126

چترال پرائیویٹ سلولز فیڈریشن نے یکم جون کو حکومت ایس او پی کے تحت تمام تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کرے؛۔ر وجیح الدین و دیگرعہدے داروں

چترال(نمائندہ ) پرائیویٹ ایجوکشنل انسٹیٹیوشن منجمنٹ ایسوسی ایشن ضلع چترال کے صدر وجیح الدین نے دیگرعہدے داروں مسرور علی شاہ،مولانا حسین احمد،سیدی،یار محمد اورشیر حیدر کے ہمراہ چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائیرس کی عالمی وباء سے جہان دیگرمعمولات زندگی متاثر ہوا وہان سب سے زیادہ نقصان پاکستان کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا ہوا ہے۔13مارچ 2020سے تمام تعلیمی ادارارے بند کر دئیے گئے ہیں جس کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیان معطل ہیں۔خیبر پختونخوا کے تقریباً 8600سکولز کے چوبیس لاکھ طلبہ و طالبات کا تعلیمی مستقبل اور ایک لاکھ پچاس ہزار ملازمیں کا معاشی مستقبل داؤ پہ لگا ہوا ہے۔یہ پرایؤیٹ سکولز اپنے محدود وسائل کے باوجود سرکاری سکولوں کے شانہ بشانہ معیاری تعلیم کے میدان میں مصروف عمل ہے۔اور معاشرے میں اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔90فیصد سکولز فیسوں سے حاصل ہونے والی امدن سے مشکل سے گزارہ کر رہے ہیں۔اور اس پوزیشن میں نہیں کہ اپنے سٹاف کو تین چار مہینوں کی تنخواہ دے سکیں۔اُنہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے ماضی میں جنگ عظیم کے دوران بھی بند نہیں کئے گئے تھے۔کرونا وائیرس کے بچاؤ کے احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے بہت پہلے تعلیمی ادارے کھولنے چاہیے تھیں۔پرائیویٹ سکولز نے انٹر نٹ کے زریعے آن لان ٹیچنگ کی کوشش کی مگر انٹر نٹ کے ناقص سروس کی وجہ سے اس پر عمل نہ ہو سکا۔اُنہوں نے کہا کہ وہ اپنے سٹوڈنٹس کے فیسوں میں 10فیصد کمی کا اعلان پہلے سے کر چکے ہیں۔اُنہوں نے حکومت سے پُر زور مطالبہ کیا ہے کہ یکم جون2020سے کرونا وائیرس کی وباء پر احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے SOP کے تحت سکولز کھولنے کا اعلان کیا جائے۔پرایؤیٹ تعلیمی اداروں کو اپنے پاؤں پر دوبارہ کھڑا کرنے کے لئے حکومت عملی اقدامات اُٹھاتے ہوئے خصوصی امدادی پیکچ کا اعلان کرے۔اُنہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ فرنٹئیر ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور ایلیمنٹری ایجوکیشن فار آل کو فعال بنایا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email