74

موجودہ حکمرانوں نجات لازمی ہوگئی ہے کیونکہ غربت و افلاس اپنی آخری حدوں کو چھونے لگی ہے/امیر جماعت اسلامی سراج الحق

چترال (نمائندہ ) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ 31 اکتوبر کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنے کے بعد مہنگائی وگرانی اورنا اہل و کرپٹ حکومت کے خلاف آئندہ کا لائحہ عمل حتمی طور پر طے کیا جائے گا لیکن ایک بات طے ہے کہ موجودہ حکمرانوں نجات لازمی ہوگئی ہے کیونکہ غربت و افلاس اپنی آخری حدوں کو چھونے لگی ہے اور لوگوں کی زندگی خود ان پر گران گزررہی ہے جن کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ منگل کے روز چترال میں ایک تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف نے چھ ارب ڈالر قرض کے بدلے پاکستانیوں کا گلہ دبانا شروع کردیا ہے جس کے باعث سانس لینا تک دشوار ہوگیا ہے، خودکشیوں کا رواج عام ہوگیا ہے، ڈپریشن کے مریض تعدادمیں بڑھ رہے ہیں، بدامنی اور اسٹریٹ کرائمز میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ان سب کے باوجود حکمرانوں میں احساس بھی نہیں ہیں جس میں وزراء عوام کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں کم کھانے کی تلقین کرتے ہیں اور خود وزیر اعظم عوام کو صبر کا راستہ دیکھاتے ہوئے کہتا ہے کہ سکون تو قبر ہی میں ملے گا۔ ان کاکہنا تھاپی ٹی آئی کا تین سالہ دورحکومت عوام اورملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوا ہے اور اس جان لیوا مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی نے میدان میں نکل آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سراج الحق نے کہابین الاقوامی سطح پر بھی حکومت بدترین ناکامی سے دوچار ہوا ہے، کشمیر کا سودا ہوا ہے، کوئی ان کا ٹیلی فون نہیں سنتا اور کوئی ان کو اہمیت نہیں دیتا اور پاکستان کا گرین پاسپورٹ بھی دنیا کے آخری پانچ کمزور ترین پاسپورٹوں میں آگئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی میں کوئی فرق نہیں ہے، یہ سب ایک ہی نظا م کے سہولت کار ہیں، ان کے درمیان پالیسی پر اختلاف نہیں ہے، آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی پر ایک ہے، اور ان کے درمیان کوئی اختلاف ہے تو ان کے اپنے مفادات پر۔ ان کے خلاف نیب کے کیسز ہیں جن کی وجہ سے یہ پریشان ہیں اور کبھی کبھار ہوائی فائرنگ کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی ایم نے ان تین سالوں میں ہمیشہ پی ٹی آئی حکومت کاساتھ دیا اور ایف اے ٹی ایف کامعاملہ، گھریلو تشدد کے خلاف بل ہو، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ ہو، ان سب میں انہوں نے حکومت کا ساتھ دیا اور اب یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ یہ یک جان سہ قالب ہیں۔ اس سے قبل ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اسلامی تعزیرات انسان کی بھلائی اور تحفظ کے لئے ہوتی ہیں جس کے نفاذ سے یہ جرائم رونما نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہاکہ جان، مال اورآبروکی تحفظ کی ضمانت تو صرف اور صرف اسلام دیتا ہے اور اسلامی نظام انسانیت کے لئے رحمت اور نعمت ہے اور یہ افسوسناک بات ہے کہ اسلامی تعزیرات کی مخالفت کرنے والوں کی انسانوں کی لاشیں نکلنا تو قبول ہے لیکن اس کے خلاف قانون سازی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں