ تاکہ خوف خدا سے عاری سبزی فروشوں ، قصابوں ، مرغی فروشوں اور ناقص اشیاء فروخت کرنے والوں کو اُن کے انجام تک پہنچایا جا سکے۔