80

ٹی او آئی نور نواز کے خلاف بعض ٹھیکیداروں کی طرف سے لگائے گئے کرپشن کے الزامات کو من گھڑت بے بنیاد/ٹھیکہ داروں کاپریس کانفرنس

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال نیوز) چترال کے کنٹریکٹرز صلاح الدین،اسرار الدین،کفایت اللہ، سرفرازالدین، شجاع، اصلاح الدین وغیرہ نے ٹی او آئی نور نواز کے خلاف بعض ٹھیکیداروں کی طرف سے لگائے گئے کرپشن کے الزامات کو من گھڑت بے بنیاد اور حقیقت کے بالکل بر عکس قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسے دوبارہ ٹی ایم اے چترال میں اپنے پوسٹ پر واپس لایا جائے۔ چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹی او آئی نور نواز ایک دیانتدار اور ایماندار آفیسر ہیں۔ جس نے ہمیشہ اپنی سرکاری ذمہ داریوں کو پوری دیانتداری کے ساتھ انجام دی اور کرپشن کو اپنے پاس نہ پھٹکنے دی۔ٹھیکہ داروں نے کہا کہ تاج رسول اور رحمت آیازٹھیکہ ڈار نے نور نواز ٹی او آئی (ٹاون افیسر انفراسٹرکچر اینڈ سروسز) کے جعلی دستخطوں سے کیلاش ویلی میں ڈیزاسٹر فنڈ 2015سے نوئے لاکھ روپے نکالے۔ جس کی نشاندہی پرٹی او آئی کے خلاف پریس کانفرنس کی گئی اور اسے راستے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ جس پر اُس کا تبادلہ ہوا۔ٹھیکہ داروں نے کہا کہ ٹی ایم اے کے اندر جعلی دستخطوں سے نوے لاکھ روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔ جس میں انجینئر سیف الرحمن براہ راست ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی او آئی نور نواز کو سنے بغیر اس کا تبا دلہ کرنا زیادتی اور نا انصافی ہے۔ جبکہ سیف الرحمن انجینئرگریڈ 16کو گریڈ17کے برعکس لگایا گیا ہے جبکہ سیف الرحمن انجینئر نے چترال میں چار سال کا ٹینیور پورا کیا ہے۔27جنوری2020 کو اُن کا تبادلہ ٹی ایم اے واڑی ہوا تھا اور 33دنوں کے بعد اُسے واپس ٹی ایم اے چترال میں ٹی او ائی کے پوسٹ پر تعینات کیا گیا۔جس میں ٹی او آئی بننے کی اہلیت ہی نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا۔ کہ وہ نور نواز کی حمایت نہیں کرتے بلکہ نا انصافی کے خلاف میدان میں آئے ہیں۔ اگر نور نواز بھی کرپشن میں ملوث ہے۔ تو اس کے خلاف بھی کاروائی کی جائے۔ تاہم ہمیں یقین ہے۔ کہ وہ ایک دیانتدار آفیسر ہیں۔ اور وہ کرپشن سے پاک ہے۔

Print Friendly, PDF & Email