کمشنر کی ملاکنڈ ڈویژن میں ٹریفک انتظامات پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت، افسران کی عید کی چھٹیاں منسوخ

کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ریاض خان محسود نے عیدالفطر کے دوران ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع بالخصوص سوات اور دیر تا چترال روڈ پر سیاحوں کے رش کی وجہ سے ٹریفک انتظامات پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کر دی ہے انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں گرمی کی شدت کے پیش نظر یہاں اتوار تک سیاحوں کی حد سے زیادہ آمد بھی متوقع ہے اسلئے سیاحوں کی سہولت اور انکی عید کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کیلئے ہر ضلع کی پولیس اور انتظامیہ ٹریفک کی روانی کو اپنی پہلی ترجیح بنائے کمشنر کی واضح ہدایات کی روشنی میں پورے ڈویژن بھر کی ضلعی اور پولیس انتظامیہ اس مقصد کیلئے پوری طرح متحرک بن چکی ہے سوات، دیر بالا و پائیں اور ملاکنڈ کی ضلعی انتظامیہ و پولیس نے اپنے تمام اعلیٰ و زیریں افسران اور اہلکاروں کی عید کی چھٹیاں منسوخ کرکے انہیں اہم و سٹریٹیجک مقامات پر ڈیوٹیاں تفویض کر دی ہیں سوات میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سید اشفاق انور دیگر پولیس افسران کے ہمراہ موٹر وے ٹنل تا شموزئی کبل کانجو ہائی وے اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد فؤاد خان بائی پاس انٹری پوائنٹ پر اپنی ذاتی نگرانی میں ٹریفک رش پر قابو پانے کیلئے کوشاں ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر موبائل اسکارٹ سنگوٹہ کے مقام پر ٹریفک انتظامات سنبھال چکا ہے اسسٹنٹ کمشنر قاضی احسان اپنے ریونیو سٹاف کے ہمراہ بحرین بازار میں ٹریفک اژدھام ہر قابو پانے کیلئے مصروف عمل ہیں اسی طرح تحصیلدار بحرین شرافت بحرین پل پر، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر لطیف خان ریونیو سٹاف اور پولیس جوانوں کے ہمراہ مٹہ چوک پر، رجسٹرار شوکت خان مینگورہ بازار اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر حبیب بریکوٹ چوک پر ٹریفک انتظامات سنبھالے ہوئے ہیں یہی طریقہ کار باقی اضلاع میں بھی اپنایا گیا ہے جہاں ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ پولیس بذات خود ٹریفک انتظامات کی دن رات نگرانی پر مامور ہیں درایں اثناء ڈی آئی جی ملاکنڈ ڈویژن محمد سعید وزیر نے عیدالفطر کے دوسرے روز کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ریاض خان محسود سے کمشنر ہاؤس سیدو شریف میں ملاقات کی اور انہیں تمام اضلاع میں ٹریفک انتظامات سے متعلق پلان اور ترجیحات پر اعتماد میں لیا انہوں نے بتایا کہ عید پر ٹریفک پلان کو پہلی ترجیح بناتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور پولیس افسران نے عید کی چھٹیاں رضاکارانہ منسوخ کرکے ٹریفک انتظامات سنبھال لئے ہیں عید کے دوسرے روز دوپہر تک سیاحوں کی تیس ہزار گاڑیاں سوات میں داخل ہوئیں جن میں بیشتر نے بحرین کالام روڈ کا راستہ پکڑا جو زیر تعمیر بھی ہے اور اسکی وجہ سے جونہی تمام سیاحتی مقامات کی شاہراہوں پر رش ہونے لگا پولیس اور انتظامیہ بھی اسی تیزی کے ساتھ متحرک ہو گئی ایک ہزار پولیس جوان، دو سو لیوی اہلکار اور اتنے ہی شہری دفاع کے رضاکار ٹریفک انتظامات میں فوری جت گئے صرف بحرین کالام روڈ پر 170 سینئر ٹریفک اہلکار تعینات کر دئیے گئے ریسکیو 1122 کے جوانوں نے بھی سیاحوں کی خدمت کے جذبہ سے اپنی طبی اور ایمرجنسی سہولیات کالام تک بڑھا دی ہیں ہماری درخواست پر مدین اور بحرین سول ہسپتالوں میں طبی خدمات کیلئے ریسکیو کی دو اضافی ایمبولینس بھی پشاور سے پہنچ گئی ہیں اسی طرح فضا گٹ پارک میں پیشہ ور غوطہ خور تعینات کر دئیے گئے ہیں جو مختصر نوٹس پر دریائے سوات کے کسی بھی مقام پر پہنچنے کی سفری سہولیات سے لیس ہیں انہوں نے بتایا کہ فضا گٹ، کانجو چوک، مٹہ چوک اور بحرین بازار ٹریفک رش کے بڑے پوائنٹ ہیں جہاں گنجائش سے زیادہ گاڑیوں کی اچانک آمد کے سبب ٹریفک کی روانی سست پڑ گئی تاہم صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے کمشنر نے اس ضمن میں پولیس اور انتظامیہ کی انتھک کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ملک میں سیاحت کی صنعت کو ترقی دینے کیلئے اس جذبے کو وسیع تر قومی مفاد میں برقرار رکھا جائے گا اور اس کی بدولت سیاح بھی ان پرفضا وادیوں کی خوشگوار یادیں ساتھ لیکر اپنے گھروں کو بحفاظت واپس لوٹیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email