30

دیکھو، سمجھو اور بولو۔۔۔۔تحریر ۔تقدیر ہ

کنفیوشسخان کے پاس اُسکا نو عمر شاگردآیا اور نصیحت کا طلب گارہوا۔ یہ شاگرد کوئی  معمولی لڑکا نہ تھا بلکہ عظیم چینی سلطنت کا ولی عہدتھا۔ بادشاہ ضعیف المعر تھا اور امور سلطنت چلانے سے قاصر تھا۔ مجلس نے فیصلہ کیا کہ بادشاہ سلامت شہزادے کے حق میں دستبردار ہو کر نوجوان بادشاہ کو اپنی نگرانی میں امور سلطنت چلانے کے گُر سکھلائیں۔ تاج پوشی سے پہلے شہزادہ اپنے اُستاد کی قدم بوسی کے لیے حاضر ہوا اور نصیحت کی استدعا کی۔ کنفیوشس نے صرف تین لفظ بول کر شہزادے کو رخصت کر دیا۔
کہا دیکھو اور مشاہد ہ کرو۔ پھر اچھی طرح سمجھ لو کہ حقیقت کیا ہے تا کہ غلطی کی گنجائش نہ رہے۔ جب اچھی طرح دیکھ اور سمجھ لو تو پھر فیصلہ کرو اور بولو۔شہزادے نے کہا حضور اس کے علاوہ کیا کروں؟ فرمایا یہ تین باتیں ایک بڑی سلطنت کے امور چلانے کے لیے کافی ہیں۔ ان پر غورکرو تو دیگر راہیں بھی کھل جائیگی اور راستے ہموار ہوتے جائینگے۔
ہمار ے دانشوروں کا خیال ہے کہ بلاول بھٹوزرداری، مریم صفدر، حمزہ شہباز شریف اور آصفہ بھٹو ہی اس ملک کا مستقبل ہیں اور مملکت خدا داد پران ہی شہزادوں اور شہزادیوں کو حکمرانی کا حق ہے۔ تقریباً یہی حال عوا م کا ہے جو خود کو زرداری اور شریف خاندان کی رعایا تصور کرتے ہیں۔
اب ذرا ان شہزادوں اور شہزادیوں کی تربیت پر غور کریں تو ان کے اُستاد آصف علی زرداری، میاں برادران اور اُن کے مشیران ہیں۔ زرداری خاندان کی تربیت شریں رحمان، قمر زمان کاہرہ، میاں رضا ربانی، محترمہ فریال تالپور، رحمان ملک اور دیگر کے ہاتھ ہے۔
حمزہ شہباز کو اپنے والد محترم کی تربیت ہی کافی ہے۔ وہ جس سٹائل سے حکمرانی کرنا چاہتے ہیں اس میں زیادہ ذہین و فطین ہونے کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ پٹواری، تھانیدار اور ٹھیکہ دار پیدائشی تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ وہ پیسہ کمانے اور حکمرانوں کو کھلانے کے ماہر ہوتے ہیں۔کک بیک اور کمیشن کے ماہرین زرداری اور شریف خاندان کے مشیروں میں شامل ہیں۔ مریم صفدر کی تربیت جگنوں محسن کے ہاتھ رہی اور جگنوں محسن کی تربیت اُن کے عظیم دانشور خاوند اور ماہر سیاسیات نجم سیٹھی کے ہاتھوں ہوئی۔ ویسے تو مریم صفد ر کے لیے جگنوں محسن اور نجم سیٹھی کی تربیت ہی کافی ہے مگر بعد میں اُن کے میڈیا سیل میں پرویز رشید، طارق فاطمی اور دیگر ماہرین ومدبرین نے بھی شمولیت اختیار کر لی۔ عرفان صدیقی تو سرکاری اُستاد ہیں اور اُستادی کا گُر بھی جانتے ہیں۔ میاں نواز شریف کی حمائت میں سعودی عرب کے خلاف ہلکا پھلکا کالم لکھنے پر سعودی سفارتخانے نے روٹی شوٹی پر پابندی لگا دی تو موصوف عرصہ تک کالما نہ معافیاں مانگتے رہے۔ مستنصر حسین تارڑ کی کتاب ”منہ ول کعبہ شریف کے“ کئی بار پڑھنے سے جو لطف آیا وہ عرفان صدیقی کی کتاب ”مکہ مدنیہ“ نے زائل کر دیا۔ صدیقی صاحب کے سارے حج اور عمر ے سرکاری او ر سفارشی نکلے۔ہر مضمون سعودی حکومت کے شکرانوں سے بھر پور تھا یا پھر حکومت پاکستان کی مہربانیوں سے مذکور تھا۔ مکہ مدنیہ صرف نام ہی ہے باقی سب نواز شریف ہے۔ استاد کی اپنی شان ہوتی ہے وہ طالب یا طالبہ کا غلا م نہیں ہوتا۔ قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ پاروتی کو سائیکل پر گھمانے پھرانے کا خیال آیا تو جیب خالی تھی۔ ایک ہندو سیٹھ کے گستاخ لڑکے کو انگریزی پڑھانے کے لیے ٹیوٹر بنا تو لاہور یے سیٹھ کا لڑکا گستاخی پر اترآیا۔ پہلے دن برداشت کیا اور دوسرے دن دروازہ بند کر کے شاگرد رشید کو پھینٹی لگا ئی تو ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوگیا۔بچہ نہ صرف اچھے نمبروں میں پاس ہوا بلکہ انتہائی سنجیدہ اور ملنسار بھی ہوگیا۔ مجھے سائیکل مل گئی تو پاروتی کو سائیکل پر بٹھا کر سارے لاہور میں پھرایا۔
سکندر اعظم کو دیو جانسن جیسے اُستاد کی رہنمائی ملی جس کے آگے افلاطون اور ارسطو جیسے دانشور سجد ہ ریز ہوتے تھے۔ سکندر تخت نشین ہوا تو سب سے پہلے دیو جانسن سے ملنے گیا۔ اُس روز دھوپ نکلی تھی اور دیو جانسن دیوا ر کیساتھ پشت لگائے دھوپ کامزہ لے رہاتھا۔ سکندر اعظم نے اُستاد کے قدم چومے اور ہاتھ جوڑ کر سامنے کھڑا ہو گیا۔ عرض کی کہ میں بادشاہ بن گیا ہوں کوئی خدمت بتائیے۔ جانسن نے اوپر دیکھا اور کہا فی الحال یہی خدمت ہے کہ آگے سے ہٹ جاؤ اور مجھے دھوپ لگنے دو۔
دورغ برگردن راوی، سنا ہے دانشور حسن نثار بھی ایک امیر کبیر سیاسی گھرانے کے شہزادے کے اتالیق رہے ہیں ورنہ کالم نگاری اور پروفیسری سے فارم ہاؤس نہیں بنتے۔ علامہ عنائیت اللہ مشرقی کے متعلق پڑھا ہے کہ دورہ انگلینڈ کے دوران وہ ملکہ برطانیہ سے ملنے چلے گئے۔ ملاقات کے دوران علامہ صاحب نے پوچھا کہ آپ سے ملنے تو بڑے بڑے لوگ آتے ہیں کیا آپ بھی کسی سے ملنے جاتی ہیں۔ ملکہ نے کہا، ہاں میں ہر اتوار کو اپنے استادوں سے ملنے جاتی ہوں۔ اُن کا حال احوال پوچھتی ہوں اور اگر کوئی کام ہو تو وہ بھی کرآتی ہوں۔ کچھ ہی عرصہ پہلے ریاض احمد سید نے نوائے وقت میں لکھا کہ بیرسٹر مصطفےٰ نواز کھوکھر نے کسی بات پر غصہ ہو کر اپنے پروفیسر صاحب کو تھپڑ رسید کر دیے اور پروفیسر شیخ مرتے دم تک اس صدمے سے بحال نہ ہوئے۔ اگرچہ بیرسٹر صاحب کے والد نے انہیں مٹھائی کا ٹوکرا اور پھولوں کا گلدستہ بھجوایا اور معذرت بھی کی مگر شاگرد کے ہاتھوں لگے زخم اُن کے دل و دماغ پر نقش ہو گئے۔
چینی، ایرانی اور یونانی بادشاہ تخت نشین ہونے سے پہلے اپنے استادوں کے ہاں جاتے اور قدم بوسی کے بعد نصیحت کی درخواست کرتے تھے۔ مغربی ممالک میں آج بھی استادوں کی عظمت کو سلام کیا جاتا ہے اور اُن کی عزت افزائی کی جاتی ہے۔
حال ہی میں جرمن چانسلر انجیلامرکل سے ڈاکٹروں اور انجینئروں نے تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کیا تو انجیلا مرکل نے ڈاکٹر کی تنخواہوں میں معمولی اور اساتذہ کی تنخواہوں میں بھاری اضافہ کردیا۔ پوچھا گیا کہ یہ کیوں ہوا۔ چانسلر نے کہا تمہیں ڈاکٹر،انجینئر اور سائنسدان ان ہی مقدس اور محترم ہستیوں نے بنایا ہے ورنہ تمہارے جیسے اور لوگ بھی تھے جو تم سے بہتر ہو سکتے تھے۔
حضرت علامہ اقبالؒ نے تب تک سرکا خطاب قبول نہ کیا جب تک اُن کے اُستاد مولوی میر حسین کو شمس العلماء کا خطاب نہ ملا۔ علامہ نے سرآرنلڈ پر نہ صرف طویل نظم لکھی بلکہ ساری عمر اُن سے رہنمائی حاصل کرتے رہے۔ ہمارے ہاں جیسے اُستاد ہیں ویسے ہی شاگرد بھی ہیں۔ بنیادی تعلیمی مراکز میں چوہدریوں کے مال مویشی باندھے جاتے ہیں اور سندھ میں وڈیروں کے ڈیرے قائم ہیں۔اُستاد سفارشی بھرتی ہوتے ہیں اور ہفتے یا مہینے میں ایک بار طالب علموں کی پٹائی کرنے آتے ہیں۔ الیکشن کے دوران سکولوں میں پولنگ اسٹیشن قائم کیے جاتے ہیں جہاں عام لوگوں کو ہانک کر لایا جاتا ہے اور ووٹ ڈلوایا جاتا۔ شاہی خاندانوں کے لوگ الیکشن جیت کر اسلام آباد آجاتے ہیں اور جی بھر کر قومی خزانہ کو لوٹتے ہیں۔ کرپشن پر نکالے جائیں تو ججوں کے خلاف اپنی عدالتیں لگا لیتے ہیں۔ ووٹ کو عزت دو اور مجھے کیوں نکالا جیسے نعرے تخلیق کیے جاتے ہیں جبکہ انہیں پتہ ہوتا ہے انہیں کیوں نکالا گیااور ووٹ اور ووٹر کی حیثیت کیا ہے۔
کشور ناہید نے اپنی تازہ تصنیف ”ہزار داستان“ میں میاں مٹھو کے عنوان کے لکھے گئے چپڑ میں میاں مٹھو سے سوال کیا ہے کہ مریم صفدر کو کوئی کتاب ہی دے دو، بولتی بہت ہے۔ میکاولی کی کتاب ہی سہی کچھ تو پڑھ لے۔ مطلب یہ کوئی تو عقل کی بات کر ے۔ کشور ناہیدشاید نہیں جانتی کہ میکاولی کے اُستاد چانکیہ کا شاگرد نریندرا مودی بھی میاں خاندان کی سیاست کو سلام کرنے جاتی عمرا کی زیارت کے لیے آیا تھا۔ بھٹو صاحب اور نہرو کا پسندیدہ سیاسی فلاسفر میکاولی ہی تھا۔ کہتے ہیں کہ میکاولی کی ”دی پرنس“ بھٹو اورنہرو کے تکیے کے نیچے ہوتی تھی۔ نہرو کا سیاسی لقب چانکیہ تھا جس کی وجہ سے دلی میں ڈپلو میٹک انکلیو کا نام چانکیہ نگر رکھا گیا ہے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو گرچہ میکاولین نہ تھیں مگر جناب زرداری اور میاں خاندان چانکیہ اور میکاولی کے بھی اُستادہیں۔
میکاولی لکھتا ہے کہ حکمران کو لومڑی کی طرح مکار اور شیر کی طرح خونخوار ہونا چاہیے۔ نواز لیگ کا تو انتخابی نشان ہی شیر ہے۔ میکاولی زندہ ہو تا تو وہ زرداری صاحب کو اپنا استاد مان لیتا اور جاتی عمرا کی گلیوں میں جھاڑو دیتا۔
دیکھا نہیں کہ خواجہ آصف ا ور پرویز رشیدجیسوں کو مریم نے کیسے ڈچ کیا ہے۔ میکاولی لکھتا ہے کہ حکمران کو سکندر طاؤس کی طرح بد عہدہونا چاہیے۔ اُسے چاہیے کہ عوام کا قانون کی آڑ میں شکار کرے۔ یہ چانکیہ اور میکاولی کی ہی تعلیمات کا اثر ہے کہ نیب کے قوانین نرم کرنے اور کرپشن کو قانونی تحفظ دینے پر ساری سیاسی جماعتیں متفق ہیں۔ کبھی دیکھا ہے یا عدلیہ کی تاریخ میں پڑھا ہے کہ سزا یافتہ قیدی بر گر کھانے اور گھومنے پھرنے لند ن چلا گیا ہو۔
محترمہ بے نظیر کی تربیت اُن کے والد اور والدہ نے کی جس کا اثران کی شخصیت پر تھا۔ محترمہ عابدہ حسین اپنی تنصیف میں لکھتی ہیں کہ سویٹ یونین کے دورے کے دوران بھٹو صاحب نے بے نظیر جو اُس وقت انگلینڈ میں زیر تعلیم تھی کوماسکو بلایا۔ دورے کے دوران وہ سرکاری و فد میں شامل ہوئیں اور خاموش آبزرور رہیں۔ اسی طرح بھٹو انہیں شملہ بھی لے کر گئے اور بعد میں انہیں فارن آفس میں آپرنٹس شپ دلوائی۔ یہ سب اچھی تربیت کا اثر تھاکہ محترمہ سوچ سمجھ کر بولیں اور اچھا بولیں۔
کشور ناہید لکھتی ہیں کہ بلاول جب سی این این اور بی بی سی والوں کیسا تھ انگریزی میں بات کرتا ہے تو اچھی باتیں کرتا ہے۔ جب لکھی اور رٹی رٹائی تقریر اردو میں کرتا ہے تو وہ اُسی کی زبان بولتا ہے جو اُسے میاں مٹھو بناتاہے۔ یہ ملکہ صرف قائداعظم کو ہی حاصل تھاکہ اُن کی انگریزی ان پڑھوں کے دل پر بھی چوٹ لگاتی تھی چونکہ وہ سچ بولتے تھے اور سوچ کر بولتے تھے۔
لوٹ مار کی دولت، تکبر، تشہیر سے کوئی بھی شخص قائد یا لیڈر نہیں بنتا اور نہ ہی دولت کا نشہ کھلی آنکھ سے دیکھنے، معاملات کو سمجھنے اور حقیقت کا جائزہ لیکر بولنے کی قوت دیتا ہے۔ ایسے لوگ سارا دن اور ساری رات ایف ایم ریڈیو کی طرح آٹو پر لگے رہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سننے والوں کو جب تک بریانی اور حلیم کی دیگوں سے خوشبو آتی ہے وہ بیٹھے سنتے رہتے ہیں اور بعض دیہاڑی لگانے یا پھر سیر کرنے بھی چلے آتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن کے جلسے اور دھرنے میں آنیوالوں کی بڑی تعداد نے سوائے اپنے علاقوں کے کوئی جگہ دیکھی نہ تھی۔مولانا اور میاں صاحب کے علاوہ نون لیگ کے حاتم طائیوں نے ان مسافروں کو جتنا جیب خرچ دیا تھاو ہ دوسرے دن ہی ختم ہو گیا۔ بہت سے لوگ مری کی سیر کو گئے اور باقی اسلام آباد کے پارکوں اور ہوٹلوں میں گھومتے پھرتے دکھائی دیے۔ چکن چپس اور برگر والے اپنے ٹھیلے لیکر دھرنا گاہ پہنچ گئے۔بلوچستان سے آئے سادہ لوح لوگوں کو اسلام آباد کے لوگوں خاص کر طالب علموں نے کھانے کھلائے اور جو گھر سے دوری کی وجہ سے ادا س تھے انہیں خرچہ اور کرایہ دیکر واپس بھجوادیا۔
اگر مولانا دھرنا ختم نہ کرتے تو یہ لوگ ویسے ہی واپس چلے جاتے۔ مریم صفد ر کے جلسے کی پہلے فہرستیں بنتی ہیں۔ انتظامات ہوتے ہیں اور پھرلوگ آتے ہیں۔ قائداعظم کے بعد بھٹو کے جلسوں میں لوگ خود آتے تھے اور کئی کئی روز پہلے ہی جلسہ گاہ میں کیمپ لگا لیتے تھے۔ مقامی قیادت بھی نودولتی اور کھرپ پتی نہ تھی۔ یہ لوگ حسب توفیق دال روٹی کا بندوبست کرتے یا پھر کارکن خرچہ لیکر گھر سے چلتے تھے۔
اب جلسے کے بعد ریٹنگ ہوتی ہے کہ کتنی کرسیاں لگیں اور کتنے لوگ لائے گئے۔ پندرہ کروڑ کا ٹکٹ خریدنے والا اسمبلی کی سیٹ کا اُمیدوار دو چار کروڑ خرچنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرتا۔ جنہوں نے پارٹی کی رحمدلی سے دو چار ارب کما رکھے ہوں وہ دس بیس کروڑ مریم صفدر اور بلاول کے قدموں پر نچھاور کر دیں تو دولت میں کمی نہیں آتی۔
ایسی صورت حال میں قیادت کو سوچنے، سمجھنے کی کیا ضرورت ہے؟ جب یا وہ گوئی کو فکر و فلسفے کا نام دیا جائے اور بھو نپو قائدین کہلانے لگیں تو اُستاد کی بھی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ اُستادی اب اتنی ہی ہے کہ شہزادوں اور شہزادیوں کو مکر وفریب، طعنہ زنی، چیخ و چنگاڑ، یا وہ گوئی، روایات سے گری ہوئی گفتگو، جھوٹ اور فراڈ کا فلسفہ، دولت کی نمائش اور پھر زرخرید صحافیوں کے ذریعے اس علم لغویات کی تشہیر کے گر سکھلائے جائیں۔ گوبلر کا قول ہے کہ جھوٹ اتنی ڈھٹائی سے بولو کہ عام لوگ اسے سچ سمجھنے پر مجبور ہو جائیں۔
پرنٹ اور کرنٹ میڈیا پر تو پیسہ لگایا جاسکتا ہے اور نامور صحافیوں کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں مگر سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنا مشکل ہے۔ میاں صاحب کی حکمرانی میں مریم صفدر میڈیا گروپ نے انت مچار کھی تھی مگر دوسری جانب مخالفین بھی بے انت تھے۔ دیکھا جائے تو دونوں جانب سے بے اُستاد ے اُستادوں کے شاگرد تھے۔ جب اُستادوں کا اپنا کوئی اُستاد نہ ہو تو اُن کے شاگر دایسے ہی ہوتے ہیں جنہیں قوم 21ویں صدی میں اپنا قائد، لیڈر اور حکمران تصور کیے امن، عزت اور خوشحالی کی اُمید لگائے بیٹھی ہے۔
خلیل جبران کی نظم ”درویش اور شیطان“ ایسے ہی اُستادوں اور شاگردوں کے متعلق ہے۔ جب دل اور دماغ بوجہ عقل وسمجھ سے خالی ہو جائیں تو شیطان خالی برتن بھر دیتا ہے جس کی وجہ سے دیکھنے، پرکھنے، مشاہدہ کرنے، سوچنے، سمجھنے اور پھر تمام ترپہلوؤں پر غور کرتے ہوئے بولنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ خلیل جبران ایسے اُستادوں پر اظہا ر افسوس کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے ایسے استادوں پر رحم آتا ہے جو چند لفظوں کے بدلے میں بھکاریوں کی طرح ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ذہین وفطین شاگردوں کے متعلق کہتا ہے کہ That which we call Intelligence in the mind of some people is but a local inflammation.
ہماری مجبوری ہے کہ ہمیں اسی معاشرے میں رہنا ہے جہاں علم برائے فروخت اور عقل برائے رعونت ہے۔ اب اُستادوں میں جرأت نہیں کہ وہ شہزادوں اور شہزادیوں کو دیکھنے، سمجھنے اور سمجھ کر بولنے کی تلقین کریں۔ اچھے استادوں کو صدیوں پہلے سعدیؒ نے نصیحت کرتے ہوئے کہا ”خدمت یک سگ نہ از آدم کمزادرا۔۔۔آدم کمزاد گر عاقل شود گردن زند استاد را“۔

Print Friendly, PDF & Email

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں