90

کرونا وائرس۔۔۔امدادی فنڈ۔۔۔۔۔ نغمہ حبیب

کرونا وائرس نے پوری دنیا میں تباہی مچائی ہوئی ہے۔ اس وائرس نے نہ صرف غریب ملکوں اور غریب لوگوں کو متاثر کیا اور کسی تخصیص کے بغیر امیر لوگوں اور ملکوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا بلکہ اس وقت ترقی یا فتہ یورپ اور امریکہ اس سے بُری طرح متاثر بھی ہیں اور بوکھلائے ہوئے بھی۔پوری دنیا میں ہر روز ہزاروں اموات ہو رہی ہیں اور بیس ہزار سے زائد لوگ جان کی بازی ہار چکے ہیں۔دنیا پلٹ پلٹ کر اللہ تعالیٰ سے رجوع کر رہی ہے اور دعائیں مانگ رہی ہے، دیکھئے کب حکم الٰہی ہوتا ہے اور اس آفت سے دنیا کو نجات ملتی ہے تاحال نہ تو کوئی ویکسین بن سکی ہے نہ کوئی دوااور ڈاکٹر مختلف دواؤں کو ملا جُلا کر آزما رہے ہیں جس کی زندگی ہوتی ہے اس پر کوئی دوا کارگر ثابت ہو جاتی ہے ورنہ انسان اپنی بے بسی کا تماشہ دیکھتا ہے اور ڈاکٹر تمام تر کو ششوں کے باوجود انسانی جان کو ہاتھ سے نکلتے ہوئے دیکھ لیتے ہیں اور موت بھی ایسی کہ اسّتغفراللہ، بقول غالب کے اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو۔اس بیماری نے انسان کو سمجھا دیا ہے کہ وہ تارعنکبوت یعنی مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور اور بے بس ہے جو ایک اَن دیکھے ذرّے سے مار کھا رہا ہے۔شروع میں تو دنیا اپنی معیشت کا رونا روتی رہی لیکن اب معیشت کو ایک طرف رکھ کر زندگی بچانے کی فکر میں مبتلاء ہے۔امریکہ خود کو زمین پر نعوذباللہ خدا سمجھنے والا فی الحال تمام حربے آزما کریوم دعا منانے لگا ہے۔یہ اُن حالات کا ایک سر سری جائزہ ہے جن سے انسان گزر رہا ہے جس کی تفصیل ہر ایک جانتا ہے۔ پاکستان بھی اس وبا ء سے نہ صرف یہ کہ محفوظ نہیں بلکہ بڑی تیزی سے اس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجوہات میں عوام کی بے احتیاطی سر فہرست ہے۔ شروع شروع میں تو اس بیماری سے کئی لطیفے جوڑے گئے اور خوب مذاق اڑایا گیا گویا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی سرٹیفیکیٹ جاری کیا گیا ہو کہ یہاں یہ بیماری نہ آئے گی نہ تبا ہی پھیلائے گی لیکن پہلا کیس 26فروری کو رپورٹ ہونے کے بعد بڑی تیزی سے پھیلتے ہوئے کرونا کے کیسز گیارہ سو سے اوپر ہوچکے ہیں عوام کے اس لاپرواہ رویے کے ساتھ ساتھ حکومت نے بھی شروع کے اچھے اقدامات کے بعد جس میں چین سے پاکستانیوں کو واپس نہیں لایا گیا زیادہ ذمہ داری کا ثبوت نہیں دیا اور تفتان کے راستے ایران سے آنے والے زائرین کو یا تو آندھا دھند ملک کے اندر آنے دیا گیا یا قرنطینہ میں ناکافی وقت کے لیے رکھ کر کچھ لوگوں کو وہاں سے نکالا گیا بہرحال جو بھی ہوا پاکستان میں سب سے پہلے انہی میں اور پھر ان سے ملنے والے لوگوں میں یہ وائرس پا یا گیا۔اسی طرح بیرونی ملک سے آنے والے دیگر لوگوں میں بھی یہ وائرس پایا گیا یعنی ائیرپورٹس پر اُن کی اُس طرح سکرینگ نہیں کی گئی جیسے کہ ایک عالمی وباء کی صورت کی جانی چاہیے تھی جس میں مردان میں انتقال کرنے والے سعادت خان جیسے لوگ شامل تھے۔اطلاعات کے مطابق اس سے ملنے والے اس کے علاقے میں انتالیس دیگر افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا کی خبروں کے مطابق کچھ مریض ہسپتال سے فرار بھی ہوئے ان مریضوں کی نفسیاتی جانچ بھی ضروری ہے تاکہ دیگر مریضوں کو اس خوف سے نکالا جا سکے۔ اس وقت کرونا کے کیسیز کی تعدادمسلسل بڑھ رہی ہے جو یقینا تشویشناک امر ہے۔ ایسے میں حکومت کا لاک ڈاؤن میں دیر کرنا کسی بھی طرح مناسب نہیں اور یہ لاک ڈاؤن صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے جیسا کہ اس وقت ہے، اس کا سلسلہ چھوٹے شہروں تک جلد از جلد پھیلا دینا چاہیے اور عمل نہ کرنے کی صورت میں مخصوص علاقوں سے شروع کر کے کرفیو بھی لگانا پڑے تو لگا دینا چاہیے تاکہ لوگوں کو معاملات کی سنجیدگی کا احساس دلایا جا سکے۔وزیراعظم لاک ڈاؤن سے احتراز کی وجہ دیہاڑی دار مزدور بتاتے ہیں تو بات یہ ہے کہ اِن دنوں لوگ ویسے بھی کسی غیر کو گھر میں آنے کی اجازت نہیں دے رہے تو یوں ان کی مزدوری خود بخود ختم ہو چکی ہے۔حکومت نے ابتدائی اقدام کے طور پر ان لوگوں کے لیے تین ہزار روپے ماہانہ بطور گزارہ الاؤنس دینے کا اعلان کیا ہے جو کسی بھی طور کافی نہیں تاہم حکومت کے لیے بھی شاید اس سے زائد دینا مشکل ہو۔یہاں یہ یاد کرانا ضروری ہے کہ پاکستانی وہ قوم ہے جو کسی بھی مشکل کے وقت یکجا ہو جاتی ہے 2005 کا زلزلہ اور2007-8 میں آئی ڈی پیز کا مسئلہ 2009میں کے پی کے میں سیلاب بالکل ہی ماضی قریب کی مثالیں ہیں جب کہ اس بارکسی ایسی امداد کا اعلان نہیں کیا گیا اگرچہ انفرادی طور پر کچھ فون نمبر سوشل میڈیا پر وائرل ضرور ہوئے ہیں کہ اشیائے ضروریہ کے لیے رجوع کیا جا سکتا ہے لیکن بڑے پیمانے پر ایسا کچھ نظر نہیں آرہا اس کی میرے خیال میں دو وجوہات ہو سکتی ہیں اولاََ یہ کہ اس آفت کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہااور یہ حضرات یا ادارے یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس کو خواہ مخواہ زیادہ اہمیت دی جارہی ہے یا یہ کہ ابھی تک کام چل رہا ہے تو چلتا رہے گا ثانیاََ یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے بلکہ گمان غالب ہے کہ بڑی وجہ یہی ہے کہ عوام کا حکومتوں پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے پچھلی حکومتوں کے ریکارڈ پر تو بہت کچھ ہے لیکن ڈیڑھ سال کے قلیل عرصے میں یہ حکومت بھی ایک تجربہ کر چکی ہے بلکہ عوام اس کا تجربہ کر چکے ہیں،جب ڈیم فنڈ مانگا گیااور پھر کچھ پتہ نہ چلا کہ دیا گیا روپیہ پیسہ کہاں گیا اگر چہ جمع شدہ رقم سے ڈیم نہیں بن سکتا تھا لیکن کوئی دوسرا منصوبہ شروع کیا جا سکتا تھا۔حکومت کو اعلان کرنا چاہیے تھا کہ ڈیم کے لیے جمع شدہ رقم چونکہ ڈیم کے لیے ناکافی ہے لہٰذا اس رقم سے ”یہ“ منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے تا کہ عوام کا پیسہ عوام پر ہی خرچ کیا جا سکے اگر چہ عوام اپنا اعتبار کھو چکے ہیں لیکن پھر بھی حکومت اگر کرونا وائرس اَپ ڈیٹس کے لیے بنائی گئی ویب سائٹ پر ہی کرونا فنڈ کو جگہ دے دے جس میں ہر روز اکٹھی ہونے والی رقم کا حساب کتاب عوام دیکھ سکے اور ہر بندہ جو فنڈ جمع کر ارہا ہو وہ اپنی جمع شدہ رقم بمعہ نام اور چیک نمبر دیکھ سکے اور پھر اس سے کرونا سے متعلق مختلف اخراجات کے لیے نکالی گئی رقم بھی دیکھ سکے یعنی ہر روز اکٹھی ہونے والی رقم کا حساب کتاب دیکھا جا سکے او راس کی تقسیم کا ریکارڈ بھی ہر روز اَپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے تاکہ دینے والے کو معلوم ہو کہ اس کی جیب سے جس مقصد کے لیے پیسہ نکلا وہ مقصد پورا بھی ہوا۔یہ تو حکومتی سطح پر بات تھی جو کہ زیادہ بہتر راستہ ہے اگر درست طور پر ہوجائے لیکن یہی کا م عوامی سطح پر ہو یا بڑے ادارے یا گروپس بھی اس کو کر لیں تو بھی کوئی مضائقہ نہیں بس حق حقدار تک ہی پہنچے۔دوسری اہم بات کہ ایسی وباء سے نمٹنا ہمارے جیسے غریب ممالک میں صرف حکومت کے بس کی بات نہیں بلکہ امیر ممالک بھی اس کے آگے بے بس نظر آرہے ہیں تو ایسے میں ان مخیر حضرات کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ آگے بڑھ کرکم حیثیت لوگوں اور حکومت کی مدد کرے مثلاً ٹیسٹ کیٹس وغیرہ منگوائیں مفت یا کم نرخ پر عوام کو ٹیسٹ کی سہولت فراہم کریں، جو وینٹی لیٹر منگواسکیں چاہے ایک یا دو ہی سہی وہ منگوا کر ہسپتالوں کو عطیہ کردیں ماسک اور دستانے ہی مہیا کردیں،ڈاکٹروں کے حفاظتی لوازمات جس حد تک ممکن ہوکا انتظام کردیں تاکہ یہ لوگ بے خطر اپنا کا م کر سکیں۔ اس بات کا احساس کرنا ہوگا کہ یہ ایک وباء ہے اور وبا ء سے نمٹنا سب نے مل کر ہوتا ہے ہے لہٰذاہر ایک اپنا حصہ ڈالے۔ عوام کاکام احتیاط کرنا ہے، ڈاکٹر کا علاج،حکومت کا بندوبست کرنا اور صاحب حیثیت لوگوں کا آگے بڑھ کر اس انتظام اور بندوبست میں اپنا اپنا حصہ ڈالنا جب سب اپنے حصے کا کام کریں گے اور اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوجائے تو ہم نہ صرف خود اس عفریت پر قابو پالیں گے انشاء اللہ بلکہ دوسروں کی مدد بھی کر سکیں گے۔ آخر میں یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مشکل گھڑی میں ہماری، ہمارے ہر ہموطن کی ہر مسلمان کی اور ہر انسان کی مدد کرے، آمین۔

Print Friendly, PDF & Email