82

 اس ٹانگ نے مجھے لوگوں کی محتاجی سے بچایا ہے، اور اس قابل کیا ہے کہ میں بہتر زندگی گزار سکتا ہوں، پی -پاس سنڑ برائے بحالی معذوران بونیر میں 60 سالہ مثل باچا کی گفتگو

تحریر: عظمت حسین

"دوہزار چھ میں ، دبئی میں ایک حادثے میں میرا داہنا  پاؤں کٹ گیا۔ کوئی بیس دن میں وہاں علاج کرواتا رہا۔ دبئی میں بہت مہنگا علاج تھا جو  میں اپنے پیسوں پر کروا رہا تھا۔  پھر میرے ایک دوست نے مجھے  پشاور میں علاج کرنے والے ادارے کا بتایا ،جس کا نام پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پراستھٹکس اینڈ آرتھوٹکس سائنسزPakistan Institute of Prosthetic and Orthotics Sciences (PIPOS) ہے ( یعنی وہ ادارہ جو مصنوعی اعضاء کے حوالے سے کام کرتا ہے۔ یہ ادارہ محکمہ صحت خیبر پختونخوا کا حصہ ہے جوکہ ایسے افراد کے لیے کام کرتا ہے جن کے ہاتھ،  انگلیاں، پاؤں، بازو جو کسی حادثے، بیماری یا دہشت گردی کے خلاف لڑی گئی جنگ میں کٹ چکے ہوں) ۔

مثل باچا نے بتایا کہ میں حادثے کےبیسویں دن پاکستان آکر اپنے دوست اور ڈاکٹر نجیب کے وساطت سے، پشاور ایئرپورٹ سےسیدھا پی۔ پاس(PIPOS) کے پشاور سنٹر گئے ۔معائنہ اور پیمائش  کرنے کے بعد ڈاکٹرز نے چند دن کا وقت دیا اور تین ہفتوں  کے اندر اندر مجھے مصنوعی ٹانگ سمیت  پاؤں لگایا گیا  جس کے بعد میں نے پاکستان میں ہی اپنا کاروبار جاری رکھا اور ٹھیکیداری کے روزگار سے منسلک رہا۔ اس دوران مجھے اپنے کام کے سلسلےکسی قسم کی کوئی مشکل پیش نہیں آئی ۔ میں نارمل زندگی گزارتا رہا۔ اپنی محنت سے اپنا  گھر بار چلاتا رہا اور اپنی بیوی بچوں کا پیٹ پالتا رہا۔ "اس ٹانگ نے مجھے لوگوں کی محتاجی سے بچایا ہے  اور اس قابل کیا ہے کہ میں بہتر زندگی گزار سکتا ہوں”۔ دو ہزار چھ میں دبئی میں ایک سڑک حادثے کا شکار ہوئے مثل باچا ضلع بونیر کے تحصیل ڈگر گاؤں اشیزو میرہ کے رہائشی ہیں اور حال میں اپنے بیٹوں کے کہنے پر گھر پر خوشی خوشی زندگی بسر کررہے ہیں۔

مصنوعی اعضاء کو مسلسل دیکھ بھال کی  ضرورت ہوتی ہے۔ بچوں کے مصنوعی اعضاء  ان کی جسمانی  تبدیلیوں کے ساتھ بد لے جاتے ہیں۔ دوسرے افراد کے مصنوعی اعضاء کو مسلسل maintenance  کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسی طرح مثل باچا کو  ان کی  موجودہ ٹانگ بونیر بحالی معذوران سنٹر میں دو ہزار اٹھارہ  میں لگائی گئی تھی اور اس وقت ان سمیت،   ڈاکٹر اور  سنٹر کےمینجر بھی مطمئن تھے کہ ٹانگ کے ساتھ جڑا پاؤں درست کام کر رہے ہیں۔  لیکن کچھ  وقت کےبعد  احساس ہوا کہ ٹانگ کی پیمائش میں شاید تھوڑی سی کمی رہ گئی تھی جس کی وجہ سے  چلنے میں معمولی سی تکلیف محسوس ہوتی تھی۔ اب دوبارہ انصاف صحت کارڈ منصوبے کے تحت  ان کے لیے نئی ٹانگ بنائی گئی جس کی باقاعدہ حوالگی کے لئے انہیں 12 مئی کو پشاور لے جایا جارہا تھا جہاں فزیکل چیک اپ کے بعد صحت کارڈ سے مطلوبہ رقم  کی ادائیگی ہو جائے گی۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ مصنوعی اعضاء کی ادائیگی کے لیے صرف پشاور میں ہی صحت کارڈ کام کر رہا ہے اسی لئے مثل باچا کو بنائے گئے ٹانگ سمیت پشاور لے جایا جارہا تھا ۔

پی-پاس سنٹر برائے بحالی معذوران  بونیرنے تقریباً دو ہزار مریضوں کو مصنوعی اعضاء لگا کر ان کی زندگی کو حقیقی زندگی کے قریب تر کیا ہے۔انہی میں سے ایک محمد الیاس بھی ہیں۔ ان کا تعلق بونیر کی تحصیل گاگرہ ، کلپانی سے ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پیر میں دانے نمودار ہوئے توڈاکٹر نے بتایا کہ کینسر ہے۔ ان کا سوات اور پشاور کے سرکاری ہسپتالوں سے کینسر کا علاج ہوتا رہا لیکن مرض میں  کمی نہ ہوئی بلکہ تکلیف بڑھتی گئی اور آخر کار ان کی  ٹانگ   کو کاٹنا پڑا۔ پی پاس سنٹر برائے بحالی معذوران بونیر میں ٹیکنیشن کا کام کرنے والے ثناء اللہ ان کے پڑوسی اور دوست ہیں۔ اپنے دوست کی مدد اور رہنمائی سے پی۔ پاس سنٹر گئے جہاں پیمائش کے بعد گزشتہ رمضان میں صحت انصاف کارڈ سے ملنے والی سہولت کے تحت ان کی مدد کی گئی اور مصنوعی ٹانگ لگا کر ان کی زندگی کو نارمل چلنے پھرنے کے قابل کیا گیا۔

محمد الیاس کہتے ہیں کہ یہ بہت مہنگا علاج ہے ۔ ایک دفعہ  مصنوعی عضو لگنے  سے کام ختم نہیں ہوتا بلکہ باقی کی عمر اس کی دیکھ بھال میں لگتی ہے۔جہاں بھی ایسے افارد ہیں جو مصنوعی اعضاء کے سہارے بہتر اور نارمل زندگی گزار رہے ہیں وہاں  سب کو صحت کارڈ کی سہولت ملنا ضروری ہے۔ اگر ہمارے سنٹر پر ادائیگی کی سہولت ہو تو بونیر سے میرے جیسے افراد کو غیر ضروری طور پر سفر کر کے پشاور نہیں جانا پڑے گا۔  محمد الیاس نے کہا۔

پی پاس سنٹر برائے بحالی معذوران بونیر کے منیجرنصیب زادہ ایک شفیق انسان ہیں وہ مریضوں کے ساتھ دکھائی دے رہے تھے جیسے ان کے  فیملی ممبرہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ بونیر میں جون 2011 میں پی۔ پاس دفتر کا افتتاح ہوا جبکہ مریضوں کا باقاعدہ علاج جنوری 2012 میں شروع ہوا۔ ان دس سالوں میں ان کے سنٹر کے ساتھ تقریباً 2 ہزار  سے زائدمریض رجسرڈ ہوئے ہیں جبکہ اب تک ان مریضوں  میں ساڑھے چار ہزار مصنوعی اعضاء لگائے گئے ہیں۔ ان ڈیوائسز کی قیمتیں پاکستانی کرنسی میں  ہزار80 سے سات لاکھ تک ہیں جوکہ مختلف غیر سرکاری اداروں یا سرکاری اداروں کی مالی معاونت  سے مریضوں کو مفت لگائے جاتے ہیں۔

رجسٹریشن حوالے سے منیجرنصیب زادہ کہنا تھا کہ اکثر مریض آرتھوپیڈک او پی ڈی، فزیوتھراپی ڈیپارٹمنٹ ، ہسپتال یا دیگر ریفرنسز سے آتے ہیں۔ سنٹر پر مریض کا چیک اپ بالکل فری کیا جاتا ہے اگر ہاتھ یا ٹانگ کٹ گیا ہو تو صحت کارڈ کے ذریعے مریض کا علاج ہوتا ہے اور اگر انگلی وغیرہ تک تکلیف  ہو تو پی۔ پاس دفتر  اپنے ذرائع سے اخراجات برداشت کرتا ہےمریض کے مصنوعی اعضاء کی کاسٹنگ سے لے کر اس کے لگانے تک،  دس سے پندرہ دن کا وقت لگتا ہے جس میں سارا کام مکمل کرکے مریض کو تسلی بخش حالت میں گھر روانہ کیا جاتا ہے۔

منیجرمحمد زادہ کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈگر میں تعمیراتی کام کی وجہ سے ان کو جگہ کی کمی کا سامنا ہے جس سے مریضوں کاعلاج کرنے میں سخت دشواری پیش آتی ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام کے سامنے ہسپتال میں الگ بلاک کا مطالبہ رکھا ہے اور اس کے ساتھ بونیر میں معذوران بحالی سنٹر میں صحت انصاف کارڈ کے سہولت کا مطالبہ بھی کیا  ہے کیونکہ ان کو مریضوں کو دو دفعہ پشاور لے کے جانا پڑتا ہےتا کہ وہ  صحت کارڈ کا سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔  صحت کارڈ کی سہولت معذوروں کے بحالی سنٹر پشاور ہیڈ آفس میں ہے اس کے علاوہ کسی بھی ضلعی سنٹر میں یہ سہولت موجود نہیں ہے۔

نائن الیون کے بعد پاکستان  اور بلخصوص اس وقت کے صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) میں  دہشت گردی کے خلاف  لڑی گئی جنگ میں جہاں ہزاروں افراد  جاں بحق ہوئے وہیں لاکھوں افراد زخمیوں کی فہرست میں بھی شامل ہوئے جن کے مصدقہ اعدادوشمار ملنا مشکل ہیں۔  تاہم خیبر پختونخوا  میں اس وقت دو ہزار چھ سے اب تک مختلف  معذوروں کی بحالی کے سنٹرز میں لگ بھگ ایک لاکھ مریض رجسٹرڈ  ہیں  جو وقتاً فوقتاً ان سنٹرز میں علاج معالجے سے مستفید ہورہےہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والے سپاہیوں کو ہاتھ پاؤں کھو جانے کی صورت میں آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن میڈیسن راولپنڈی میں مصنوعی اعضاء لگائے جاتے ہیں جو کہ جدید ٹیکنالوجی اور مکمل طور پر خودکار طریقے سے تیار کئے جاتے ہیں۔ جبکہ عام شہریوں کے لئے خیبر پختونخوا میں قائم "پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پراستیٹک اینڈ آرتھیٹک سائنسز” نے یہ بیڑا اپنے سر اٹھا رکھا ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پراستھٹکس اینڈ آرتھوٹکس  ” یعنی (PIPOS) پشاور ہیڈ آفس کے علاوہ شہریوں کی سہولت کے لئے ہنگو، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، تیمر گرہ، سوات اور بونیر میں ضلعی دفاتر میں قائم کر چکا ہے جہاں وہ مقامی سطح پر مریضوں کو بروقت اور قابل بھروسہ مصنوعی اعضاء لگاتے ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کاتخمینہ ہے کہ دنیا میں تیس ملین لوگ ایسے ہیں جن کو مصنوعی اعضاء درکار ہیں۔ جبکہ ترقی پذیر ممالک میں  پچھتر   فیصد سے زائد ممالک میں مصنوعی اعضاء اور آرتھوٹکس کا پروگرام تقریباً  نہ ہونے کے برابر ہے۔  دس لوگوں میں سے ایک کو مصنوعی اعضاء سے زندگی بہتر بنانے کا موقع ملتا ہے۔

پاکستان کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جنہوں نے   ابتداء ہی میں”Convention on the rights of persons with disabilities”   کو دوہزار آٹھ میں تسلیم کر لیا جبکہ جولائی دوہزار گیارہ میں افراد باہم معذوری کے حقوق کےلیے اس کنونشن کی توثیق کی۔  پایئدار ترقی کے اہداف(میلینیم ڈیلوپمنٹ گولز (SDGsبھی پاکستان پر لازم قرار دیتے ہیں ،کہ ان افراد کی زندگی میں بہتری لانے اور ان کو ملکی خزانے پر بوجھ قرار دینے کی بجائے ان کے علاج معالجے کے لیے ایسی ہمہ جہت منصوبہ بندی کی جائے جو ان کی ملکی ترقی میں شمولیت کا باعث بنے۔

اس مضمون میں استعمال ہونے والے نئے الفاظ اور انکا ترجمہ:

جوڑوں اور اعصاب کی امدادی میکانیتorthotics (braces and splints)،

مصنوعی اعضاء prosthetics

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں