202

ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سےعمران خان نے صحابہ کی شان میں جو گستاخی کی ہے/جنرل سیکرٹری جے یو آئی حافظ انعام میمن

چترال ( محکم الدین ) امیر جمیعت العلما اسلام چترال مولانا عبد الرحمن اور جنرل سیکرٹری جے یو آئی حافظ انعام میمن نے کہا ہے . کہ ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سےعمران خان نے صحابہ کی شان میں جو گستاخی کی ہے . وہ نا قابل معافی ہے .اور ایسے نا اہل کو حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں . جو صحابہ کی شان اور مقام ومرتبے سے لا علم ہو . ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک مقامی ہوٹل میں میڈیا کے نمایندوں سے بات چیت کرتے ہو ئے کہی . انہوں نے کہا . کہ تبدیلی کے دعویدار نے ملک کو برباد کرکے رکھ دیا ہے . آج بجٹ کے نام پر لوگوں کو آئی ایم ایف کی تحویل میں دے دیا گیا . اور ٹیکسوں کی بھر مار اور ہوشربا منگائی کے باعث زندگی گزارنا ناممکن بن چکا ہے . اس لئے موجودہ حکومت کو چلتا کئے بغیر عوام کو ریلیف نہیں مل سکتی . مولانا عبدالرحمن نے کہا . چترال میں جماعت اسلامی اور جمیعت کا اتحاد مثالی ہے . اور ان دونوں جماعتوں کے اتحاد نتیجے میں ہمیشہ کامیابی حاصل کرتی رہی ہے . اس لئے مجھے یقین ہے . کہ مستقبل میں بھی ان دونوں مذہبی جماعتوں کے اتحاد کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا . اس حوالے سے چترال کے مخصوص حالات کا ادراک دونوں جماعتوں کے صوبائی اور مرکزی قائدین کو ہے . اور وہ چترال کی حد تک انتخابی اتحاد کے حوالے سے مقامی قیادت کے فیصلے پر متفق ہیں . انہوں نے کہا. کہ ایم ایم اے ملک گیر سطح پر قائم رہنی چاہئیے اور میں ذاتی طور پر اس کے حق میں ہوں . مولانا عبد الرحمن نے کہا . کہ گذشتہ الیکشن میں لوگوں نے ایم ایم اے کو بہت سپورٹ کیا . خصوصا اسماعیلی کمیونٹی کا کافی ووٹ ایم ایم اے کے امیدواروں کے حق میں استعمال ہوا . یہی وجہ ہے . کہ ایم ایم اے کے امیدواروں کو کامیابی ملی . انہوں نے کہا . کہ 2015 کے انتخابات میں میرا موقف صحیح تھا . لیکن یہ گھر کے اختلافات تھے . جنہیں اب دور ہونے چاہیں . چاہے وہ حلیف پارٹی جماعت اسلامی کے بھائیوں کے ساتھ پیدا ہوئے ہوں یا خود جمیعت کے ساتھیوں کی رائے سے متفق نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہوں . انہوں نے کہا . کہ میں عنقریب ان ساتھیوں اور دوستوں سے ملنے کیلئے گھر گھر جاوں گا . اور ان کے دلوں میں اگر خلش یا شکوے موجود ہیں . انہیں دورکرنے کی کوشش کروں گا. انہوں نے کہا . کہ عمران خان کا موجودہ بلدیاتی نظام ناقص ترین نظام تھا . اس عرصے میں ممبران ڈسٹرکٹ کونسل نے جو مصائب برداشت کئے .وہ ناقابل بیان ہیں . اب ایک اور بلدیاتی نظام متعارف کرنے کی بات کی جاری ہے . یہ لوگوں کو مزید مصائب و مشکلات سے دوچار کرے گا . اس نظام اور اس حکومت سے بہتری اور خیر کی توقع نہیں. اور موجودہ حالات میں بلدیاتی انتخابات بھی ممکن نظر نہیں آتے .

Print Friendly, PDF & Email