تازہ ترین
بنیادی صفحہ >> مضامین >> دادبیداد ۔۔۔۔سو ڈان کا نیا بحران ۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی 

دادبیداد ۔۔۔۔سو ڈان کا نیا بحران ۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی 

شمالی افریقہ کے ملک سو ڈان میں ایک بار پھر انقلاب آیا ہے اور فوج نے اقتدار سنبھال لیا ہے اس سے پہلے 1958،1969، 1985اور1989 ء میں بھی فوج نے انقلاب کے ذریعے اقتدار سنبھا لا تھا معزول صدر عمر بشیر بھی فو جی انقلاب کے ذریعے حکومت میں آئے اور پھر 30سالوں تک حکومت میں رہے فوج کی طرف سے کسی بھی حکومت کو گرانے کی کو شش اگر نا کام ہو جائے تو بغاوت کہلا تی ہے اور کامیاب ہو جائے تو اس کو انقلاب کہا جا تا ہے سو ڈان بھی وطن عزیز پا کستان کی طرح بغا وت اور انقلاب کی زد میں رہتا ہے دو نو ں مسلما ن ملکوں کی ایک جیسی تاریخ ہے مگر جعرافیہ ذرا مختلف ہے جعرافیہ کی وجہ سے حا لات بھی مختلف ہیں ثقا فتیں بھی الگ الگ ہیں سو ڈان کو بر طا نیہ نے 1881ء میں خلافت عثمانیہ کے خلاف بغا وت پر اکسا یا مصر نے اس ’’نیک کام ‘‘ میں بر طا نیہ کی مدد کی 1955ء تک معا ہدے کے مطا بق بر طا نیہ اور مصر نے مل کر سوڈان پر حکومت کی اس مثال کو سامنے رکھ کر مو جودہ صدی میں امریکہ نے سعو دی عرب کو ساتھ ملا کر شام اور یمن پر حکومت کرنے کی بڑی کو شش کی مگر کامیا بی نہیں ہوئی سوڈان ایک دو لت مند اسلامی ملک ہے اس کا رقبہ 1861484مر بع کلو میٹر اور آبادی 4کروڑ 22 لاکھ ہے اس کی سر حد یں مصر ، لیبیا ، ایتھو پیا ، چاڈ ، جنو بی سوڈان اور جنو بی افریقی ریپبلک سے ملتی ہیں 6819کلو میٹر خشکی کا سر حدی علاقہ ہے جبکہ 853کلو میٹر ساحلی سر حد ہے 1978ء میں یہاں تیل کی دریافت ہوئی 1999ء میں تیل کی بر آمدات کا آغا ز ہوا یہاں سونے ،چاندی ، لوہے اور دیگر قیمتی معدنیات کے بے پنا ہ ذخا ئر ہیں خاص طور پر کرومیم ، کاپر ، زنک اور مائیکا کی اعلیٰ کوالٹی سوڈان کے بر آمدات میں شامل ہیں سوڈان کی تاریخ کو بحر انوں اور آزمائیشوں کی تا ریخ کہا جا تا ہے یہاں سیا ستدانوں اور فوجی آمروں کے درمیاں آنکھ مچو لی کو نصف صدی سے زیا دہ عرصہ گزرا ہے پا کستان کے ساتھ اس کی ایک اور مما ثلت یہ ہے کہ سو ڈان میں بھی نفاذ شریعت ایک اہم سیا سی مسئلہ رہا ہے یہاں بھی سر مایہ دارانہ نظام اور ترقی پسند تحریک کی چپقلش رہی ہے 1983ء میں صدر جعفر النمیری نے نفاذ شریعت کا اعلان کیا اور شر عی قوانین نا فذ کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے ، میزان عدل قائم کیا حدود نا فذ کئے دو سال بعد 1985ء میں فو جی انقلاب کے ذریعے جعفر النمیری کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا فو جی حکومت نے انتخا بات کرائے ، جمہو ریت بحال ہو ئی مگر 4سال بعد 1989ء میں ایک بار پھر فوجی انقلاب آیا جنرل عمر البشیر پہلے مار شل لاء ایڈ منسٹر یٹر اور پھر صدر بن گئے اُن کے دور حکومت میں جنو بی سوڈان میں بغاوت اور افرا تفری ہوئی اس بغا وت کے نتیجے میں 5سالوں کی طویل خانہ جنگی کے بعد 2011ء میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے جنو بی سوڈان کو مشرقی تیمو ر طرح الگ کیا گیا یو ں سوڈان کا ایک بازو ملک سے کٹ گیا 1998ء میں بھارت اور سری لنکا کے جو انجینّر ڈا ر فر (Darfur) جنو بی سوڈان میں کام کرتے تھے انہوں نے خد شہ ظا ہر کیا تھا کہ عنقریب خانہ جنگی شروع ہونے والی ہے ایک بھارتی انجینئر نے جنو ری 1999ء میں بر لنگٹن ہا ؤس لندن میں ایک تھنک ٹینک کو بتا یا کہ ڈار فر میں امریکی مفا دات کا کھیل شروع ہو اہے امریکہ یہاں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر پر قبضہ کر نا چاہتا ہے 12سال بعد یہ بات سچ ثا بت ہوئی شما لی افریقہ کی سیا ست اور عالمی برادری کی اس ملک میں دلچسپی پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگار اس بات سے متفق ہیں کہ سوڈان کا مو جودہ بحران غیر ملکی مدا خلت کا نتیجہ ہے امریکہ جس طرح ایران ، شام ، یمن ، افغا نستان اور پاکستان میں اپنی مر ضی کی حکومت لا نا چاہتا ہے اسی طرح سو ڈان میں بھی ایسی حکومت لانے کا خواہش مند ہے جو عوام کو قبول ہو یا نہ ہو امریکہ کے لئے ضرور قا بل قبول ہو چنا نچہ دسمبر 2018ء میں صدر عمر البشیر کے خلاف احتجا جی ریلیوں اور دھر نوں کے لئے بڑے پیما نے پر فنڈ فراہم کئے گئے 4مہینوں کی ہڑ تالوں نے ملک کی معا شی اور سما جی صورت حا ل کو شدید نقصان پہنچا یا ان نقصا نا ت کے بعد جمعرات 11اپریل کو آرمی چیف جنرل عواد بن عوف نے صدر عمر ا لبشیر کو معزول کر کے اقتدار پر قبضہ کیا اور ملک میں دو سالو ں کے لئے مار شل لاء نا فذ کیا جنر ل عواد کے خلاف فوج کے اندر بغا وت کی لہر بلند ہوئی تو 24گھنٹوں کے اندر انہوں نے مستغفی ہو کر اپنے نا ئب لفٹننٹ جنر ل عبد الفتاح بر ہان کو مار شل لاء ایڈ منسٹریٹر مقرر کیا دلچسپ بات یہ ہے کہ جنر ل عواد اور جنرل عبد الفتاح نے ’’ عزیز ہم وطنوں ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر عمر البشیر پر وہی الزامات لگائے جو الزامات جنرل ایوب خان ، جنرل یحییٰ خان ،جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف نے پاکستانی سیا ست دانوں پر لگائے تھے گو یا ایک ہی سکرپٹ ہے جو باہر سے تیا ر کر کے لا یا جا تا ہے عالم اسلام کی زبو حا لی اور مسلمانوں کے مو جودہ زوال پر نظر رکھنے والے محققین نے اس بات کو شدّت کے ساتھ محسوس کیا ہے کہ گزشتہ 30سالوں میں افغانستان ، عراق ، لیبیا ، مصر ،یمن اور شام کے خلاف عالمی برادری خا ص کر امریکہ اور اقوام متحدہ کی طرف سے ہونے والی زیا دتیوں نے مسلمانوں کی آزادی اور اسلامی ملکوں کی خود مختاری پر بڑا سوالیہ نشان چھوڑ دیا ہے عالم اسلام اس وقت قیا دت کے شدید بحران سے دو چار ہے سوڈان کا نیا بحران اس کی ایک واضح مثال ہے

Print Friendly, PDF & Email