35

وزیر اعظم پاکستان ننے چترال کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے فراخدلانہ فنڈز جاری کی ہے۔ماروی میمن

چترال (نمائند ہ ڈیلی چترال) وزیر مملکت اور چیر پرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ماروی میمن نے کہا ہے کہ نوازشریف حکومت ملکی اداروں میں غیر ضروری نوکریاں بانٹ بانٹ کر انہیں دیوالیہ کرنے کی بجائے پرائیویٹ سیکٹر کا حجم بڑہانے اور حکومت کا حجم گھٹانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس سے ملک میں معاشی استحکام آئے گی اور قوم بھکاری بننے کی بجائے خودانحصاریت کی طرف آئے گی جبکہ نئی نسل میں یہ پوٹنشل پوری طرح موجود ہے اور موجودہ حکومت اس سلسلے میں ایک جامع پالیسی مرتب کررہی ہے جس میں نوجوان طبقے کا ذیادہ سے ذیادہ رول ہوگا۔ بدھ کے روز چترال اور بونی کے مقامات پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے استفادہ کنندہ خواتین کے اجتماعات کے علاوہ عبدالولی خان یونیورسٹی کے چترال کیمپس اور ڈسٹرکٹ بار روم میں اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بی آئی ایس پی میں ایسے پروگرام متعارف کئے جارہے ہیں کہ ہنر مند خواتین گھر بیٹھے اپنے دستکاریوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ملک بھر میں مارکیٹنگ کرکے باعزت طور پر رزق کماسکتی ہیں اور اس کے لئے انہیں بھر پور مدد فراہم کی جائے گی جبکہ بی آئی ایس پی کا بنیادی مقصدبھی یہی ہے کہ دوسروں پر انحصار کرنے اور محتاج ہونے کی راہیں مسدود کی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ چترال کی کئی گھریلو مصنوعات اپنے اندر انفرادیت رکھتی ہیں جنہیں صرف باہر متعارف کرانیکی دیر ہے کہ یہاں ایک خودروزگاری کا انقلاب برپا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ بی آئی ایس پی کے ذریعے مستحق اور حقداروں کی مالی معاونت کو یقینی بنانے کی خاطر دو سالوں کے اندر اندر دوبارہ سروے کیا جائے گا جبکہ موجودہ استفادہ کنندگان تک امدادی رقم پہنچانے کے لئے طریقہ کار کو سہل تر بنایا جائے گا اور دوردراز دیہات میں خواتین اب اپنی شناختی کارڈ کے ذریعے قریبی فوکل پوائنٹ پر آکر نقد ی وصول کرسکیں گے۔ ماروی میمن نے ضلعے میں ترقیاتی کاموں میں صوبائی حکومت کی طرف سے سستی برتنے کے حوالے سے کہاکہ آئندہ جنرل الیکشن کے بعد خیبر پختونخوا میں پاکستان مسلم لیگ (ن ) کی حکومت بن جائے گی جس کے بعد چترال جیسے پسماندہ اضلاع بھی ترقی کے میدان میں آگے نکل جائیں گے جبکہ اب یہ بری طرح نظرانداز کئے جارہے ہیں۔ میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بعد میں کہاکہ پرائم منسٹریوتھ لون پروگرام کے تحت سودی قرضوں کو چترال کے عوام نے مسترد کردیا تھا جس پر وزیر اعظم نے بلا سود قرضے شروع کردئیے ہیں جن سے نوجوان طبقہ بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کھوار (چترالی زبان) کو بھی قومی زبانوں میں شامل کرنے کے لئے جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پرچترال سے قومی اسمبلی کے رکن شہزادہ افتخار الدین نے کہاکہ گزشتہ سال کے سیلاب سے ضلع چترال ساٹھ سال پیچھے چلی گئی کیونکہ قیام پاکستان کے بعد سے تعمیر ہونے والے انفراسٹرکچر اس سیلابی ریلوں میں بہہ گئے لیکن وزیر اعظم میاں نواز شریف نے چترال کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے فراخدلانہ فنڈز جاری کی ہے اور یہی وجہ سے اس وقت وفاقی حکومت کی سب سے ذیادہ ترقیاتی منصوبے اس ضلعے میں جاری ہیں۔ ماروی میمن چترال اور بونی میں بی آئی ایس پی کے استفادہ کنندہ خواتین سے گھل مل گئیں اور ا ن کے مسائل دریافت کئے۔

marvi 123

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں