’’السلام علیکم، بہترین دعا اور خوشگوار ابتداء ‘‘ ۔۔۔تحریر :رانا اعجاز حسین چوہان

تمام اقوام و مذاہب میں باہم ملاقات کے وقت مخاطب کو مانوس ومسرور کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی خاص کلمہ کہنے کا رواج ہے۔ جبکہ امت مسلمہ کے مسلمانوں کو خالق کائنات اللہ ربّ العزت نے باہم ملاقات کے وقت ’’السلام علیکم‘‘ کہنے کا حکم دیاہے ۔ اس مبارک کلمہ میں دوسروں کے لئے صرف خوشگوار اظہار محبت ہی نہیں بلکہ بہترین دعا بھی ہے کہ تم پر سلامتی ہو۔ سلام کی سنت کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہی ہوا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان سے کہا اے آدم! فرشتوں کی اس جماعت کے پاس جاؤ اور ان کو سلام کہو، چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام گئے اور فرشتوں کی ایک جماعت کو السلام علیکم کہا۔ فرشتوں نے جواب دیا وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے آدم قیامت تک تیری اولاد کا یہی سلام ہو گا ‘‘(صحیح بخاری )۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ تم جنت میں داخل نہیں ہو گے جب تک کہ ایمان نہیں لاؤ گے، اور پورے مومن نہیں بنو گے، جب تک کہ آپس میں محبت نہیں کروگے، کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جب تم اس پر عمل کروگے تو آپس میں محبت کرنے لگو گے وہ یہ ہے کہ آپس میں سلام کو عام کرو‘‘ ( صحیح مسلم )۔ سلام کے لغوی معنی اطاعت و فرمانبرداری کے لیے جھکنا، عیوب و نقائص سے پاک اور بری ہونا، کسی عیب یاآفت سے نجات پانا،نیز سلام کے ایک معنی صلح وامن کے بھی ہیں۔ سلام اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے جس کے معنی سلامتی والا ہے ، اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے۔ بلاشبہ مسلمانوں کا سلام اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے والا، محبتوں کو پیداکرنے والا، نفرتوں کدورتوں اور عداوتوں کو مٹانے والا ہے، باہمی تعلق واعتماد کا وسیلہ اور فریقین کے لیے موجب طمانیت ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں مسلمانوں کو باہم سلام کو رواج دینے اور عام کرنے کی بڑی تاکید فرمائی گئی ہے۔ سلام کرنا سنت اورجواب دینا واجب قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اور جب سلام کے ذریعے تمہاری تکریم کی جائے تو تم اس سے بہتر (لفظ کے ساتھ) سلام پیش کیا کرو یا (کم از کم) وہی لوٹا دیا کرو۔ بے شک اللہ ہر چیز پر حساب لینے والا ہے۔ ‘‘ ( سورۃالنساء آیت86) اس آیت مبارکہ میں سلام کا جواب بہتر الفاظ میں دینے کا حکم دیا گیا ہے یعنی جواب کے لئے اس سے بہتر الفاظ استعمال کیے جائیں یا کم از کم ان ہی الفاظ میں جواب دے دیا جائے ۔ مثال کے طور پر کوئی آپ کو ’’السلام علیکم‘‘ کہے تو آپ اسے جواب میں ’’وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ‘‘ کہیں ، اور اگر کوئی ’’السلام علیکم و رحمتہ اللہ ‘‘ کہے تو آپ جواب میں وعلیکم السلام و رحمتہ وبرکاتہ کہیں۔ سلام کے جواب میں بہتر جواب دینا مستحب ہے اور برابر کا جواب دینا واجب ہے، اگربغیر کسی عذر شرعی کے جواب نہ دے تو گنہگار ہوگا۔ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صاحب آئے اور کہا ’’السلام علیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ آپ نے جواب میں ایک کلمہ بڑھا کر فرمایا کہ ’’وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ‘‘ پھر ایک صاحب آئے انہوں نے سلام میں یہ الفاظ کہے ’’السلام علیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورحمتہ اللہ ‘‘ آپ نے جواب میں ایک اور کلمہ بڑھا کر فرمایا وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ‘‘ پھر ایک اور صاحب آئے انہوں نے اپنے سلام ہی میں تینوں کلمے بڑھا کر کہا ’’السلام علیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ‘‘ آپ نے جواب میں صرف ایک کلمہ ’’وعلیک‘‘ ارشاد فرمایا، ان کے دل میں شکایت پیدا ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان، پہلے جو حضرات آئے آپ نے ان کے جواب میں دعاء کے کئی کلمات ارشاد فرمائے اور میں نے ان سب الفاظ سے سلام کیا تو آپ نے ’’وعلیک‘‘ پر اکتفاء فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے ہمارے لیے کوئی کلمہ چھوڑا ہی نہیں کہ ہم جواب میں اضافہ کرتے، تم نے سارے کلمات اپنے سلام ہی میں جمع کردیے، اس لیے ہم نے تمہارے سلام کا جواب قرآنی تعلیم کے مطابق جواب بالمثل دینے پر اکتفاء کیا ‘‘ (معارف القرآن)۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور السلام علیکم کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور وہ شخص بیٹھ گیا، آپ نے ارشاد فرمایا’’ دس نیکیاں‘‘۔ کچھ دیر بعد ایک دوسرا آدمی حاضرخدمت ہوا اور السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، وہ آدمی بیٹھ گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ بیس نیکیاں‘‘۔ کچھ دیر بعد ایک تیسرا شخص حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا، السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم علیہ نے ارشاد فرمایا’’ تیس نیکیاں‘‘ ۔ ( روایت ترمذی، ابوداؤد) اس روایت سے معلوم ہوا کہ سلام کے ہر ایک کلمہ پر دس ، اور مکمل سلام کرنے پر تیس نیکیاں حاصل ہوتی ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں اللہ کے قرب اور اس کی رحمت کا زیادہ مستحق وہ بندہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرنے والا ہو۔کیونکہ سلام میں پہل کرنے سے عاجزی وتواضع پیداہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کو بندوں سے تواضع نہایت محبوب ہے۔ سلام اتنی بلند آواز سے کرنا چاہیے کہ سلام کیے جانے والے کو بآسانی آواز پہنچ جائے ورنہ جواب کا مستحق نہ ہوگا، نیز جواب دینے والا بھی اسی طرح بلند آواز سے جواب دے ورنہ جواب اس کے ذمہ سے ادا نہ ہوگا۔سنت یہ ہے کہ سوارپیدل چلنے والے کو سلام کرے، کھڑا اور چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے، تھوڑی جماعت والے زیادہ جماعت والوں کو، اور چھوٹی عمر والا بڑی عمر والے کو سلام کرے۔ جب کہیں سے دو آدمی گزر رہے ہوں یا دو ملاقات کرنے والے ہوں تو ان میں جو بھی سلام میں پہل کرے گا وہ زیادہ ثواب پائے گا۔ جب بچوں کی جماعت کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کرے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ایسا ہی کیا کرتے۔ جب اپنے گھر میں داخل ہو تو گھر والوں بیوی بچوں کو سلام کرے، اس سے اتحاد و اتفاق پیدا ہوگا اور رزق میں خیر و برکت آئے گی۔ جب دو مومن آپس میں ملاقات کریں تو سلام کرنے کے بعد ہاتھ ملانا بھی سنت ہے، مگر مرد مرد سے ہاتھ ملائے اور عورت عورت سے ہاتھ ملائے، مرد و عورت کا ہاتھ ملانا یا مصافحہ کرنا گناہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنا طرز زندگی بدلیں ، خود کو اسلامی اصولوں اور ضابطوں کا پابند بنائیں، اور جو ہمارا واقف ہو یا اجنبی ہر ایک سے سلام کی عادت اپنائیں، سلام کو عام کریں۔ گڈ مارننگ، گڈ بائے، گڈ نائٹ، ہیلو ، ہائے کے ذریعے اغیار کی نقالی کی بجائے السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ کہنے کی عادت ڈالیں ،جو ہمیں پیدا کرنے والے، پالنے والے خالق کائنات کا حکم اور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک طریقہ، اور امت مسلمہ میں باہمی خیر و برکت، اخوت و ہمدردی اور محبت و مروت کے بڑھنے کا ذریعہ ہے۔
*۔۔۔*۔۔۔*

Print Friendly, PDF & Email