61

فنانس کمیشن نے آبادی اور غربت کی بنیاد پر مالیاتی تقسیم کا فارمولہ طے کر کے اِضلاع ، تحصیلوں اور دیہی کونسلوں میں رقوم کی تقسیم شروع کر دی ہے ۔عنایت اللہ

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)خیبرپختونخوا کے سینئر وزیر برائے بلدیات و دیہی ترقی اور جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ ہماری حکومت نے عوامی ضروریات سے ہم آہنگ منفرد بلدیاتی نظام متعارف کیا ہے جس میں گراس روٹ پر منتخب نمائندوں کو ریکارڈ اختیارات اور وسائل مہیا کئے گئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ نظام عوامی خدمت سے سرشار نوجوان قیادت کو سامنے لانے اور جمہوریت کی نرسری ثابت ہو گا انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں اس کا فرق اجاگر کرے مرکز اِسلامی پشاور میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب اور دیگر صوبوں میں صحت، تعلیم اور زراعت جیسے اہم محکموں کو بلدیاتی نمائندوں سے دور رکھا گیا مگر ہم نے مقامی حکومتوں کو24صوبائی محکمے اور دفاترحوالے کئے ہیں ہم نے عدم مرکزیت کی پالیسی اختیار کی ہے ہر سطح پر لوکل کونسلوں کو بااِختیار بنایا گیا ہے پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں ہمارے بلدیاتی نظام کو امتیازی حیثیت حاصل ہے اور یہ ہماری اتحادی حکومت کا ایک کارنامہ ہے اس کے عملی نفاذ میں یقیناًمشکلات ہو ں گی ہمیں اسکا اندازہ ہے لیکن اِن مسائل کو بتدریج حل کریں گے ہم نے دستور پاکستان کی دفعہ 140-Aکے تحت بلدیاتی اِداروں کو مکمل بااِختیار بنا یا ہے انکو بھرپور مالی اور انتظامی اِختیارات دیئے ہیں ہر سطح کے ناظمین ، ضلع ، تحصیل، دیہی /محلہ کونسل کو باقاعدہ اعزازیے اور دیگر مراعات دی جائیں گی تاکہ ان کو اپنے فرائض منصبی ادا کر نے میں آسانی ہو دیگر منتخب ارکان لوکل کونسل کیلئے بھی اعزازیہ طے کرنے کیلئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی ہے سینئر وزیر نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو صوبائی ترقیاتی فنڈ کا 30% فیصد حصہ دیا گیا ہے جو تنخواہوں، ترقیاتی و غیر ترقیاتی مدوں سمیت ایک کھرب 44ارب روپے بنتا ہے جبکہ خالص ترقیاتی مد میں انہیں 42 ارب روپے ملیں گے اس طرح ہر کونسل کو پہلے کی نسبت کئی گنا زیادہ فنڈز ملیں گے تعلیم ، صحت، واٹر سپلائی، سڑکوں کی تعمیر اور میونسپل خدمات بلدیاتی اداروں کی ترجیحات میں شامل ہیں مقامی حکومتوں کا نظام ایک حقیقت کاروپ دھار چکا ہے ہم نے خیبر پختونخوا کے عوام سے جو وعدہ کیا تھا پورا کرچکے اور اب کوہستان کے سوا صوبہ کے تمام اضلاع میں مقامی کونسلیں کام شروع کر چکی ہیں ہماری ایک بڑی کامیابی دیہات اور محلوں کی سطح پر منتخب کونسلیں ہیں جنہوں نے کام شروع کر دیا ہے اس نظام کی تقویت اور نگرانی کیلئے صوبائی سطح پر دو اہم اِدارے لوکل گورنمنٹ کمیشن اور صوبائی فنانس کمیشن بھی تشکیل پا چکے ہیں اور انہوں نے بھی اپنا کام شروع کر دیا ہے اسی طرح مقامی حکومتوں کے رولز آف برنس کی منظوری بھی دیدی گئی ہے فنانس کمیشن نے آبادی اور غربت کی بنیاد پر مالیاتی تقسیم کا فارمولہ طے کر کے اِضلاع ، تحصیلوں اور دیہی کونسلوں میں رقوم کی تقسیم شروع کر دی ہے محکمہ بلدیات نے صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح کے کئی اہم منصوبے شروع کئے ہیں پشاور شہر میں جو ترقیاتی کام کئے جارہے ہیں وہ اس کی روشن مثال ہیں صفائی اور آبنوشی کے نظام کو جدید ترین اور ترقیافتہ شہروں کی سطح پر لانے کیلئے الگ ادارہ WSSP مصروف عمل ہے جس کی حسن کارکردگی کا اعتراف ہو چکا ہے صوبے کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز مردان، سوات، ایبٹ اباد، کوہاٹ ، بنوں اور ڈی آئی خان میں بھی WSSP کے قیام کی منظوری دی گئی ہے جبکہ اگلے مرحلے میں تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں WSSP قائم ہونگے پشاور شہر کی خوبصورتی اور تزئین و آرائش کیلئے بھی کئی مزید ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں وزیرعلیٰ نے انکی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے پشاور کی خوبصورتی کیلئے 5 ارب مختص کئے گئے ہیں بعض منصوبے مکمل ہوچکے ہیں جبکہ دیگرتکمیل کے مراحل میں ہیں پشاور کے شہریوں اور خاص طور پر سرکاری ملازمین کا ایک بڑا مسئلہ ریگی ماڈل ٹاون کا معرض التواء میں ہونا تھاہم نے جہاں قبائلی بھائیوں کے ساتھ اس مسئلے کے حل کیلئے مسلسل جرگے کئے وہاں اس ماڈل ٹاون کے باقی 60فیصد سے زائد علاقوں میں تعمیراتی کام بڑے پیمانے پر شروع کئے 60کروڑ روپے کی لاگت سے گیس اور بجلی کے کام کے PC-I منظوری کرائے اور مزید ایک روپے اگلے اے ڈی پی میں رکھے گئے ہماری حکومت کا یہ عزم ہے کہ صوبے کی ترقی اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے کا یہ عمل جاری رہے گا اور جو مسائل اور مشکلات ہمیں درپیش ہیں ان کا حل تلاش کیا جائے گا ہمارا عزم ہے کہ ایک بہتر اور خوشحال خیبر پختونخو ا کا خواب شرمندہ تعبیرکریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں