55

مدارس میں طالب علموں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ رسمی پرائمری تعلیم بھی دی جائے گی۔چیئرپرسن رزینہ عالم خان

اسلام آباد:(نامہ نگار) قومی کمیشن برائے انسانی ترقی (این سی ایچ ڈی) کی چیئرپرسن رزینہ عالم خان نے کہا ہے کہ فاٹا، گلگت بلتستان، آزاد جموں وکشمیر اور اسلام آباد میں موجود دینی مدارس میں رسمی تعلیم کے آغاز کے حوالے سے این سی ایچ ڈی کے نئے منصوبہ کو مختلف دینی و علمی حلقوں بالخصوص مدارس کی طرف سے خوش آئند قرار دیتے ہوئے دوررس نتائج کا حامل اقدام قرار دیا جا رہا ہے جس سے مدارس میں طالب علموں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ رسمی پرائمری تعلیم بھی دی جائے گی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رزینہ عالم نے کہا کہ اس منصوبے کا آغاز وفاقی وزارت تعلیم کی ہدایات پر کیا گیا ہے تاکہ ان مدارس کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دینی مدارس کی مروجہ اور رسمی تعلیمی معیار میں بہتری لائی جا سکے۔ چئیرپرسن رزینہ عالم خان جن کی زیر صدارت اس منصوبے پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے، نے کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے دینی مدارس کے طلباء کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ دینی مدارس سے فارغ ہونے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے تعلیمی اداروں میں جہاں چاہیں داخلہ لے سکیں۔ اس منصوبے کے تحت دینی مدارس کے طلباء کو جدید تعلیم سے ہم آہنگ کرتے ہوئے قومی تعلیمی نظام میں شامل کیا جائے گا۔ ان دینی مدارس میں سائنس، ریاضی، معاشرتی علوم اور انگریزی کو مدارس کے نصاب کا حصہ بنایا جا رہا ہے تا کہ طلباء پہلی سے پانچویں جماعت تک کی تعلیم اپنے مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ حاصل کر پائیں اور اس طرح مدرسے کے فارغ التحصیل طلباء و طالبات کے قومی معیشت میں شامل ہو کر روزگار بھی حاصل کر سکیں۔ انہوں نے ملک میں خواندگی کی شرح میں اضافہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ افراد ناخواندہ ہیں جبکہ تقریباً اڑھائی کروڑ بچے سکول جانے سے محروم ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ یہ امر بھی افسوسناک ہے کہ سکولوں میں داخل ہونے والے کم و بیش اڑھائی کروڑ بچوں میں سے صرف 31 فیصد بچے میٹرک کی تعلیم تک پہنچ پاتے ہیں جبکہ بقیہ اس سے پہلے ہی تعلیم کا سلسلہ منقطع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کی حکومت وژن 2025ء کے تحت شرح خواندگی 90 فیصد تک اور شرح اندراج 100 فیصد تک کے ہدف کو عبور کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وژن کے تحت 100 فیصد اندارج اور حاضری کو یقینی بنانے کیلئے کوششیں کی جائیں گی۔ انہوں نے اس ضمن میں آئین کے آرٹیکل 25-A پر عمل درآمد پر بھرپور زور دیا۔ رزینہ عالم نے کہا کہ این سی ایچ ڈی اس وژن کی روشنی میں 12000 خواندگی مراکز ملک کے دور دراز پسماندہ علاقوں میں قائم کرے گا جو وفاقی حکومت سے منظور شدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو سب سے بڑا درپیش چیلنج یہ ہے کہ ناخواندہ آبادی کو خواندہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کم شرح خواندگی اور اندراج اور سکولوں سے خارج ہونے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ملک میں ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ این سی ایچ ڈی اور اس جیسے اور بہت سے ادارے وزیر مملکت انجینئر بلیغ الرحمٰن کی زیر قیادت 100 فیصد اندراج اور 90 فیصد شرح خواندگی کے ہدف کو حاصل کرنے کے لئے بھرپور کوششیں بروئے کار لا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان نہ صرف شرح خواندگی میں اضافے بلکہ نیوٹک کی مشاورت سے نوجوانوں کو تکنیکی و فنی مہارتوں سے لیس کرنے کے لئے بھی اقدامات اٹھا رہی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں