27

عرب لیگ کا انکار……ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

دو بڑی خبریں آگئیں اور مو ٹروے والے وا قعے کی گرد میں دب گئیں کسی نے تو جہ ہی نہیں دی ایک خبر یہ ہے کہ عرب لیگ نے متحدہ عرب اما رات کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فیصلے کی مذمت کر نے سے انکا ر کر دیا مذمت کی قرار داد فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے پیش کی گئی تھی عرب لیگ نے صاف انکار کر دیا دوسری خبر یہ ہے کہ متحدہ عرب اما رات کے بعد بحرین نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کر لئے اگر عرب کے ستارے اس طرح گرتے رہے تو ایک دن مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے ساتھ سب کی پکی دوستی ہو گی ہم جس مو قف کو اصولی مو قف کہتے ہیں عرب شیو خ اس کے لئے ”وصو لی مو قف“ کی تر کیب استعمال کر تے ہیں یعنی جس مو قف پر کچھ وصول نہ ہو وہ کوئی موقف ہی نہیں عرب لیگ اور گلف کو اپریشن کونسل مشرق وسطی کے عرب شیو خ کی دو تنظیمیں ہیں دو نوں پر سات سمندر پار بیٹھے ہوئے دوستوں کا سایہ ہے جس دن یہ سایہ سر سے اتر گیا دونوں تنظیمیں ارگنا ئزیشن آف اسلا مک کا نفرنس (OIC) کی طرح یتیم ہو جائینگی مسلمان مما لک کی تینوں تنظیموں نے افغا نستان اور سویت یو نین کے دفا عی معا ہدے کے خلا ف ایک سال کے اندر تین اہم اجلا س منعقد کر کے اس معا ہدے کی مذمت کی پھر افغا نستان میں سویت یو نین کی مدا خلت کے خلا ف سات غیر معمولی قراردادیں منظور کیں مگر 12سال بعد سعودی عرب سے لیکر کویت، عراق اور متحدہ عرب اما رات میں امریکہ نے فو جی اڈے قائم کئے تو اس کے خلاف کوئی قرارداد منظور نہیں ہوئی فلسطینیوں کے حق سے انکار کی یہ پہلی مثال تھی پشاور میں ایک واقعہ مشہور ہے ایک آدمی کو 3بندے زمین پر پچھاڑ کر ما ر رہے تھے دو بندوں نے آکر اس کو چھڑا یا زمین سے اُٹھا کر دیکھا تو اس کی کمر سے پستول بھی بند ھا ہوا تھا کارتوس بھی رکھے ہوئے تھے ایک بندے نے پو چھا یہ پستول تم نے کس لئے رکھا ہو اہے؟اُس نے مونچھو ن کو تاؤ دیتے ہوئے کہا زمانہ خراب ہے کوئی میری بے عزتی کرے گا تو یہ پستول کام آئے گا عربوں کی دولت اور ان کا اسلحہ بھی ایسا ہی ہے سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور نے حرمین شریفین سمیت پورے ملک کی مسا جد کے لئے جمعہ کا نیا خطبہ جاری کیا ہے جس میں میثاق مدینہ کی روشنی میں یہو دیوں کے ساتھ صلح صفا ئی اور دوستی پر زور دیا گیا ہے گویا مسا جد کے ذریعے رائے عامہ ہموار کی جا رہی ہے کہ کسی سہانی صبح کو اسرائیل کے ساتھ سفا رتی تعلقات کی خبر آجائے تو کسی کو حیرت،تعجب اور ننگ یا حمیت محسوس نہ ہو عرب شیو خ کے مو جودہ رویے کی مثال ایک باد شاہ کے درباریوں کی ہے باد شاہ نے ایک بڑا حوض تیا ر کر وایا حوض جب تیار ہوا تو دربار یوں سے کہا آج رات ہر ایک اپنے گھر سے دودھ کا مٹکا لا کر حوض میں ڈالے گا تا کہ صبح تک حوض دودھ سے بھر جائے ایک در باری نے سوچا سارے لوگ دودھ لا کر حوض میں ڈالینگے اگر میں دودھ کی جگہ پا نی ڈالوں گا تو اس کا پتہ بھی نہیں لگے گا چنا نچہ اُس نے حوض میں دودھ کی جگہ پا نی ڈال دیا، صبح سویرے باد شاہ حوض پر آیا تو حو ض دودھ کی جگہ پا نی سے بھرا ہوا تھا کیونکہ در باریوں میں ہر ایک نے یہی سو چا تھا کہ میں اگر اس میں پا نی ڈا لوں گا تو پا نی کا پتہ بھی نہیں لگے گا یہ باد شاہ کے در باریوں کی ذہنی کیفیت اور ان کی ایمانداری یا صدا قت کی اصلی حا لت تھی آج اسرائیل کے مقا بلے میں مسلما ن ملکوں کی یہی کیفیت ہے عرب شیوخ کی یہی حا لت ہے، ہر ایک سوچتا ہے دوسروں نے تسلیم نہیں کیا میرے تسلیم کر نے سے کیا فرق پڑے گا؟ متحدہ عرب اما رات نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحا لی کا معا ہدہ کر نے کے بعد ایک بیان بھی جاری کیا تھا بیان میں اس بات کا ذکر تھا کہ ہماری حکومت فلسطینیوں کو تنہا نہیں چھوڑ یگی اور فلسطینیوں کے حقوق پر کوئی سمجھو تہ نہیں کرے گی سوئے اتفاق یہ ہے کہ متحدہ عرب اما رات کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فیصلے کا پہلا اعلا ن وا شنگٹن میں وائٹ ہاوس سے ہوا تھا اب بحرین کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فیصلے کا اعلا ن بھی وائٹ ہاوس سے ہوا ہے اور یہ بھی سوئے اتفاق ہے کہ امریکی صدارتی انتخا بات میں ڈیڑھ ما ہ کا عرصہ رہ گیا ہے ان 6ہفتوں میں مزید دوچار عرب ملکوں کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے اعلا نا ت وائٹ ہاوس کی طرف سے نشر ہوئے تو امریکی ووٹر وں کی نظروں میں ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبو لیت کا گراف بلند ہو جائے گا اور امریکہ میں بظا ہر غیر مقبول صدر ٹرمپ کے لئے دوسری مدت کی صدارتی دوڑ کو جیتنا آسان ہو جائے گا گذری ہوئی نصف صدی کے اندر دنیا کے مسلمان ممالک کو عالمی فورموں پر دو مسائل پر اپنا مو قف دوٹوک انداز میں بیان کرنے کی ضرورت ہو اکرتی تھی ایک مسئلہ کشمیر کا تھا دوسرا مسئلہ فلسطین کا تھا اگر گذشتہ ایک سال کے اندر دونوں مسائل کے حوالے سے ہونے والی عالمی پیش رفت پر ایک نگا ہ ڈالی جائے تو معلوم ہو تا ہے کہ مسلمانوں کو میٹھا زہر یا سلو پوائز ن (Slow Poison) دے کر دونوں مسائل سے جان چھڑا نے کی کو شش کی گئی ہے اور اسلا م دشمن قو توں کو اس میں کا میا بی ملی ہے فلسطینیوں کی طرف سے متحدہ عرب اما رات اور اسرائیل کے معا ہدے کی مذمت میں قرار داد کو منظور کرنے سے انکار کر کے عرب لیگ نے ثا بت کیا ہے کہ عربوں کی کوئی تنظیم اب فلسطین اور کشمیر کے لئے آواز نہیں اُٹھا ئیگی۔

Print Friendly, PDF & Email