تازہ ترین
Home >> تازہ ترین >> سی پیک منصوبہ کے لئے چین کے ساتھ مذاکرات کا آغاز دراصل پرویز مشرف کے دور میں شروع ہوا تھا؍ڈاکٹرامجدچودھری

سی پیک منصوبہ کے لئے چین کے ساتھ مذاکرات کا آغاز دراصل پرویز مشرف کے دور میں شروع ہوا تھا؍ڈاکٹرامجدچودھری

چترال ( نمائندہ ڈیلی چترال) آل پاکستان مسلم لیگ مرکزی صدر ڈاکٹر محمد امجد چودھری نے کہا ہے کہ کرپشن کی بیخ کنی اور لوٹی ہوئی رقم کی واپسی، بیرونی قرضوں کے بوجھ سے ملک کو نجات دلانے اور فارن پالیسی میں انقلابی تبدیلی کے ذریعے بیرونی ممالک کے ساتھ تعلق کو بہتر بنانااور ملک کو بین الاقوامی پابندیوں کے دلدل سے باہر نکالنا ان کی پارٹی کے ترجیحات میں سر فہرست ہوں گے جبکہ اس وقت بے روزگاری ، غربت، مہنگائی اور بدامنی ملک کے سلگتے مسائل ہیں جن سے عہدہ براء ہونا جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف اور ان کی ٹیم کے سوا اور کسی کے بس کی بات نہیں ۔ جمعرات کے روز چترال میں مقامی پارٹی رہنماؤں سلطان وزیر ، سہراب خان اور وقاص احمد کی معیت میں پارٹی آفس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پرویز مشرف کے دور میں غربت میں نمایان کمی آئی تھی اور عام آدمی کو ان کے اصلاحات کا ثمرات ملنا شروع ہوگیا تھا لیکن بعد میں پی پی پی اور مسلم لیگ ۔ن کے دور میں اداروں کی تباہی اور کرپشن کا بازار گرم ہونے کی وجہ سے غربت نے پھر سے سر اٹھالیا۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک منصوبہ کے لئے چین کے ساتھ مذاکرات کا آغاز دراصل پرویز مشرف کے دور میں شروع ہوا تھا جبکہ ملکی معیشت کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل گوادر پورٹ کا منصوبہ اور کوسٹل ہائی وے پرویز مشرف کے دور میں پایہ تکمیل کو پہنچا تھا ۔ انہوں نے کہاکہ اے پی ایم ایل الیکشن 2018ء میں بھر پور حصہ لیتے ہوئے ملک بھر میں مختلف حلقوں نے 300کے قریب امیدوار کھڑا کردیا ہے اورپرویز مشرف کی کارکردگی کی بنیاد پر ہم خاطر خواہ کامیابی کا توقع بھی کررہے ہیں۔ ڈاکٹر امجد نے کہاکہ پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد انہوں نے چترال کے حلقے سے الیکشن لڑنے کے لئے خصوصی طور پر انہیں حکم دے دیا کیونکہ پرویز مشرف کا چترال کے ساتھ خصوصی تعلق رہا ہے اور لواری ٹنل پراجیکٹ ، گولین گول ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ، شندور گلگت روڈ، موبائل فون سروس کا آغاز اور دوسری سہولیات کی فراہمی کی وجہ سے چترال کے عوام ان کے ساتھ والہانہ محبت رکھتے ہیں اور جس طرح گزشتہ عام انتخابات میں ان کے نامزد امیدوار کو بھاری اکثریت سے کامیاب کیا تھا، اسی طرح اب کی بار بھی وہ اپنے محبوب قائد پرویز مشرف کے نامزد امیدوار کو ووٹ دینے کے لئے بے تاب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کی واپسی بہت جلد ہی متوقع ہے اور سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونے پر ان کی الیکشن لڑنے سے نااہلی کے مقدمے کا فیصلہ ان کے حق میں ہونے کی صورت میں وہ چترال میں قومی اسمبلی کی سیٹ سے استعفیٰ دے کر ان کے لئے خالی کردیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پرویز مشرف کا پارٹی کی صدارت سے استعفیٰ تکنیکی بنیاد وں پر ہے اور پارٹی کا سرپرست اعلیٰ اب بھی وہ ہی ہیں اور وہی پارٹی کے امور کو دیکھ رہے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اے پی ایم ایل کو کسی کے ساتھ انتخابی اتحاد کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی اس پر غور کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں تعلیم ، صحت اور انفراسٹرکچر نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ سیاحت کو ترقی دینے کی اشد ضرورت ہے جس کی چترال میں زبردست پوٹنشل پائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر امجد نے پارٹی کے لئے چترال میں ایک فارم ہاؤس کی تعمیر اور اسلام آباد میں چترال ہاؤس تعمیر کرنے کا اعلان کیا جہاں پارٹی کے کارکن اپنی ضروریات کے لئے قیام کے دوران رہائش رکھ سکیں گے ۔


error: Content is protected !!