94

چترال کا سب سے قدیم تعلیمی ادارہ گورنمنٹ سینٹینل ماڈل سکول میں ‘اولڈ بوائز ڈے ‘منایا گیا جس میں 1950ء کے عشرے سے لے کر اب تک طلباء نے کثیر تعداد میں شرکت

چترال (نمائندہ ) چترال کا سب سے قدیم تعلیمی ادارہ گورنمنٹ سینٹینل ماڈل سکول میں ‘اولڈ بوائز ڈے ‘منایا گیا جس میں 1950ء کے عشرے سے لے کر اب تک طلباء نے کثیر تعداد میں شرکت کی جن کے لئے رنگارنگ پروگرامات کا اہتمام کیا گیا تھا جوکہ صبح 9بجے سے لے کر شام 5بجے تک جاری رہے جبکہ سرگرمیوں کا آعاز اولڈ اسٹوڈنٹس کی مارننگ اسمبلی سے ہوا۔ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام اس پروگرام کے پہلے حصے میں مارننگ اسمبلی کے بعد کلاسوں میں علامتی درس وتدریس کے ذریعے یاد رفتہ کو تازہ کرنے اور سکول ہال میں منعقد اسٹیج شو پر مشتمل تھا جس میں سابق ڈائرکٹر ہیلتھ اور سکول کے سابق طالب علم ڈاکٹر فضل قیوم مہمان خصوصی اور ریٹائرڈ ڈی پی او محمد سعید خان لال صدر محفل تھے۔ اس موقع پر خطبہ استقبالیہ میں ایسوسی ایشن کے صدر الحاج عیدالحسین نے کہاکہ اس ایونٹ کے انعقاد کا مقصد اس تاریخی سکول کے سابق طلباء کو ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے اور یاد ماضی کو تازہ کرنے کا موقع دینا تھا۔ اس نشست میں شہزادہ تنویر الملک (ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری) نے ایسوسی ایشن کی تاریخ پر روشنی ڈالی جبکہ محمد عرفان عرفان (ایسوسی ایشن کے فنانس سیکرٹری) نے چترال کی ترقی میں اس سکول کی کردار پر مقالہ پیش کیا۔ سابق طلباء نے اپنے اپنے دور طالب علمی کے دوران دلچسپ اور ناقابل فراموش واقعات بیان کئے۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر فضل قیوم نے اس ایونٹ کو پرانی یادوں کو تازہ کرنے کے سلسلے میں بہت ہی اہم قرار دیا اور کہاکہ ہم آج جہاں بھی ہیں اس مادر علمی اور اس کے اساتذہ کی وجہ سے ہیں۔ صدر محفل محمد سعید خان لال نے کہاکہ اس ادارے سے فارع التحصیل طلباء نے چترال کو ترقی کے میدان میں آگے لے گئے اور پولیس سمیت مختلف شعبہ زندگی میں اس کے طالب علم ہیرا اور موتی کی طرح چمک رہے ہیں۔ ایونٹ کے دوسرے حصے میں بھولی بسر ی یادوں کے بیان کے علاوہ مزاحیہ فنکاروں کا اسٹیج ڈرامہ شامل تھا۔ سکول کے سابق طالب علم اور معروف وکیل سید افتخار حسین جان ایڈوکیٹ مہمان خصوصی اور سابق ڈی ایچ او ڈاکٹر اسرار اللہ صدر محفل تھے۔ صوبیدار تواکل خان، منور شاہ رنگین، اسرار الدین، محئی الدین پر مشتمل ٹیم نے مزاحیہ خاکے پیش کرکے سکول کی بھولی بسری تازہ کردی اور شرکاء سے داد سمیٹ لی۔ سکول کے سابق طلباء محی الدین کروچ، سعید الاکبر، سکول کے پرنسپل شاہد جلال، ریٹائرڈ اے سی مفتاح الدین مہمانان اعزاز تھے۔ سید افتخار جان نے اس ایونٹ کو انتہائی دلچسپ قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس سے یاد ماضی تازہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی مادر علمی کے ساتھ دوبارہ وابستہ ہونے اور اسے فائدہ پہنچانے کا موقع ملتا ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر الحاج عیدالحسین نے ایونٹ کو کامیاب بنانے میں ٹیم کے ارکان اقبال حیات (ریٹائرڈ لائبریرین )، عنایت اللہ اسیر، شہزادہ تنویر الملک، محمد عرفان عرفان، ظہیر الدین، صلاح الدین صالح، اقبال حیات (فیض آباد)، سرور سرور ا ور سکول انتظامیہ کی خدمات کو سراہا۔ شرکاء کی دلچسپی کا عالم یہ تھاکہ ڈسٹرکٹ سپورٹس افیسر فاروق اعظم، معروف ریڈیو کمپئیر اشرف حسین نے 1980ء کی دہائی میں سکول کے یونیفار م ملیشیا کپڑوں اور کالی رنگ کی ٹوپی کے ساتھ اور بستہ لے کرآئے تھے اور مدتوں بعد ایک دوسرے کے ساتھ ملنے والے کلاس فیلوز کوایک دوسرے کے ساتھ بعل گیر ہوکر ابدیدہ ہوتے ہوئے دیکھے گئے۔ مارننگ اسمبلی میں فاروق اعظم چیف کمانڈر تھاجبکہ ڈاکٹر فدا عزیز الدین نے کلاس دہم، سید ولی شاہ کلاس نہم، سید افتخار حسین جان جماعت ہشتم،شہزادہ مبشر الملک جماعت ہفتم کے کلاس کمانڈر کے فرائض انجام دئیے جبکہ استاذ حضر ت اللہ جان دہم جماعت، پروفیسر عبدالجمیل نہم، جاوید حیات جماعت ہشتم، نورالٰہی جماعت ہفتم اور اظہار الحق ششم کے کلاس ٹیچر رہے۔ اس موقع پر سکول کے سینئر اساتذہ سید غفار اور حضرت اللہ کو ایسوسی ایشن کی طرف سے یادگاری شیلڈ دئیے گئے۔ سکول کے سابق معروف طالب علم اقبال حیات نے صوفیانہ کلام سناکر پہلی نشست میں حاضرین سے داد حاصل کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں