107

فیڈریشن آ ف پاکستان چیمبرزآ ف کامرس اینڈ انڈسٹری اور چترال ہیلپنگ گروپ چترال میں سیاحت کے فروغ کے لئے اسلام آبادمیں فروری کے آخری ہفتے میں سہ روزہ پروگرام منعقد کرے گا

پشاور(نامہ نگار) فیڈریشن آ ف پاکستان چیمبرزآ ف کامرس اینڈ انڈسٹری اور چترال ہیلپنگ گروپ چترال میں سیاحت کے فروغ کے لئے اسلام آبادمیں فروری کے آخری ہفتے میں سہ روزہ پروگرام منعقد کرے گا ۔ اس بات کا فیصلہ رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت میں آئے ہوئے وفدکی سارک چیمبر کے نائب صدر حاجی غلام علی اور فیڈریشن آ ف پاکستان چیمبرزآف کامرس اینڈ انڈسٹری خیبرپختونخوا کے کوآرڈینیٹرسرتاج احمد خان کے ساتھ منعقد ہ اجلاس میں کیاگیا ،چترالی وفد میں خطیب شاہی مسجد چترال مولانا خلیق الزمان ، سینئر صحافی ذوالفقارعلی شاہ، قشقار تنظیم کے سربراہ محمد علی مجاہد، سوشل ایکٹویسٹ محمد بنی معاویہ، ادیب ظفراللہ پرواز، ادیب جیانداد شاہ پر مشتمل تھا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سارک چیمبر کے نائب صدر حاجی غلام علی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے چترال کو خوبصورتی سے نوازا ہے، چترال میںسیاحت کے لئے دل کش مقامات،موسم، آب وہوا سمیت خوبصورت پہاڑ، دریا ، آبشار، گلیشئر اور کالاش ویلی کی تاریخی داستان موجود ہیںجن کو دنیا کے سامنے لانے کی سب سے بڑی ضرورت ہے ،تاکہ سیاح اس خوبصورت وادی کی جانب متوجہ ہوسکے ، ان کا کہنا تھا کہ چترال میں سیاحت کے فروع کے حوالے سے ہم ہر ممکن طریقے سے مدد کرنے کو تیار ہے ۔ وفد نے بتایا کہ سیاحتی مقامات کی خوبصورتی سے آگاہی کے لئے سہ روزہ ورکشاپ معاون ومدد ثابت ہوجائے گی۔ اجلاس میں چترال کے سیاحتی مقامات کی پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا کے ذریعے فروغ پر بحث ہوا ، صوبائی حکومت کی جانب سے چترال کے چارمقامات مداکلشٹ،گولین،بروغل یارخون،کالاش ویلی ، کریم آباد، گبور اورلاسپور ٹورازم سپارٹ ڈکلیئر کئے اس سے چترال کی سیاحت کو فروغ ملا لیکن دیگر سائیڈبھی ہے جو حکومت اور سیاحوں کے نظروں سے اوجھل ہیں جس کو دنیا کے سامنے لانے کے لئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ حاجی غلام علی نے کہاکہ چترال کی ٹورازم سے دیر ، کمراٹ بھی ترقی کرے گااورپاکستان کے لوگ یورپ اور مغربی دنیابھول جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اس پر توجہ دیں رہی ہے لیکن اس پر کام تیز کرنے کی ضرورت ہے ، وفاقی اور صوبائی حکومت ٹورازم کے لئے مراعات کا اعلان بھی کریںتاکہ سرمایہ کار بھی اس علاقے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے کر ٹورازم کو فروغ کے لئے کی جانے والی کوششوں کو حقیقی خواب میں بدل جانے کا موقع مل سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں