61

کالاش ویلی کے لوگوں نے حکومت کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار،ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت وادی کے لوگوں کو انسان ہی نہیں سمجھتی

چترال ( محکم الدین ایونی)کالاش ویلی بمبوریت کے لوگوں نے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجی ریلی نکالی اور چترال شہر میں جلسہ منعقد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے ۔کہ ایک ہفتے کے اندر ویلی کی سڑکوں کو آمدورفت کے قابل بنا کردوباژ پُل نہ کھولا گیا ۔ تو وادی کے تمام لوگ اجتماعی احتجاج اور لانگ مارچ کا راستہ اختیار کریں گے ۔ پیر کے روز واد ی بمبوریت کے درجنوں کالاش اور مسلم افراد نے گاڑیوں کی احتجاجی ریلی نکالی اور اتالیق چوک چترال میںDSC04694جلسہ منعقد کیا ۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے قاری منیر احمد کونسلر قاری خلیل الرحمن نائب ناظم ،نظر گئے اقلیتی کونسلر اور وزیر کالاش نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت وادی کے لوگوں کو انسان ہی نہیں سمجھتی ۔ گذشتہ سال کے سیلاب کے بعد لوگ سڑکوں کی وجہ سے انتہائی مشکلات کا شکار ہیں ۔ اور موجودہ سڑکوں پر سفر کرنا جان جوکھوں کا کام بن گیا ہے ۔ لیکن انتظامیہ اور محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کو اس کا ذرا برابر احساس نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا ، کہ ایک سال سے مختلف حیلے بہانوں سے لوگوں کو ٹرخایا جارہا ہے ، اور سڑک کی بحالی پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ،انہوں نے کہا ۔ وادی کے مریضوں ، خواتین اور بچوں کی آمدورفت خراب اور خطرناک سڑکوں کے باعث بند ہو چکی ہے ۔ اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی و ہسپتالوں تک رسائی ممکن نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرات درپیش ہیں ۔ اور کئی بچے جان بحق ہو چکے ہیں ۔ مقررین نے کہا ۔ اگر حکومت اُن کو پاکستانی شہری تسلیم کرتا ہے تو اُن کی مجبوری پر توجہ دی جائے ۔ اور کھنڈر و پُر خطر سڑک و پُل کو صحیح معنوں میں تعمیر کیا جائے ۔ تاکہ کوشٹ پُل کی طرح انسانی جانیں ضائع نہ ہوں ۔ و زیر کالاش نے کہا ۔ کہ کالاش کمیونٹی کو دنیا کی منفرد تہذہب کے حامل قبیلہ قرار دیا جاتا ہے ۔ لیکن اُن کو آمدورفت کی سہولت فراہم کرنے کی بجائے اُن کوبے موت مارنے پر تُلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا ، کہ اگر وادی کے لوگوں کے ساتھ اسی قسم کا ناروا سلوک جاری رکھا گیا ۔ تو بمبوریت کی کالاش آبادی کے مردو خواتین و بچے صوبائی حکومت ، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ سی اینڈ دبلیو کے خلاف چترال شہر میں دھرنا دینے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ عوام کو اپنے جائز حق کیلئے احتجاج کرنے سے بھی روکا جا رہا ہے اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے ۔ لیکن بمبوریت کے لوگ یہ ڈکٹیٹر شپ کسی صورت قبول نہیں کریں گے ۔ مقررین نے دوباژ پُل کوسرکاری گاڑیوں کیلئے کھولنے اور ٹیکسی گاڑیوں کیلئے بارڈر پولیس کے ذریعے بند کرنے کی پُر زور مذمت کی ۔ اور کہا ۔کہ اس سے پتہ چلتا ہے ، کہ ضلعی انتظامیہ جان بوجھ کر لوگوں کو تنگ کر رہا ہے ۔ اگر پُل ناقص ہے ۔ تو سرکاری گاڑیوں کو جانے کی اجازت کیوں دی جارہی ہے ۔ اور اگرپُل صحیح ہے ۔ تو عوام بمبوریت اور رمبورکیلئے اسے بند کرکے لوگوں کو کیوں مصیبت میں ڈالا جارہا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں