87

لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے کیوجہ سےضلع  تورغر میں دوران زچگی حاملہ عورتوں کی اموات میں اضافہ

تحریر: عظمت حسین

” میری اہلیہ کی پہلی زچگی تھی۔ اس کی زچگی میں طبیعت خراب ہو گئی۔ ہم اسے چارپائی پرڈال کر تورغر سے ضلعی ہیڈکواٹر جدباء  لائے جہاں ابتدائی چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے معذرت کرلی اور کہا کہ  اسے بٹگرام لے جائیں جہاں ہم نہ پہنچ سکے تھاکوٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کی حالت مزید بگڑ گئی اور وہ راستے میں ہی دم توڑ گئی،”   ناصر حسین اپنی بیوی کی کہانی سناتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔

ایک دہائی پہلے دو ہزار گیارہ میں ضلع کا درجہ پانے والا تورغر آج بھی صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ ضلع بھر میں کوالیفائڈ  ایم بی بی ایس ڈاکٹر موجود نہیں ہے اور  نہ لیڈی ڈاکٹر ہے جو اس قبائلی پسماندہ علاقے میں حاملہ عورتوں کو موت  کے منہ میں جانے سے روک سکے۔ اسی طرح صحت انصاف کارڈ سے مستفید ہونے کے لئے کسی بھی سرکاری یا غیرسرکاری ہسپتال میں آپریشن تھیٹر  کی سہولت میسر ہے جو غربت کی ماری عوام اور بالخصوص  عورتوں  کی صحت کے لئےسہولت کا باعث بن سکے۔

میری بیوی کو اس کی پہلی زچگی میں بروقت علاج  خاتون ڈاکٹر کے نہ ہونے کیوجہ سے نہ ملا تووہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ یہ کہنا ہے ناصر حسین کا جو تورغر کے رہنے والے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی اہلیہ کی طرح بیسیوں ایسی خواتین ہیں جو کم و بیش اسی طرح کے حالات سے گزرتے ہوئے اس دنیا سے چلی گئیں۔

ضلعی ہیڈکوارٹر جدباء کے رہائشی زاہد خان یوسفزئی کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین و قانون کی رو سے تعلیم، صحت اور روزگار شہریوں کے بنیادی حقوق ہیں لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمیں اب تک انتہائی پسماندگی کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے”ایسے لگتا ہے ہم اکیسویں صدی  کی مہذب دنیا میں نہیں بلکہ اس سے دور کہیں پتھر کے زمانے میں رہ رہے ہیں” گیارہ سال پہلے تورغر کو ضلع کا درجہ دیا  گیا مگر نہ تعلیم کی  سہولت ہے نہ صحت  کی بنیادی سہولتیں  جیسے  صحت جیسی بنیادی سہولت کے لئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال تک نہیں ہے۔ زاہد خان کا کہنا تھا کہ ضلع تورغر کی تین تحصیلوں میں گیارہ  بنیادی صحت کے مراکز یعنی  (بی-ایچ-یوز) قائم ہیں تاہم ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پر 2017 میں کام کا آغاز کیا گیا تھا جو کہ انتظامیہ و ٹھیکیدار کے غفلت کی وجہ سے اب تک تعطل کا شکار ہے۔ سڑکوں کی عدم دستیابی اور بیشتر کی ابتر صورتحال کی وجہ سے  دور دراز کے علاقوں سے لوگ مریض کو چارپائی پر ڈال کر اسےکندھوں پر اٹھا کر سڑک تک لاتے ہیں جہاں سے بنیادی صحت کے مراکزیا ہیڈکوارٹر میں واقع ضلع کے واحد پرائیویٹ ہسپتال  تک پہنچایا جاتا ہے۔ جہاں سے ابتدائی علاج کے بعد  مریض بٹگرام، مانسہرہ یا تھاکوٹ منتقل کیا جاتا ہے جو کہ بیشتر اوقات رستے میں ہی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

ضلع کے واحدنجی ہسپتال کے مالک ڈاکٹر فضل یوسفزئی کا کہنا تھا کہ صحت کی مناسب سہولت نہ ہونیکی وجہ سے وہ اپنے طور علاقے کے عوام کے لئے خدمت کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کےپاس جگہ کی کمی نہیں البتہ تورغر جیسے پسماندہ علاقے میں باہر کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر زکام کرنے کو تیار نہیں  ہیں اسی لئے موجودہ سیٹ اپ کے سیوا  زیادہ کچھ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے ڈاکٹرز سے اپیل کی کہ اگر کوئی ڈاکٹر ، سرجن تورغر میں کام کرنا چاہے تو ہم ان کو رہائش سمیت ہر ممکن سہولت دیں گے اور صحت انصاف کارڈ سے مستفید ہونے کے لئے سرجن اسپیشلٹ کو آپریشن تھیٹر بھی بنا کے دینے کو تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تین تحصیلوں پر مشتمل ضلع تورغر  میں صرف ایک لیڈی ہیلتھ ورکر  ہے اور وہ بھی نجی ہسپتال میں کام کرتی ہیں۔ضلع کے ممبر قومی اسمبلی اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے بھائی ڈاکٹر سجاد اعوان ہیں جو کہ مانسہرہ میں رہتے ہیں  اور  ممبر صوبائی اسمبلی لائق محمد خان کا تعلق اوگی سے ہے، چونکہ دو نوں  ممبران مقامی نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ  وہ حلقے کے مسائل سے انجان ہیں۔

ممبران صوبائی و قومی اسمبلی نے متعلقہ مسلہ پر اپنا موقف دینے کے بجائے یہ کہا کہ وہ حلقہ میں آکر میڈیا کو مسائل پر بریفنگ دیں گے۔ جبکہ بلدیاتی انتخابات کے دوران تبدیل ہونیوالے ڈپٹی کمشنرکے بعد اس وقت کے اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر نے چارج سنبھالا ہے  جن کے دفتر کئی چکر لگانے کے بعد بھی موقف نہیں ملا۔

تورغر کی پسماندگی کی  وجہ مقامی سطح پر تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے جس کا براہ راست اثر مقامی سطح پر ہرشعبے پر پڑتا ہے۔خواندگی کی شرح کم ترین سطح پر ہے جو ایک بڑی وجہ ہے کہ تاحال علاقے میں مقامی ایم بی بی ایس ڈاکٹر نہیں  ہیں جو اپنے  لوگوں کے لئے کام کریں۔ اس کے ساتھ وسائل کی کمی ہے اور جو وسائل مختص کیے جاتے ہیں ان کی فراہمی ایک بہت بڑا مسلہ ہے مطلوبہ وسائل حل طلب مسائل تک نہیں پہنچ پاتے۔مزید یہ کہ حکومت خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے صحت کے منصوبے "صحت انصاف کارڈ” سے مقامی سطح پر خاص کر خواتین مستفید نہیں ہوسکتیں کیونکہ صحت کارڈ پر علاج کرانے کے لئے  ہسپتال میں آپریشن تھیٹر کا ہونا لازمی ہے اور ضلع تورغر میں کسی بھی  سرکاری یا غیرسرکاری سطح پر ہسپتال میں آپریشن تھیٹر نہیں ہے۔   جس کی وجہ سے وہاں کی مقامی آبادی خصوصاً حاملہ خواتین صحت کارڈ کی  وجہ سے ملنے والی سہولت سے محروم ہے ۔  ضلع تورغر سے ماں اور بچے کے حوالے سے اعدادوشما ر ملناممکن نہیں کیونکہ زچہ بچہ کی صحت کے حوالے سے  یہاں ترجیحاً وسائل مختص نہیں کیے گئے۔  تورغرپہلے، کالا ڈھاکہ کے نام سے مشہور تھا۔ جبکہ تورغر کا مطلب "کالا پہاڑ” ہے۔  یہ پاکستان کا سب سے چھوٹا ضلع ہے جو کہ  اپنے  نام کی طرح  انتہائی پتھریلا اور  دشوارگذار علاقہ ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں