مدارس کے لیے قومی نصاب سازی کی ضرورت……نغمہ حبیب

علم اور تعلیم ملک کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس کا حصول ممکن،آسان اور معیاری بنائے۔ملک میں اس وقت سرکاری اور نجی سکولوں کے ساتھ ساتھ مدارس کا وسیع نظام کام کر رہاہے ہر ایک اپنے اپنے نکتہء نظر کے مطابق مصروف عمل ہے اور اس نکتہء نظرمیں ایک واضح اور وسیع تفاوت موجود ہے بلکہ کئی جگہوںیہ پر ایک دوسرے کی ضد ہیں کہیں ایک طریقہء تعلیم رائج ہے تو کہیں دوسرا اگر چہ کئی نظام ہائے تعلیم ملک میں ایک دوسرے سے انتہائی مختلف طبقات پیدا کر رہے ہیں لیکن اگر فلسفہ تعلیم ہی شرق و غرب پر ہو تو پھر تو کسی بہتری کی اُمید ہی نہیں اور اس وقت یہی ہو رہا ہے۔ ایک طرف تعلیم میں جدت کے نام پر سب کچھ جائز سمجھا جا رہاہے تو دوسری طرف مذہب کے نام پر یہی صورت حال موجود ہے۔مدارس جس طرح سے غریب طلباء کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ رہائش اور کھانے پینے کی سہولت فراہم کر رہے ہیں وہ یقیناًقابل تعریف ہے لیکن سوال یہ بھی ہے کہ ان مدارس کو اس حد تک فنڈز کو ن مہیا کرتا ہے کہ وہ یہ سب کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں ہوتا کہ فنڈ دینے والے اِن مدارس سے اپنی مرضی کے کام کرواتے ہیں اور یہاں اپنی مرضی کا نصاب رائج کرواتے ہیں جس میں دوسرے فقہ اور مسلک کے خلاف فتوے کثرت سے موجود ہوتے ہیں اور یوں محبت کے اِن سر چشموں سے نفرت کی تقسیم کا بندوبست کر دیا جاتا ہے۔پاکستان میں اس وقت تقریباً تیس ہزار مدرسے کام کر رہے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ان میں تیس لاکھ بچے زیرِتعلیم ہیں ان میں سے تقریباً چھبیس ہزار مدارس رجسٹرڈ ہیں جبکہ باقی غیر رجسٹرڈ ہیں۔ یہ تمام ادارے اپنا نصاب خود بناتے ہیں جبکہ ملک میں مدرسہ ایجوکیشن بورڈ موجود ہے لیکن اُس نے ابھی تک ایسا نصاب مرتب کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی جو قومی تقاضوں کے مطابق ہو۔ یہ مدارس اپنے طلباء کو قرآنِ پاک، حدیث اور فقہ پڑھاتے ہیں اور ان کے علاوہ دوسرے مضامین جو نصاب میں شامل کئے جاتے ہیں اُن میں فلسفہ اور منظق جیسے مضامین شامل ہیں جو قرآن و حدیث کی تشریح میں استعمال کیے جاتے ہیں یہ سب اِن اداروں کی روح کے مطابق بالکل لازمی مضامین کی حیثیت میں رہنے چاہیءں لیکن یہ بھی ذہن میں رہے کہ آج کی ضروریات کے مطابق دیگر مضامین بھی شاملِ نصاب ضرورہوں۔ اسلام نے نہ توریاضی پر کوئی پابندی لگائی ہے نہ سائنس پر بلکہ آج کے جدید سائنسی علوم کی بنیاد بھی مسلمانوں نے رکھی اور ایسے ہی مدارس کے فارغ التحصیل علماء نے ہی رکھی۔ اِن مدارس میں دین کے ساتھ دنیاوی مضامین بھی پڑھائے جاتے تھے جو اس وقت کی ضرورت کے مطابق ہوتے تھے۔لیکن آج ہم نے نیکی اسی میں سمجھ لی ہے کہ ہم نے جدید مضامین سے کترا کر نکلنا ہے حالانکہ ان میں سے کئی یہ جانتے ہیں کہ خود قرآن اور حدیث کے اندر مختلف سائنسز کے بنیادی تصورات موجود ہیں اور وہ اپنی تقاریر میں ان کے حوالے بھی دیتے ہیں لیکن افسوس کہ اسے اپنے نصاب میں شامل کرنے کو تیار نہیں۔اسلام ہمیں مختلف علوم اور معاملات کے بارے میں بنیادی احکامات ضروردیتا ہے لیکن اجتہاد کے راستے کھلے ہونے کا مطلب ہی یہی ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں موجودہ زمانے کے مطابق مسائل کا حل نکالا جائے ایسے ہی لاتعداد حوالے حدیث سے ملتے ہیں جہاں انتہائی سائنسی طریقوں سے معاملات کو حل کیا گیا جن کو جب اکٹھا کیا گیا ہے تو پوری کتابیں بنی ہیں لیکن ہماری علماء نے کبھی اپنے اداروں میں پڑھنے والے طلباء کو چند ایک مضامین سے آگے بڑھنے نہیں دیا۔ کچھ مدارس تو ایسے بھی ہیں جن میں صرف دو تین کتابیں پڑھادی جاتی ہیں وہ بھی اکثر اپنی تشریح کے ساتھ۔ جیسا کہ میں نے شروع میں لکھا کہ مدارس کم حیثیت اور غریب والدین اور طلباء کو مفت تعلیم فراہم کرتے ہیں جو ایک قومی خدمت ہے لیکن دو چیزوں پر نظر رکھنا ضروری ہے ایک تو یہ کہ فندزکہاں سے آرہے ہیں اگر یہ عام لوگوں اور معاشرے کے مخیرحضرات کی طرف سے ملنے والا چندہ ہے جیسا کہ ابتداََ ہوتا رہا ہے تو پھر یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ یہ مدارس کوئی بھی بیرونی ایجنڈا پورانہ کریں اور کسی ایک مسلک کے حق اور دوسرے کے خلاف کوئی تعلیم نہ دی جائے اور کسی مدرسے کو امداد کسی دوسرے ملک سے اولاََ تو ملنی نہیں چاہیے اور اگر ایسا ہے تو یہ مکمل طور پر غیر مشروط ہو اورفرقہ واریت میں ملوث مدارس کو فی الفور بند کر دیا جائے۔یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کو فعال بنایا جائے اور یہ ایک وسیع البنیاد نصاب مرتب کرے جس میں مذہبی مضامین کے ساتھ ساتھ عام سکولوں اور تعلیمی اداروں میں پڑھا یا جانے والا نصاب بھی بطور ضمنی مضامین کے پڑھایاجائے یوں مدارس سے فارغ التحصیل یہ طلباء ایک وسیع الذہن شہری کے طور پر سامنے آسکیں گے اور یہ اپنی اور اپنے خاندان کی بہتر کفالت کر سکیں گے۔ نیزیہ نصاب انتہائی ا حتیاط سے بنایا جائے جس میں اسلامی تعلیمات کو مسلکی اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے کام میں لایاجائے نہ کہ دین اور مذہب کو اپنی مرضی کا پابند بنا کر اپنی مرضی کے فتوے لگانے کے لیے استعمال کیا جائے اور وہ بھی کفر جیسے بڑے فتوے،کہ ہر فرقہ اور مسلک دوسرے کو کافر کہے اور خود کو دین کا ٹھیکدار سمجھے۔ہمارے مدارس بہت مناسب ا ور بہترانداز میں دین کی خدمت کرتے ہوئے معاشرے میں رواداری اور برداشت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور اپنے بارے میں ایک اچھا تاثر پیدا کر سکتے ہیں۔ اسلام سلامتی اور امن کا مذہب ہے لیکن اس کے بارے میں جو منفی تاثرمغرب میں ایک منصوبہ بندی کے تحت پھیلایا گیا ہے اُسے بھی زائل کرنے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ہمارے اسلامی معاشرے میں مدارس کا تصور کوئی نیا نہیں یہ دراصل وہ تعلیمی درسگاہیں تھیں جنہوں نے بڑے علماء پیدا کیے لیکن جدید تعلیم کے آنے سے انہیں ایک مخصوص دائرے میں سمیٹ دیا گیا ورنہ انہی نے بڑے بڑے سائنسدان،حکمران،معاشی ماہرین ،عمرانیات کے استاد اور ریاضی دان پیدا کیے۔امام غزالی جیسے ماہرینِ تعلیم بھی انہی سے نکلے جنہوں نے علم کو معاشرے کے سدھارنے کا ذمہ دار قرار دیا۔ان علما ء نے اپنے زمانے کے کسی جدید علم سے انکار نہیں کیا تا آنکہ وہ قرآن و حدیث سے متصادم نہ ہوں اور اگر یہی چیز ہمارے آج کے مدارس مد نظر رکھیں تو یہ معاشرے کو پابند شرع مفید شہری فراہم کر سکتے ہیں اور یہ اقدام اٹھانا ہو گاجس کے لیے مدارس کو نہ صرف ایک معیاری نصاب مرتب اور فراہم کرنا ضروری ہے بلکہ اُن کے اساتذہ کی تربیت پر بھی توجہ دینا ہو گی تاکہ ان اہم اداروں کے بارے میں منفی تاثر کو ختم کیا جاسکے اور یہاں سے نکلنے والے طلباء معاشرے کے مختلف حصوں میں پھیل کر ایک مثبت تبدیلی بھی لا سکیں اور خود اپنے لیے بھی باعزت ذریعہ ء معاش حاصل کر سکیں۔

Print Friendly, PDF & Email