سکول کو کھولنا ہی کافی نہیں بلکہ ساتھ ساتھ لینگ لینڈ سکول اینڈ کالج کے اندر ہونے بڑے پیمانے پر کرپشن کے خلاف انکوائیری کی جائے/ایم این اے چترال کاپریس کانفرنس

چترال(بیورورپورٹ) سینئر سول جج چترال کی عدالت نے گذشتہ ایک ہفتے سے بند چترال کے معروف تعلیمی درسگاہ لینگ لینڈ سکول اینڈ کالج کو کھولنے کا حکم دے دیا ہے۔مس کیری کے حکم پر سکول کی غیر قانونی بندش کے خلاف طلباء کے والدین نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔دریں اثناء ممبرقومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر خان چترالی نے چترال پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عدالت کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے اُنہوں نے کہا کہ سکول کو کھولنا ہی کافی نہیں بلکہ ساتھ ساتھ لینگ لینڈ سکول اینڈ کالج کے اندر ہونے بڑے پیمانے پر کرپشن کے خلاف انکوائیری کی جائے اور شفاف انکوائیری کے لئے سکول کالج کے پرنسپل مس کیری اور شہزادہ سراج الملک کو گرفتار کئے جائیں۔اُنہوں نے کہا کہ سراج الملک اینڈ کمپنی سول سوسائٹی کی آڑ میں سکول کی 54چکوروم زمین ہتھیانا چاہتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ مس کیری اعزازی طور پر پرنسپل کی سیٹ پر کام کر رہی ہے جبکہ حالت یہ ہے کہ مس کیری کی قیام طعام کی مد میں 59لاکھ 75ہزار 121روپے بینک الفلاح کے اکاؤنٹ سے نکال کر شہزادہ سراج الملک کی ملکیتی ہوٹل (ہندو کُش ہائیٹس) کو ادا کئے گئے ہیں۔سکول کالج کے بورڈ آف گورنرز کے ممبران بھی چترال کے ایک ہی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں حالانکہ BOGکا چیئر مین سیٹنگ ڈپٹی کمشنر اور ممبران میں طلباء کے والدیں شامل ہونے چاہئے۔اُنہوں نے کہا کہ مس کیری کی طرف سے اساتذہ کے ساتھ انتقامی کاروائی کے سخت نتائج بر امد ہونگے۔ مولانا چترالی نے کہا کہ میں بہت جلد مشاورت کے بعد پشاور ہائی کورٹ میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ، چیف سکریٹری،کمشنر ملاکنڈ اور ڈپٹی کمشنر کے خلاف رٹ پٹیشن داخل کرونگا۔کہ اُنہوں نے اتنے بڑے ادارے کو چند لوگوں کے ہاتھوں میں کیون کر دئیے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email