تازہ ترین
Home >> مضامین >> داد بیداد۔۔۔۔فنکار اور قلمکار۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

داد بیداد۔۔۔۔فنکار اور قلمکار۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

تصویروں کے ساتھ خبر آگئی ہے کہ خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اعلیٰ جسٹس دوست محمد نے محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں معذور ادیبوں ، شاعروں اور فنکاروں کیلئے زکوٰۃ فنڈ سے امدادی رقوم تقسیم کئے ۔ چند معذور اور بوڑھے فنکاروں کو تقریب میں بلا یا گیا باقی ہٹے کٹے اور تندرست ، تگڑے ’’ مستحقین زکوٰۃ ‘‘ کو تقریب میں بلانے کی جگہ تقریب سے دور رکھا گیا تاکہ مستحقین زکوٰۃ کا بھرم قائم رہے نگران وزیر اعلیٰ نے عدلیہ میں اپنے شاندار کردار کی وجہ سے بڑا نام پیدا کیا ہے عدالت عالیہ پشاور اور عدالت عظمیٰ اسلام آباد میں اپنے کیرئیر کے دوران اُن کا نام انصاف ، عدل اور ڈسپلن کی وجہ سے بے حد احترام سے لیا جاتا ہے نگران وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے محکمہ ثقافت نے انریبل جسٹس کو ایک غیر منصفانہ بندر بانٹ میں مہمان خصوصی بنا کر آپ کے دامن کو داغدار کر نے کی مذموم کوشش کی ہے زکوٰۃ فنڈ کی اس تقسیم میں 2016ء میں بھی گھپلے ہوئے تھے 2018ء میں ایک بار پھر اُن گھپلوں کو دہرایاگیا اور 20فیصد مستحقین کے نام لیکر 80فیصد غیر مستحق افراد کو مالی امداد دی گئی جن کو ثقافت کا امین لکھا گیا ان میں سے دو تہائی اکثریت ثقافت کی امانت دار نہیں بلکہ خیانت کار ہے نگران وزیر اعلیٰ کی توجہ کے لئے شاعر، ادیب اور فنکار برادری نے دو باتوں کی نشاندہی کی ہے پہلی بات یہ ہے کہ بیمار ، معذور اور زکوٰۃ کا مستحق ادیب ، شاعر اور فنکار اگر کوہستان ، تورغر ، کرک ، چترال اور بونیر میں رہتا ہے یا ہسپتال میں داخل ہے تو وہ اخباری اشتہار پڑھ کر درخواست فارم پُر کر کے تصویر اور شناختی کارڈ کے ساتھ جمع نہیں کرسکتا ایسے لوگوں کی دلجوئی اور مدد کے لئے ضلع کے ڈپٹی کمشنر ، سوشل ویلفئیر افیسر اور ضلعی
زکوٰۃ کمیٹی کے چیئرمین کے ذریعے مستحقین کی نشان دہی ہونی چاہیئے 2010ء سے 2012ء تک صوبائی حکومت نے اس اصول پر عمل کیا تھا اور حقداروں کو اُن کا حق دیا تھا چترال کا رحمت ملنگ عمر 78سال ،عبد الغنی دول عمر 75سال ، تعلیم خان عمر 87سال اور میر ولی استاد عمر 84سال خود اخبار پڑھ کر فارم بھرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں صوبے کے دور دراز اضلاع میں 200سے زیادہ فنکار اور قلمکار زکوٰۃ کے مستحق ہیں مگر فارم بھرنے اور درخواست دینے کی استطاعت نہیں رکھتے ان میں سے باضمیر ، خوددار اور قناعت پسند فنکار اور قلمکار بھی ہیں جو اشتہار پڑھ کر درخواست لیکر دفتروں کے چکر لگانا اپنے فن اور قلم کی توہین سمجھتے ہیں اس لئے 2010ء سے 2012ء تک جو طریقہ کار وضع کیاگیا تھا اس کے تحت ان کی عزت نفس کو مجروح کئے بغیر گھر بیٹھے ان کی دلجوئی اور عزت افزائی کی جاتی تھی ضلع کا ڈپٹی کمشنر موقع پر موجود افیسر ہے وہ غیر مستحق کا نام کبھی آگے نہیں بھیج سکتا دوسری بات ، جس کی نشان دہی کی گئی پہلی بات کے برابر اہم ہے با ت یہ ہے کہ زکوٰۃفنڈ سے مالی امداد کے مستحق فنکار اور قلمکار صرف پشاور، مردان اور نوشہرہ میں نہیں رہتے تورغر ، بونیر ، کوہستان ، چترال، سوات ، دیر اور کرک میں بھی رہتے ہیں ثقافت کے زندہ امین وہ بھی ہیں چترال کی کالاش وادی میں کالاش گرام بریر کا باشندہ محمد ولی دونوں ٹانگوں سے معذور ہے وہ لکڑی پر کام کر کے مارخور، چیتا ، گھوڑا بناتا ہے توبے جان جانور پر زندہ جانور کا گمان ہوتا ہے پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے گویا یہ مجھے دیکھ رہا ہے محمد ولی اخباری اشتہار پڑھ کر درخواست دینے کی استطاعت نہیں رکھتا صوبائی کوٹہ سے پشاور اور نوشہرہ کے فنکار کا مقابلہ کر کے مالی امداد لینے کی طاقت نہیں رکھتا اس لئے معذوری ، بیماری ، عمر اورفن کے معیار کو دیکھ کر مستحق فنکاروں اور قلمکاروں کو امدادی رقم پہنچانے کے لئے 600کے صوبائی کوٹے کو 25اضلاع میں برابر تقسیم کیا جائے تو ہر ضلع سے 24نام آئیں گے ضلع کا ڈپٹی کمشنر ان میں امدادی رقوم تقسیم کرے گا اورہر ماہ ان کو پہنچانے کا طریقہ کار وضع کرے گا اس میں نا انصافی کی گنجائش نہیں ہوگی 2012ء میں صوبائی حکومت نے ڈویژن اور اضلاع کی سطح پر آرٹس کونسل قائم کرکے آرٹس کونسلوں کے ذریعے مستحق ، معذور اور بیمار فنکاروں ، قلمکاروں کی دلجوئی ، حوصلہ افزائی اور امداد کا منصوبہ پیش کیا تھا ملاکنڈ ڈویژن میں ایلم آرٹس کونسل سوات میں قائم ہوا تھا ہزارہ ، بنوں اور ڈی آئی خان ڈویژن میں بھی آرٹس کونسل بنائے گئے تھے یہ قابل عمل اور صاف ، شفاف منصوبہ تھا نگران حکومت کو انصاف کے تقاضے پورے کر نے کے لئے اس منصوبے پر عمل کرنا چاہیئے تاکہ پشاور شہر کے بند کمرے میں بیٹھا ہوا ’’ دفتری بابو‘‘ من مانی کر کے تورغر ، کوہستان ، چترا ل اوردیگر دوردراز اضلاع کے مستحق فنکاروں اور قلمکاروں کے حق پر ڈاکہ نہ ڈال سکے جسٹس دوست محمد سے بہتر اس بات کا ادراک کسی کو نہیں ہوگا کہ معذور اور بیمار فنکاروں یا قلمکاروں کے لئے مختص فنڈ سرکاری ملازمین ، کاروباری افراد اور صحت مند ، تنومند مشٹنڈوں میں تقسیم کرنا فنکاروں اور قلمکاروں کی حوصلہ افزائی نہیں بلکہ حوصلہ شکنی ہے اس کی پوری تحقیقات صوبائی انسپکشن ٹیم موجود ہے ڈویژنل کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کے دفاتر موجود ہیں اگر عدالت عظمیٰ کا معزز ترین جج بھی نگران وزیر اعلیٰ ہوکر انصاف کے تقاضے پورے نہ کر سکے تو پھر یہ تقاضے کے لئے کوئی بھی پورا نہیں کرے گا شکسپیئر کے ایک ڈرامے کا کردار سیزر جب دیکھتا ہے کہ اس کا معتمد ترین دوست اوردستِ راز بروٹس دشمنوں کے ساتھ ملکر اس کو قتل کرنے کے لئے آیا ہے تو سیزر دشمنوں کی طرف نہیں دیکھتا اپنے دوست بروٹسBrutus) (کی طرف دیکھتا ہے اور شاہانہ رعب کے ساتھ پوچھتا ہے ’’ بروٹس Brutus)) !کیا تم بھی دشمنوں کے ساتھ ملے ہوئے ہو؟ ‘‘ اخبارات میں ’’ثقافت کے زندہ امین کے چیک تقسیم کرتے ہوئے نگران وزیر اعلیٰ کی تصویر دیکھ کر سب کو خیال آیا ہوگا کہ ہمارا نگران وزیر اعلیٰ بھی میرٹ ، انصاف اور عدل کے دشمنوں کے ساتھ تو نہیں ملا ہوا ؟
گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی


error: Content is protected !!