44

پی پی پی کے رہنما زین العابدین ہسپتال میں انتقال کرگئے جہاں وہ سڑک کے حادثے کے بعد گزشتہ دو ہفتوں سے زیر علاج تھے

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال نیوز)چترال سے صوبائی اسمبلی کے سابق ممبر اور پی پی پی کے رہنما زین العابدین جمعرات کی صبح لاہور کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے جہاں وہ سڑک کے حادثے کے بعد گزشتہ دو ہفتوں سے زیر علاج تھے۔ ان کو جمعہ کے روز ان کے آبائی گاؤں موردیر میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ وہ 1993ء کے عام انتخابات میں پی پی پی کے ٹکٹ چترال سے صوبائی اسمبلی کی واحد نشست پر رکن اسمبلی منتخب ہوگئے تھے اور ایوان میں سب سے ذیادہ ووٹ حاصل کرنے کا اعزاز انہیں حاصل تھا۔ اس سے پہلے وہ 1979ء میں بلدیاتی الیکشن میں ضلع کونسل کے حلقے سے بلا مقابلہ رکن منتخب ہوگئے اور صرف ایک ووٹ سے ضلع کونسل کے چیرمین منتخب ہونے سے رہ گئے۔ شرافت ،نرم گفتاری اور ملنساری کے مشہور زین العابدین عوامی مقبولیت کے عرو ج پر تھے اور ان کا بلا مقابلہ انتخاب اور سب سے ذیادہ ووٹ حاصل کرنا اس بات کا مظہر ہیں اور انہی اوصاف کی وجہ سے پی پی پی کی کئی سالوں تک کامیابی سے ضلعے میں قیادت کرتے رہے اور پارٹی کی صفوں کو متحد رکھنے میں کامیاب رہے ۔ گزشتہ دہائی سے وہ خرابی صحت کی بنا پر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے باوجود عوامی مسائل کے حل میں بھر پور دلچسپی کا مظاہر ہ کرتے رہے ۔ ان کی عمر نوے سال سے ذیادہ بتائی جاتی ہے لیکن جسمانی فٹنس کے اعتبار سے وہ آخری دم تک چست وچالاک اور مستعد دیکھائی دیتے رہے اور مارچ کے اوائل میں لاہور میں واک کے دوران موٹر سائیکل سوار کے ٹکر سے زخمی ہوگئے جس میں ان کے سر پر چوٹیں آئی تھیں جوکہ مہلک ثابت ہوگئے۔ دریں اثناء ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ اور ایم پی اے چترال سید سردار حسین شاہ نے اپنے الگ الگ تغزیتی بیانات میں زین العابدین کی سیاسی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی وفات کو علاقے کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں