32

آغا خان گرلز ہائیر سیکنڈری سکول میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباوو طالبات میں تقسیم انعامات کی تقریب منعقدہوئی

چترال(نامہ نگار)میٹرک کے امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباؤ طالبات کی حوصلہ افزائی کے سلسلے میں آغا خان گرلز ہائیر سیکنڈری سکول کوراغ میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت پرنسپل ریٹائرڈ مکرم شاہ نے کی جبکہ ادارے کی جنرل منیجر بریگیڈئیر خوش محمد ، اسسٹنٹ کمشنر مستوج حمید اللہ خٹک بھی سٹیج پر موجود تھے۔ اس موقع پر سکول پرنسپل سلطانہ برہان نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ اسی ادارے کے تحت چلنے والے سین لشٹ اور کوراغ سکولوں کے طلبا و طالبات نے نمایاں پوزیشن حاصل کی اور ان کی حوصلہ افزائی کیلئے یہ تقریب منعقد کی گئی تاکہ یہ بچے مزید شوق سے پڑھیں اور آگے بڑھیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر حمید اللہ خٹک نے ادارے کے کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بالائی چترال میں یہ واحد ادارہ ہے جسے ہم اپنے مہمانوں کو دکھانے کے ساتھ ساتھ اس کی اعلیٰ کارکردگیکی مثال بھی دیتے ہیں اور اس دور افتادہ پہاڑی علاقے میں اس قسم کا معیاری ادارے کا ہونا یقینی طور پر کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ صدر محفل مکرم شاہ نے کہا کہ آج کل مقابلے کا دور ہے اور جو طالب علم اس دوڑ میں آگے نکلے گا وہ کامیاب ہوگا ورنہ خالی پاس ہونا کافی نہیں ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے کے ای ایس کے جنرل منیجر بریگیڈئیر خوش محمد نے طلباء و طالبات کی پر اعتمادی کا تعریف کی ۔آخر میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا و طالبات میں انعامات تقسیم کئے گئے جن کے نام یہ ہیں۔سائنس گروپ کے علی نواز خان نے میٹر ک کے سالانہ امتحان پارٹ ٹو میں 1100 میں سے 1000 نمبر لیکر آغا خان یونیورسٹی ایجوکیشن بورڈ میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ حنیف علی نے ریاضی میں سو فی صد نمبر لئے اور 550 میں سے 507 نمبر حاصل کئے۔ وسیمہ ناز نے اسلامیات میں 98فی صد نمبر لئے جنہوں نے 1100 میں سے 990 نمبر لیکر 17واں پوزیشن حاصل کی۔ حرا ناز نے میٹرک پارٹ ٹو کے امتحا ن میں 1100 میں سے 1027 نمبر لیکر پورے پاکستان میں آغا خان یونیورسٹی ایجوکیشن بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ جبکہ اردو میں 97 فی صد نمبر لیکر نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ تقریب کے آخر میں طالبات نے مختلف ا سٹال کے نمائش، کویز کمپٹیشن میں بھی حصہ لیا۔ اس تقریب میں کثیر تعداد میں والدین، طلباو طالبات ، اساتذہ، انتظامی امور کے افسران نے اور سماجی کارکنوں نے بھی شرکت کی۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں