71

تحقیق و جستجو۔۔۔۔۔۔ فدا الرحمن

کافی عرصہ بعد آج کسی اصلاحی موضوع پر جب قلم اٹھانے کو دل چاہا تو نظروں کے سامنے مشرق کا زوال اور مغرب کی تیز رفتارترقی اسباب کے سنگ گردش کرنے لگا۔ سب سے بڑی وجہ سائنس/ علوم جدیدہ کے افادی پہلو ؤں سے بھی پہلو تہی کے ساتھ سائنس اور اسکی موجودات کو انسانی حاجت کے درجے میں رکھنے سے بھی احترازنظر آیا۔ تحقیق و جستجو او غور و خوض سے دوری ہمارے زوال کا ایک اہم سبب ہے۔ حلانکہ تحقیق و جستجو اﷲتعالیٰ کا ایسا عالم گیر اصول ہے جس کو اپنانے والا خواہ کسی بھی مذہب کا ہو اتنا ہی فائدہ اٹھا سکتا ہے جتنا اس سے انحراف کرنے والااور منہ موڑنے والا نقصان اٹھا سکتا ہے۔
تحقیق روشنی کا وہ مشعل ہے ،امید کا وہ دیا ہے اور نور کا وہ چراغ ہے جو نئی دنیا کو جانے والا ہر راستہ روشن کرتا ہے جس کی وجہ سے ہر طرف اُجالا پھیل جاتا ہے۔ سوچ و بچاراور غور و خوص انسان کو کندن بنا دیتاہیں۔اسے ایک نئی جیت سے روشناس کراتے ہیں۔ تحقیق و جستجو ایک ایسی صفت ہے جس کو اختیار کر کے ایک شخص مفکر، دانشور، محدث، عالم، فلسفی اور سائنس دان بن جاتا ہے۔ وہ اپنے اور گرد کے حالات واقعات کو ، اشیاء کو، بلکہ ساری کائنات کو مفکر دانشور اور سائنس دان کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ وہ یہ سوچتا ہے کہ کس طرح میں دنیا کے لئے ، ملک و قوم کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہوں۔ میں کائنات کے سر بستہ پوشیدہ خزانوں کی نئی دنیا کس طرح پا سکتا ہوں۔
دنیا میں علم و تحقیق کی کمی نہیں۔ معلومات و مشاہدات کا ایک سمندر ہے جو ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی چیز اﷲتعالیٰ نے بے مقصد پیدا نہیں کی بلکہ ہر شے میں حضرت انسان کے لئے فائدے ہیں۔اب یہ بنی آدم پر منحصر ہے کہ اس سے کس طرح فائدہ اٹھا تا ہے۔ کس طرح استعمال کرتا ہے۔لیکن یہ شرط بھی مسلط کردی گئی ہے کہ اے انسان کوئی شے تمھیں تیار حالت میں نہیں ملے گی۔ تمھیں اس پر محنت کرنا ہوگی۔ اسے استعمال کے قابل بنانا ہوگا۔ اسکے بعد تم اس شے کے ثمرات سے بہرہ مند ہو سکتے ہو۔ اس محنت کے دو مرحلے ہونگے ۔ پہلے تم ذہنی محنت کرو گے یعنی سوچ بچار، غور و فکر کروگے۔ جب کہ دوسرے جسمانی محنت کروگے۔ یعنی اپنی سوچ کو عملی شکل دینے کے لئے پھر تم تجربات و مشاہدات کروگے۔ جہد مسلسل اور عمل پیہم سے اسے کامیاب بناؤ گے۔ لیکن شرط یہ بھی ہے کہ جس چیز پر تم تحقیق اور محنت کر رہے ہو وہ بنی نو انسان کے فائدے کے لئے ہو نہ کہ نقصان کے لئے۔ جب ایک انسان ان تمام مراحل سے کامیابی سے گزرتا ہے رتو اس سارے عمل کو تحقیق کا نام دیا جاتا ہے۔ اور بنی آدم کی یہ کامیابی نئی دنیا میں پہلا قدم اور نئے جیت کے سفر کا آغاز ہوتاہے۔ جب وہ کامیابی سے خدمت خلق کا جذبہ لئے آگے بڑھتا ہے تو نئے جہانوں کے دروازے خود بخود اس کے لئے کھل جاتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ تحقیق ، مشاہدہ، سوچ و فکر، یا بہ الفاظِ دیگر اعلیٰ و ارفع خیالات اور افکار انسان کو جہالت اور ایک گھٹے ہوئے ماحول سے باہر نکالتے ہیں۔ اسے ممتاز و منفرد مقام عطا کرتے ہیں۔ ان صفات کو لیکر انسا ن کائنات کے راز ہائے پوشیدہ تک جان لیتا ہے۔
ایک عظیم ساینسدان آئن سٹائن تحقیق و جستجو کے میدان میں فکر و خیال کے گھوڑے دوڑائے اور دنیا کو ایک سو اسی کے زاویے میں بدل دیا۔ ثبات کو تغیر کا نام دینے میں کامیا ب ہو گیا۔ ساکن وقت کو سمت کے رخ میں ڈال دیا۔ مادے کو توانائی اور غٖیر مرئی توانائی کو مادے میں تبدیل کرنے کا فن دنیا کو بتا دیا۔تحقیق اور جستجو اور سوچ بچا ر سے نا ممکنات کو ممکنات کے دائرے میں لایا۔اسی طرح ایک اور نام نیوٹن جو کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ سائنس کا ادنیٰ سا طالب علم بھی اس سے واقف ہے اسے یہ مقام و مرتبہ تحقیق کے بدولت ملا۔اس سوچ و فکر اور غو ر و خوض کے بدولت ملا۔ اس مشاہدے کے بدولت ملا جو اس نے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر چند لمحوں کے لئے کیا تھا۔ اگر وہ درخت سے گرنے والے سیب کو اٹھا کر کھا لیتا اور کپڑے جھاڑتا چل دیتا تو وہ کشش ثقل کا اصول بھی دریافت نہ کر پاتا۔ وہی بیٹھے بیٹھے صرف چند لمحوں کے غور و خوض سے اس نے کشش ثقل کا اصول دریافت کر لیا۔ سائنس ، طبیعات کے خدمات اور قوانین و اصول کا ایک ایسا بیش بہا خزانہ اس دنیا کو دیا جن سے آج بھی ہم استفادہ کر رہے ہیں۔ اس نے سائنس کے میدان میں بلا شبہ ایسے کارہائے نمایاں کئے ہے کہ وہ امر ہو گیا۔
تدبر و تحقیق ، مشاہدات اور تجربات کا دوسرا نام سائنس ہے۔سائنس بذات خود کوئی شے نہیں بلکہ اسے وجود میں لانے کے لئے مشاہدہ اور تحقیق درکار ہے۔ یعنی حوصلہ و ہمت ،جستجو اور سوچ و فکر لازمی ہے۔ تحقیق و جستجو والے فکر کو لیکر ہم نئے جہانوں کا سفر کر سکیں گے۔ نئی دنیائیں منتظر ہیں کہ کب انسان آکر ہمیں فتح کریگا۔ ہمیں حوصلہ و جستجو اور غورو خوض چاہئیں۔ یہ تین لا زوال جزبے مل کر تحقیق کا احیا کرتے ہیں ۔اسے وجود دیتے ہیں ۔جس شخص پر عقل حکمرانی کرتی ہے وہ تحقیق کا بادشاہ ہے۔ عقل اسے تحقیق پر ابھارتی ہے اور تحقیق اسے بام و عروج پر پہنچاتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں