43

غدار کون…تقدیرہ خان

بہت غدر کرنے والا،نہایت بیوفا، سرکش،یعنی ملک اور معاشرے میں فسادپھلانے والا،باغی یعنی حکومت وقت کے خلاف بغاوت کرنے والاجو یہ کام بد نیتی یا پھر کسی ملک دشمن کی اعانت کے لئے کرئے۔ نمک حرام جو کسی شخص، معاشرے یا ریاست سے ایک عرصہ تک فوائد حاصل کرتا رہے۔ ان کے ٹکڑوں پر پلتا رہے اور پھر ان ہی کی پیٹھ میں چھراگھونپ دے یا پھر جب اس کے محسنوں پر کوئی مصیبت آئے تو وہ اپنا بوریا بستر لپیٹ کر دشمن کا آلہ کار بن جائے۔ بہت بڑا منافق۔ وسیع سوچ کا مالک جس کا رہبر شیطان اور شیطانی قوتیں ہوں۔ جس کی حرص،ہوس کا اندازہ کرنا مشکل ہو۔ جو اُس کے ہاتھ لگے وہ لے اُڑے اور پھر اپنے بد کردار اور بد کلام پر ڈٹ جائے۔ایسا شخص یا اشخاص جن کے مفادات یکساں ہوں وہ لغت کے مطابق غدار شہر، غدار وطن اور غدار قوم کہلواتے ہیں۔” فرہنگ آصفیہ۔جلد سوم۔صفہ “318 اردو کی سبھی لغات میں لفظ غدار کے یہی معنی ہیں۔ تشریح میں بیاں ہے کہ جیسے کوئی فوجی آفیسر، دستہ یا کچھ حصہ عین میدان جنگ میں بے وفائی، بد عہدی، نمک حرامی اور کینہ پروری یا پھرذاتی مفاد، اپنے کمانڈر یا لیڈر سے عناد، لالچ،ہوس اقتداریا ذیادہ مراعات کے حصول کی خاطر اس فعل کا مرتکب ہو جس سے ملک، قوم اور مسلح افواج کو خاطر خواہ نقصان پہنچے۔
یہ بھی لکھا ہے کہ ایسا شخص یا گروہ جو امانت میں خیانت کرئے اور عام لوگوں کو چکمہ دے کر ان کا مال و دولت لوٹ کر فرار ہو جائے تاکہ معاشرے اور ریاست میں بسنے والے لو گ مفلس اور معذورہو کر غلامانہ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ تاریخ میں ایسے بیسیوں کردار ہیں جو ان افعال کے مرتکب ہوئے اور مورخین نے انہیں غدار، وطن دشمن، قومی مجرم،خائن اور معاشرتی ناسور لکھا ہے۔ پاک و ہند کی تاریخ میں بھی غداروں کی طویل فہرست موجود ہے جن میں نمایاں کردار میرجعفر، میر صادق، پورنیا،دولت خان لودھی کے بعد پنجاب کے کچھ گدی نشینوں اور پوٹھوہار کے قبائلی سرداروں کے ہیں۔ سابق صوبہ سرحد کے کچھ قبائلی سردار اور خوانین جنہوں نے سیّد احمد شہید کے خلاف سکھوں کا ساتھ دیااور مراعات حاصل کیں وہ بھی اس زمرے میں آتے ہیں۔جنڈول کے خان عمرا خان کے بھائی نے اپنے ہی بھائی کے ساتھ غداری کی اور انگریزوں کے ہاتھوں بک گیا۔ہوتی کی مشہور مغنیہ اور رقاصہ شکورن انگریزوں کی ایجنٹ تھی۔ شک گزرنے پر عمرا خان نے اسے اغوأ کیا ور قتل کروا دیا۔
غدار کشمیر شیخ عبداللہ سے کون واقف نہیں۔ آج کشمیر اسی غدار کی سلگائی ہوئی آگ میں جل رہا ہے۔ ہماری قومی تاریخ کا سب سے بڑا اور بھیانک کردار شیخ مجیب الرحمن ہے جسے بھارت،امریکہ، برطانیہ اور دیگر پاکستان دشمن اقوام اور ممالک کی مکمل حمائت حاصل تھی۔ شیخ مجیب کے اس غدارانہ فعل میں شامل دیگر کرداروں نے قائدانہ بہروپ اپنایا تو ہماری قوم نے انہیں بھی مسیحا مان کر ان کی پوجا شروع کر دی جو تا حال جاری ہے۔میاں شریف کے خاندان کی تاریخ دیکھی جائے تو اس میں غبن، چوری، چکمہ سازی، جی حضوری، لا قانونیت، ٹیکس چوری، بد عہدی، بے وفائی، مطلب پرستی، چرب زبانی، وطن دشمنی، قوم فروشی، ہوس زر، حرص اقتدار، لوٹ مار، اقربأپروری، اغیار سے دوستی، قوم سے دشمنی، شہرت اور شہوت کی غلامی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ بد قسمتی یہ کہ یہ خاندان طویل عرصہ سے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں برسراقتدار ہے اور عوام الناس کا ایک بڑا طبقہ ان کی غلامی کو آذادی تصور کئیے ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس سے بھی بڑا المیہ دینی سیاسی جماعتوں کا ان سے اتحاد ہے جسے دین فروشی اور دین کے نام پر دنیا کے حصول کا دھندا نہ کہنا بذات خودد ین دشمنی کے مترادف ہے۔
جناب ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی کردار سے کون واقف نہیں۔ آج نواز شریف حمودالرحمن کمیشن رپورٹ شائع کرنے کی فرمائش کر رہا ہے۔ جس کی ابتدأ ہی بھٹواورمجیب کے منفی کرداروں سے ہوتی ہے۔اس سے بڑی بزدلی کیا ہو سکتی ہے کہ تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص کو لوٹ مار اور کرپشن کے دھندے سے فرصت نہ ملی کہ و ہ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ پبلک کر دیتا۔ جاھلیت اور کند ذہنی اتنی کہ یہ شخص نہیں جانتا کہ اس رپورٹ کے مندرجات درجنوں بار لیک ہوئے یا کروائے گے اور بھر انہیں بھارتی اخباروں میں شائع بھی کروایا گیا۔کھوج لگائی جائے تو یہ کارنامہ بھی شریفوں کا ہی نکلے گا۔ آج کل ہمارے ٹی وی دانشور، اینکر،تجزیہ نگاراور مبصر یہ کہتے نہیں تھکتے کہ غداری کہ سرٹیفیکیٹ نہ بانٹے جائیں۔ یہ سب محب وطن ہیں تو عقلمند و بلکہ عقل کے دشمنو آخر غداری کی کیا تعریف ہے۔سابقہ ادوار میں جن لوگوں پر غداری کی تہمت لگائی گئی ان پر مکمل بحث کیوں نہیں کرتے ہو۔ اگر یہ تہمت تھی اور بڑی حد تک تھی بھی تو تہمت لگانے اور لگوانے والوں کی جائیدادیں ضبط کرواؤ اور اُن کی اولادوں کو اسمبلیوں سے اٹھا کر باہر پھینکو۔اگر خود ہمت نہیں تو اسلامی آئیڈیالوجیکل کونسل اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے بھی رجوع کر لوتاکہ آئیندہ کو ئی بھی نوازشریف،مریم نواز،صفدر اعوان اس فعل کا مرتکب نہ ہواور شیخ مجیب الرحمن اور الطاف حسین کی آئیڈیا لوجی پر چلنے کا برسر عام اعلان نہ کرئے۔
“Traitor- a person who betrays a friend, her or his country, a cause is called traitor”
اسی تعریف کی روشنی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے لکھا ہے کہ میاں نواز شریف نے بیماری کا بہانہ کیا اور ملک، قوم اور عدلیہ کو دھوکہ دے کر ملک سے بھاگ گیا۔ کیا عدلیہ کے ان الفاظ اور لغت میں لکھی گئی تعریف کے مطابق یہ شخص اور اس کے حامی اور جرائم میں ملوث افراد غداری کے زمرے میں نہیں آتے؟ حکومت وقت میں اگر سکت ہو تو وہ اس کا فیصلہ وفاقی شرعی عدالت یا سپریم کورٹ آف پاکستان سے کروا سکتی ہے تاکہ آئیندہ کے لئے ایک قانون بن جائے اور لوگ غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹے سے بازہیں۔

Print Friendly, PDF & Email