104

وزیراعلیٰ کی ہرزہ سرائی اور بیوروکریسی۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

بیوروکریسی نے ہمیشہ حکومتوں کوڈبونے اور بدنام کرنے کی سازشیں کیں اورنظام کابیڑاغرق کردیاہے۔حکومت کوافسرشاہی سے کسی اچھے مشورے اورتجویزکی توقع نہیں ہے اور نہ ہی بیوروکریسی کی جانب سے موجودہ حکومت کے تین سالہ دور میں کوئی مثبت مشورہ یاتجویزدی گئی ہے۔یہ ہرزہ سرائی کوئی عام منتخب عوامی نمائندہ نہیں بلکہ خیبر پختونخواکے وزیراعلیٰ پرویزخٹک کرتے سنائی دے رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق 22جون کوصوبائی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بیوروکریسی کوشدید تنقید کانشانہ بنایااور دوران خطاب آفیسر گیلری میں بیٹھے مختلف محکموں کے بیوروکریٹس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر بیوروکریسی نے کام کرناہوتاتوآج خیبرپختو نخواکی اتنی بری حالت نہ ہوتی۔انہوں نے کہاکہ ان کی باتیں بہت ساروں کوبری لگیں تاہم اس سے ان کی صحت پرکوئی اثرنہیں پڑتااوروہ بیوروکریسی سے اپنی مرضی کے کام لیتے رہیں گے۔وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے گزشتہ سال کے دوران محکمہ صحت کی کارکردگی کوانتہائی ناقص اور مایوس کن قرار دیتے ہوئے کارکردگی بہتر بنانے کے لئے مذکورہ محکمے کوایک سال کی مہلت دے دی۔انہوں نے ایوان میں موجود وزیرصحت شہرام خان ترکئی کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے گزشتہ سال صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں طبی عملہ سمیت دیگر سہولیات کی کمی پوری کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم کارکردگی بہتر نہیں ہوئی اور غریب عوام آج بھی ہسپتالوں میں خوارہورہے ہیں۔ان کے مطابق ایک سال کی مہلت کے دوران اچھی کارکردگی نہ دکھانے پر وہ محکمہ صحت کاوہ حشرکردیں گے جسے مدتوں یادرکھاجائے گاکیونکہ ہسپتالوں کولارڈزنہیں بلکہ ڈاکٹرزچاہئے۔ اگرچہ بیوروکریسی کی کارکردگی کے حوالے سے وزیراعلیٰ پرویزخٹک کی لب کشائی سے کوئی اختلاف نہیں مگراٹھتاسوال یہ ہے بیوروکریسی کی حالت ٹھیک کون کرے گاکیااس کے لئے کسی اورملک سے بااختیارلوگ آئیں گے ۔وزیراعلیٰ نے اگرمحکمہ صحت کے گزشتہ سال سال کی کارکردگی کوناقص قراردے کراوربدترین حشربنانے کی دھمکی دیتے ہوئے مذکورہ محکمے کو اپنی کارکردگی بہتر کرنے کا کہا ہے جس کے لئے ایک سال کاوقت بھی دیاہے توجنم لیتاسوال یہ ہے کہ وہ انتظارکس چیزکاکررہے ہیں اگرگزشتہ سال ان کی ہدایات پرعملدرآمد نہیں ہواتوذمہ داران کاتعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی کیونکہ اگر ایک بھی بیوروکریٹ کوعبرت ناک سزادی گئی تویہ تمام بیوروکریسی کے لئے واضح پیغام ثابت ہوگااوراس کے بہترنتائج برآمد ہوں گے مگرشائد بیوروکریسی اس حقیقت کو اچھی طرح جانتی ہے کہ حکمرانوں کی دھمکیاں محض دھمکیاں ہی ثابت ہوتی ہیں اوران سے ان کاکچھ بھی بگڑنے والانہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ٹس سے مس ہوتی ہے نہ نظام میں کوئی تبدیلی آتی ہے ۔ یہاں توجہ طلب بات یہ بھی ہے کہ ایک طرف اگر وزیراعلیٰ پرویزخٹک صوبے کے چیف ایگزیکٹیو کی حیثیت سے بیوروکریسی پر غصہ نکالتے سنائی دے رہے ہیں تودوسری جانب تاثر یہ مل رہاہے کہ گویاوہ ناکامی کااعتراف کرتے ہیں مگرخود کو ذمہ داری سے بچانے کے لئے ناکامیوں کی ذمہ داری کاملبہ بیوروکریسی پرڈالنے کی کوشش کرہے ہیں ۔بیوروکریسی پر تنقید بجامگر صوبائیکامی کی ذمہ داری محض بیوروکریسی پر عائد کرنامناسب نہیں ہوگابلکہ چونکہ پی ٹی آئی نے کانعرہ اور دعویٰ یہ تھاکہ برسراقتدارآکروہ نظام میں تبدیلی لائے گی لہٰذا اس میں کوئی دورائے نہیں کہ اچھے برے کسی بھی عمل کی ذمہ داری تبدیلی کی دعویدارپی ٹی آئی اور خیبر پختو نخوا میں اس کی قائم موجودہ حکومت پر عائد ہوگی کیونکہ عوام توبیوروکریسی کاقبلہ درست کرنے سے رہے اور بیوروکریسی کی کارکردگی بھلے ناقص ہو تاہم عوامی عدالت میں کسی بھی ناکامی کے لئے جوابدہ بیوروکریسی نہیں بلکہ وزیراعلیٰ پرویزخٹک اور ان کی جماعت پی ٹی آئی کوہوناہوگا۔ یہاں نظر آتے حقائق کوبنیادبناکریہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگاکہ صوبہ خیبرپختونخواکی حالت واقعی وہ نہیں ہے جس کی عوام توقع کررہے تھے اورآس لگائے بیٹھے تھے کہ پی ٹی آئی کی حکومت بنے گی توان کی زندگی آسان ہوجائے گی اس وقت نہ صرف صحت بلکہ کسی بھی شعبے کے اندرعوام خوارہوتے دکھائی دے رہے ہیں جس سے تبدیلی کے تمام تردعوں کی قلعی کھل گئی ہے اور سیدھی بات یہ ہے کہ یہاں وہ تبدیلی نہیں آئی جس کے دعوے کئے جاتے رہے ۔دوسری جانب بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پرویزخٹک کاکہناتھاکہ ہم نے سرکاری سکولوں میں بتدریج تبدیلی کاعمل شروع کیاہے اور اس کے نتایج بہت جلد سامنے آناشروع ہوجا ئیں گے تاہم ہمیں جس حالت میں سکول ملے تھے وہ سب کے سامنے ہے اس کے باوجود سکولوں میں بڑی حد تک تبدیلی لائے ہیں انہوں نے کہاہم نے پہلے سال ہی کئی اہم مضامین کوانگریزی میں تبدیل کیاتاکہ یونیورسٹیوں بچوں کومشکلات کاسامنا نہ ہووہ بچے اس وقت تیسری جماعت میں پڑھ رہے ہیں اوراس کے نتائج پانچ سال بعد آناشروع ہوجائیں گے ۔ہماری کوشش ہے کہ اساتذہ اور بچوں دونوں کوبہترین ماحول مہیاکریں ۔ان کے مطابق تعلیمی تبدیلی کے غیرملکی ادارے بھی معترف ہیں۔وزیراعلیٰ کی لب کشائی اپنی جگہ اور پتہ نہیں کونسے غیرملکی ادارے ہیں جوتعلیمی تبدیلی کے معترف ہیں مگرزمینی حقائق اوروزیراعلیٰ کے خیالات میں واضح فرق ہے اس ضمن میں اخبارات میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ ملاحظہ ہوجس کے متن کے مطابق ملاکنڈ بورڈ کے زیرانتظام سیکنڈری سکولزکے حالیہ سالانہ امتحانات میں ملاکنڈایجنسی کے علاقہ جلال کوٹ کے ہائی سکول کے سامنے آنے والے نتائج نے خیبرپختونخواحکومت کی تعلیمی ایمرجنسی کے تمام دعووں کو بے بنیاد ثابت کردیاہے کیونکہ مذکورہ سکول کے نتائج کی روشنی میں جماعت دہم کے 52میں سے 25جبکہ جماعت نہم کے 45میں سے 27طلباء فیل ہوئے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ طلباء کے والدین اورمنتخب کونسلرزنے سکول مذکورہ کے امتحانی نتائج پر افسوس کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ خیبرپختونخواحکومت تعلیم عام کرنے اور معیاری تعلیم کی فراہمی کے دعوے کررہی ہے مگرحالیہ رزلٹ نے ان کے دعووں کوغلط ثابت کردیاہے۔اس تمام تر صورتحال کے تناظرمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ تبدیلی کے دعوے کرنے کی بجائے عملی اقدامات اٹھانے پر توجہ دی جائے کیونکہ تبدیلی کہنے سے نہیں بلکہ کام کرنے سے آتی ہے اور جب آتی ہے تو کسی تشہیر کی محتاج نہیں ہوتی۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں