103

تحریک بحالی بجلی گھر ریشن اور سیاسی قا ئدین۔۔۔سید حسین زئیت

logo
سوال سارے گلستان کی زندگی کا ہے
نہیں سوال فقط میرے آشیانے کا
اگست ۲۰۱۳ ؁ء ریشن میں درمیانے درجے کا سیلاب آیا۔جس میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا لیکن کافی حد تک مالی نقصانات ہوئے۔سیلابی ریلا اپنے ساتھ بڑے بڑے پتھر لائے اور سیلاب کی کمزور لہروں کی وجہ سے یہ بڑے بڑے پتھر نالے کے آس پاس مختلف جگہون میں رک گئے۔دو بڑے بڑے پتھر پاور ہاؤس کے قریب گیٹ کی شکل میں ر ک گئے۔علاقے کے عمائدین خصوصا ریشن کے عمائدین کئی مرتبہ پاور ہاؤس جاکرتنبہہ کر چکے لیکن صد آفسوس PEDO کے بے حس افسران اپنی روایات برقرار کھتے ہوئے سنی ان سنی کر دی۔ٹھیک دو سال بعد قیامت خیز سیلاب آکر ان دو پتھرون میں پھنس کر بجلی گھر میں گھس گیا۔عمارت اور مشینون کو نقصان پہنچا یا ۔اس وقت سے 4 مئی 2016 ؁ء تک نہ کسی سیا سی نما ئندہ ،صو بائی حکومت اور نہ ضلعی حکومت نے اس کی طرف کوئی توجہ دینا گوارہ کی۔مذکورہ قومی سرمائے کو پرائیویٹائز کرنے اور ما فیا کے ہاتھون بہچنے کی چہ مگو ئیان چلنے لگیں۔قوم کے خون کے پیاسے ہمارے نمائندوں میں ڈسٹرکٹ حکومت پیش پیش تھیں۔ضلعی نا ظم معفرت شاہ ،پی ٹی آئی کے عبدالطیف،سابق ایکسن بشیر صاحب،سابق ڈائکٹر آکبر صا حب اور مختلف علاقون سے تعلق رکھنے والے نما ئندون کے نام سامنے آ گئے لیکن خوش قسمتی سے ریش کے پانچ نو جوانان مصمم ارادہ کرکے بجلی گھر بحال کر کے اور نجکاری کی مخالفت میں تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ۔قوم کے یہ سپوت چراغ الدین ،سید سردار حسین شاہ،محمد نبی خان،سید حسین،اور حاجی عبد الرب نے بلا آخر 4 مئی کو با ہمی مشاورت سے وی سی ریشن سمیت شوگرام عما ئدین کو 6 مئی ریشن جمع ہو نے کا اشتہار کیا ۔
6 مئی کو 400 کی تعداد میں لوگ جمع ہو ئے اور یہ میٹنگ جلسے کی شکل اختیار کر گئی۔اسی میٹنگ میں 5 رُ کنی انتظامیہ کے ساتھ 40 رُکنی کمیٹی بھی بنا ئی گئی اور 15 مئی کو جلسہ کرنے کا با ضابطہ اعلان ہوا۔اور 15 مئی کو ریشن کی تا ریخ میں کا میاب ترین جلسہ ہوا جس میں مختلف پارٹیون کے رہنما ،ڈسٹرکٹ ،تحصیل کونسل و ویلج کونسلر کے ممبران نے بھر پور انداز سے شرکت کیں۔اور ایم این اے چترال کی نما ئندگی اس کے بھا ئی خالد پرویز نے کی اور ایم این اے کی طرف سے پاور ہاوس بحالی کیلئ ایک کڑوڑ روپے کا علان کر دیا ۔15 مئی کو پانچ رکنی انتظامیہ اور چالیس رکنی کمیٹی کی طرف سے X-MPA مولانا عبدالرحمن کو تحریک کا صدر مقرر کرنے کا فیصلہ ہوا۔اس جلسے میں مستوج سے لے کر کاری تک، موڑکہو تحصل اور تور کہو کے لوگون نے بھر پور شرکت کی۔اسی طرح انتظامیہ اور کمیٹی کی مشترکہ کوشیشون سے یہ تحریک روزبروز زور پکڑتی گئی اور پورا علاقہ اپنے جائز حق کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔اور ایک دفعہ پھر 22 مئی کو بھرپور اختجاجی جلسہ کا اعلان ہوا۔اس دوران انتظامیہ اور کمیٹی نے مختلف علاقن کا دورا کرکے عوام کو ریشن بجلی گھر بحالی کے متعلق اگاہ کیا اور پورا علاقہ یک زبان ہو کر اپنے حق کیلئے اواز اٹھانے پر متفق ہوئے۔بالااخر 22 مئی 2016 ؁ء کو بجلی گھر چوک میں عظیم ا لشان جلسہ کے بعد تحریک احتجاجی دھرنے کا آغاز کر دیا۔اسی جلسے میں مولانا عبدالاکبر نے بھی شرکت کی۔22 تاریخ کے بعد باقاعدہ کیمپ لگا کر دھرنے کا اغاز ہوا اور مختلف علاقون کے لوگ جوق در جوق دھرنے میں شریک ہونے لگے۔یہ دھرنا 27 مئی تک جاری رہا۔ اسی دوران مختلف سیاسی نمائندگان نے اختجاجی کیمپ کا دورا کیا۔27 مئی 2016 ؁ء سے یہ دھرنا علامتی بھوک ہڑتال میں تبدیل کیا گیا۔اور وقتاً فوقتاً علامتی بھوک ہڑتال کا دورانیہ بڑھا کر بالاخر ۴ تاریخ کو ۱۲،۱۲ گھنٹہ علامتی بھوک ہڑتال کا فیصلہ ہوا۔ اس بھوک ہڑتال میں سنوغر ، پرواک اور کوہ کے عمائدیں اور عوام بھر پور انداز میں شرکت کیں ۔ لون اور گہکیر نے بھی شرکت کیں ۔ دھرنے اور ہڑتال کے دوران علاقے کے مختلف طبقہ فکر کے لوگوں نے بھر پور یکجہتی اور حمائت کا اظہار کیا۔ ۲۵ تاریخ کو عبدالطیف صاحب ہڑتال کیمپ کا دورہ کیا اور اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے رفو چکر ہوگئے۔ اور سید مظفر جان صاحب بھی اظہار یکجہتی کے لئے کیمپ تشریف لائے۔ MNA چترال کیمپ کا دورہ کیا اور سارا ملبہ MPA صاب کے ذمے ڈال دی اور اظہار یکجہتی کرکے مطالبے کو درست قرار دے کر چلے گئے۔ ۲۵ مئی کو DC چترال نے بذریعہ تحصیلدار الیاس صاحب مذاکرات کے لئے وقت منگا تو مولانا چترال جانے سے انکار کیا اورDC سے ہڑتال کیمپ آنے کا مطالبہ کیا۔ ۲۶ مئی کو DC اور MPA سلیم خان ریشن ہڑتالی کیمپ آئے اور بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے پشاور CM ہاوس جاکر دھرنے کا مشورہ دیا۔ اور DC چترال مطالبے کو 105% درست قرار دے کر اپنی ہمدردی ظاہر کی۔ عارضی طور پر ملاکنڈ سے بجلی لانے اور ۵ کروڑروپے تک ریشن پاور ہاوس کے لئے دینے کا وعدہ کیا۔ ۲۷ مئی کو پیر سید ہاروں گیلانی ہڑتالی کیمپ آئے اور اظہار ہمداردی کی۔ ۲۸ مئی کو PEDO کی کانوں میں جوں رینگ کر مشنوں کو نکالنے کی خوشخبری سنائی گئی۳۱ مئی کو مغفرت شاہ ضلغ ناظم تشریف لائے اور کوہ سے صدر رکھنے پر اعتراض کرتے ہوئے چلے گئے۔ بلاخر۵ مئی کو AC مستوج ہمارے ساتھ مذاکرت کئے DC صاحب بھی رابطے میں تھے۔ ۶ تاریخ ہڑتال کیمپ میں جنگ اور جیو کے نمائندے کو بلا یا گیا اس روز خواتیں بھی بڑی تعداد میں دھرنے میں شریک تھیں ۔ بالاخر ۷ مئی کو DC صاحب ہڑتال کیمپ ایک بجے تشریف لاکر ایک مہنے کے اندر بجلی عارضی طور پر ملاکنڈ سے بحال کرنے اور ریشن پاور ہاوس کے ایک یا دو نوں مشنونوں کو جلد از جلد مرمت کرکے چالو کرنے کا معاہدہ طے پایا۔اور ساتھ ہی ساتھ ۳ مقامی بندے کمیٹی جوکہ مشینوں کی نگرانی عوام کو رپورٹ دے گی مقرر کرنے کا معاہدہ ہوا ۔DC سے پہلےMPA سردار حُسین شاہ صاحب نے تقریر کی اور یہ تسلیم کیا اگر اس موقع پر ریشن سے یہ آواز نہیں اٹھتا تو یہ بجلی گھر کب کا بک چکا ہوتا۔ تحریک کے دباؤ کی بنیاد پر مجھے بلا کر متعلقہ وزراء اور محکمہ نے فوری بجلی گھر بحال کرنے کا وعدہ کیا ہے ۸۰ کروڑ روپے بحالی کے لئے اعلان ہو چکی ہے۔ ملاکنڈ سے بجلی لانے کے لئے ۳۰ لاکھ روپے دینے کا بھی اعلان کیا۔ بالاخراس تحریری معاہدے کے بعد علامتی بھوک ہڑتال جو تا دم مرگ میں تبدیل ہو نے والی تھی پہلی رمضان کو 2بجے ختم ہو گئی۔آخر میں تحریک کے صدر مو لانا عبد الرحمان نے بھوک ہڑ تال ختم کرنے اور تحریک ریشن بجلی گھر بحال ہونے تک جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
ہوگا طلوع ،کوہ کے پیچھے سے آفتاب
شب مستقل رہے گی کبھی یہ نہ سو چئے

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں