168

دنیا کے چالیس سے ذیادہ ممالک کی سیرپر جانے والے چترال کے معروف سیاح الحاج عیدالحسین چترال پریس کلب میں اظہار خیال

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال) دنیا کے چالیس سے ذیادہ ممالک کی سیرپر جانے والے چترال کے معروف سیاح الحاج عیدالحسین نے کہا ہے کہ سیاحت اور خصوصاً مسلم ممالک میں صحابہ کرام ، تابعین ، مشائخ اور مشاہیر اسلام کے مزارات اور اسلام اور کفر کے مابین ہونے والے لڑائی کے میدانوں اور اسلامی تاریخ کے لحاظ سے اہم مقامات کی سیر سے مسلمان کی وسعت نظر میں اضافہ ہوتا ہے اور انہیں اپنے اسلاف کے کارنامے ذیادہ واضح ہوتے ہیں جبکہ دنیابھر میں گھوم پھرنے سے انسان کو مختلف انسانی تہذیبوں اور کارخانہ قدرت سے ذیادہ آگہی ہوتی ہے ۔ اتوار کے روز چترال پریس کلب کے زیر اہتمام پروگرام مہراکہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے 1980ء کی دہائی کے وسط سے لے کر اب تک ایشیائی ممالک اور یورپ میں اپنی سیاحت کے حوالے سے دلچسپ واقعات بیان کی ۔ انہوں نے کہاکہ حج بیت اللہ شریف کے بعد انہوں نے دنیائے اسلام کے تمام مقامات مقدسہ کی زیارت کا فیصلہ کیا اور چودہ پیغمبر وں کے مزاروں ، دنیائے اسلام کے مختلف ممالک میں واقع سینکڑوں صحابہ کرام کے مزاروں پر حاضری کا شرف حاصل کیا ۔ انہوں نے سعودی عرب کے علاوہ دوسرے عرب ممالک مصر، شام، الجیریا، عراق، کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور عمان میں اپنی سیروسیاحت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ انہوں نے تاریخی طور پر معروف ایسے دریاؤں کو دیکھنے کا شوق پورا کیاجوکہ جنوب سے شمال کی طرف یا مشرق سے مغرب کی طرف بہنے کی انفرادیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے پیغمبران خدا اور رسول مدنی کے صحابہ کرام کے مزاروں پر حاضری کی تفصیل اور عزوات کے مقامات کاحال بیان کرتے ہوئے حاضرین کوفرط جذبات میں لاکر ابدیدہ کردیا۔انہوں نے کربلا کے سفر سے واپسی کا حال بیان کرتے ہوئے حاضرین کو بتادیاکہ کس طرح انہوں نے اپنی حاضر دماغی سے اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ انہوں نے سکندر اعظم کے جائے وفات، ہاروت وماروت سے منسوب مقام ، معلق باغات، عراق کے تکریت میں صدام حسین کے محل نما گھر، صلاح الدین ایوبی کے جائے پیدائش، نمرود کاقلعہ اور سلمان فارسی کے مزار کی تفصیل بیان کرکے حاضرین کو گہری سوچ اور فکر میں ڈال دیا۔انہوں نے ایران کے سفر کا بھی ذکر کیاجہاں انہوں نے مشہد، اصفہان میں آتش کدہ فارس اور دوسرے تاریخی مقامات کی تفصیل بیان کی۔ الحاج عیدالحسین نے سنٹرل ایشیاء کے ممالک کرغزستان، ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان کے سفر کے دلچسپ سے بھر پور واقعات اور احوال بیان کیا جن میں حاضریں نے خصوصی دلچسپی کا اظہارکیا۔ انہوں نے سنٹرل ایشیاء میں اپنی طویل قیام کے دوران مختلف ریاستوں کے لوگوں کی مختلف مزاج اور ان کی تہذیب وتمدن کے حوالے سے اپنے مشاہدات بیان کیا۔ انہوں نے چین کے سفر پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ وہاں دو ماہ قیام کرنے اور چین کے بارے میں ذیادہ سے ذیادہ معلومات لینے کا فیصلہ کیا اور وہاں مقیم اپنے بیٹے ڈاکٹر اشفاق حسین کے ساتھ چین کے مختلف شہروں میں گھوم پھرنے اور تہذیب وتمدن کو قریب سے دیکھا۔ انہوں نے روس کے سفر کی روداد بھی بیان کی جس میں شہید خالد بن ولی بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ انہوں نے روس کے ثقافتی دارالحکومت سینٹ پیٹرسبرگ کا احوال بیان کیا۔ الحاج عیدالحسین نے ملائشیا کے سفر کے دوران گوتم بدھ کے غار اور گز گز پہاڑ کے دلچسپ احوال بھی بیان کی جبکہ افغانستان میں اسلامی تاریخ کے حامل اہم مقامات کے سیر کے بارے میں بھی حاضرین کے معلومات میں اضافہ کردیا۔ انڈیا کی سیر کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے حاضریں کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ دہلی کے شہر میں چترال لائن نامی روڈ کی موجودگی سے آگاہ کیا جوکہ سابق مہتران ریاست چترال سے نسبت رکھتی ہے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں چترال پریس کلب کے صدر ظہیرالدین نے کہاکہ الحاج عیدالحسین نے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے برطانیہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک کی سیر کرکے کہ ثابت کردی ہے کہ شوق کے سامنے وسائل کی کمی کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتے اور ہمت مردان ، مدد خدا کا مقولہ ان پر صادق آتی ہے۔انہوں نے کہاکہ الحاج عیدالحسین کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر چترال میں ٹورزم کے شعبے کو ترقی سے ہمکنارکرسکتے ہیں ۔ اس موقع پر حاضرین نے متفقہ طور پر الحاج عیدالحسین کو ‘چترال کا ابن بطوطہ’کا لقب دے دیا ۔

Print Friendly, PDF & Email