56

قاری عبدالرحمن قریشی بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، اپنے ناکامیوں کو چھپانے کے لئے الزام تراشی کر رہے ہیں

چترال (نامہ نگار) جمعیت علماء اسلام کے رکن قاری فضل حق اور حافظ کاشف جمال نے کہا ہے کہ قاری عبدالرحمن قریشی اپنی اور اپنے کابینہ کی ناکامیوں اور جمعیت کو نقصان پہنچانے والے اقدامات پر پردہ ڈالنے کے لئے دوسروں پر الزامات لگار ہے ہیں جو کہ قابل مذمت ہے۔ یہاں جاری کئے گئے ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہا کہ میڈیا کو بیان جاری کرتے ہوئے عبدالرحمن قریشی نے ضلعی مجلس عمومی کے اجلاس کے حوالے سے ہم پر جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگایا ہے کیونکہ مجلس عمومی کے اجلاس میں ہونے والے واقعات کے بعد موصوف شدید مایوسی اور بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں اور انہیں نوشتہ دیوار صاف نظر آرہا ہے۔ اسی مایوسی اور بوکھلاہٹ کے عالم میں بلاتحقیق الزام تراشی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عبدالرحمن قریشی میں اخلاقی جرات ہوتی تو وہ مجلس عمومی کے اجلاس میں ہونے والے واقعات کے بعد اخلاقی طور پر مستعفی ہو تے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو ہم نے کوئی خفیہ بیان جاری نہیں کیا ہے ۔ جے یو آئی کے اراکین نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کے ساتھ انکی وابستگی صرف سیاسی نہیں بلکہ مذہبی ہے اور جے یو آئی کے دستور میں کسی رکن کو بنیادی رکنیت سے نکالنے کا کوئی شق موجود نہیں تاہم پھر بھی ہم نے اس غیر دستوری فیصلے کے خلاف بالائی جماعت سے اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبدالرحمن قریشی کا یہ الزام کہ ہم جمعیت کے قائدین کے ساتھ نا مناسب رویہ اپنا ئے ہوئے ہیں بذات خود انکے منہ پر طمانچہ ہے کیونکہ جماعتی قائدین کی ہتک کرنا اور انکے خلاف پراپیگنڈہ کرنا قریشی گروپ کا شیوہ ہے اور پچھلے سال صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا شجاع الملک کے ساتھ جو رویہ اپنا یا تھا وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ یہی قریشی صاحب تھے جنہوں نے رات کے وقت اوباش لڑکوں کے ذریعے اپنے ہی جماعت کے صوبائی راہنما کو ڈرانے اور ان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی ، انکی عزت شکنی کرایا اور یہی وہ شخص ہیں جنہوں نے بالائی جماعت اور صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان کے تحریری حکم کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتے ہوئے حکم عدولی کی اور لوگوں کے سامنے مشہور کیا کہ صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان نے انہیں زبانی طور پر بتایا ہے کہ جمعیت کے ٹکٹ ہولڈر مولانا عبدالرحمن کو ووٹ نہ دیں اور یہی وجہ ہے کہ مجلس عمومی کے حالیہ اجلاس میں اراکین نے کھل کر نہ صرف عبدالرحمن قریشی سے استعفیٰ طلب کیا بلکہ انہی کی وجہ سے گل نصیب خان پر بھی اعتراضات کئے گئے ۔ انہوں نے کہاکہ دستور کی خلاف ورزی اور جماعتی مفاد کے خلاف کام کرنے پر عبدالرحمن قریشی اور اسکی کابینہ کم از کم نو مہینے معطل رہے۔ عبدالرحمن قریشی کے جماعت دشمن اقدامات کی وجہ سے چترال میں جمعیت کو جو نقصان پہنچا ہے وہ نا قابل تلافی ہے اور چترال میں گروپ بندی کے اصل ذمہ دار یہی شخص ہیں جنکا وطیرہ ہے کہ وہ دوسروں پر الزام دھرتے ہیں۔ عبد الرحمن قریشی اور اس کے گروپ نے جمعیت کے نامزد امیدوار کو ووٹ نہیں دیکر جمعیت کے ساتھ سنگین غداری کی ہے جبکہ ہم لوگ اپنی جماعت اور اسکے صوبائی و مرکزی قیادت کے حکم کے مطابق چلتے رہے ہیں کیونکہ ہمارا اس جماعت کے ساتھ محبت عقیدت ہے جبکہ قریشی صاحب جیسے لوگ اس جماعت میں نو وارد ہیں اور دوسروں کے ایجنٹ کا کردار رہے ہیں

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں