46

سرتاج الانبیاء ﷺ۔۔۔۔تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

قیامت کے دن جب کائنات کا اکلوتا خدا غضبناک ہو گا پو ری مخلوق اولیاء اللہ نبی پیغمبر خدا کے غضب سے تھر تھر کا نپ رہے ہو نگے غم و پریشانی میں مبتلا مخلوق مدد مدد پکار تی آخر کار سرور کائنات شہنشاہِ دو عالم ﷺ کے حضور حاضر ہو کر شفاعت کی درخواست کر ے گی تو شافع محشر ﷺ اپنا سایہ رحمت پھیلا کر مخلوق کو حوصلہ دیتے ہیں اور خدا کے حضو ر شفاعت کی درخواست کر تے ہیں شہنشاہِ دوعالم ﷺ فرماتے ہیں میں چل کر عرش الٰہی کے قریب حاضر ہوں گا اور اپنے خدا سے شفاعت کی اجازت طلب کر وں گا ‘ربِ کائنات مجھے اجا زت دیں گے ‘رب کعبہ عرشِ عظیم پر جلو ہ افروز ہو ں گے تو میں نے خدا ئے بزرگ و برترکے احترام میں سجدہ ریز ہوجاؤں گا اور پھر میں رب کا ئنات کی حمد و ثنا ء اِس شان سے بیان کروں گا کہ آج تک کسی نے خدا تعالیٰ کی ایسی شان و عظمت بیان نہ کی ہو گی ۔ میں کتنی دیر تک خدا کے حضور سجدہ ریز ہو کر حمد و ثنا کر تا رہو ں گا کہ اللہ تعالی کی طرف سے ندا آئے گی اے میرے محبوب ﷺ اپنا سر مبا رک سجدہ سے اٹھا ؤ اور آج مانگو جو تم مانگنا چاہتے ہو آج تم جو بھی ما نگو گے میں دوں گا ‘آج آپ ﷺ شفا عت کریں جس کی بھی میں اُس کی شفاعت کروں گا ‘آج آپ ﷺ کی شفا عت قبو ل کی جائے گی ‘رب رحم کریم کے رحمت بھرے الفاظ سن کر میں اپنا سر سجدے سے اٹھا ؤں گا اور درخواست کروں گا ‘اے میرے پروردگار میری امت پر رحم فرما اور اِس کو نجات دے ‘اے میرے پروردگار میری امت پر رحم فرما اور اِن کو نجا ت دے ‘تو میرا رحیم پروردگار فرمائے گا اے میرے محبوب بہشت کے دروازے دائیں جانب کے دروازوں سے اپنے ان امینوں کو داخل کرو جن سے کو ئی حساب نہیں لیا جا ئے گا اور جنت کے دوسرے دروازوں سے بھی آپ ﷺ کی امت جنت میں داخل ہو گی حضرت انسؓ روایت بیان کر تے ہیں ۔ میں پھر اللہ تعالی کے حضور سجدہ ریز ہو جا ؤں گا مجھے کہا جا ئے گا اے میرے محبوب ﷺ اپنا سر مبارک اٹھا ؤ آج جو تم عرض کرو گے میں وہ سنو ں گا تم جس کی بھی شفا عت کرو گے میں شفاعت قبول کروں گا آج میرے محبوب ﷺ آپ جو بھی مانگو گے میں سنوں گا تم جس کی شفا عت کرو گے میں شفاعت قبو ل کروں گا آپ ﷺجوما نگیں گے وہ ضرور آپ ﷺ کو دیا جا ئے گا خدائے رحیم کریم کے اِس عظیم کرم پر میں عرض کروں گا اے میرے پروردگار میری امت کو بخش دے تو خدا ئے بزرگ و برتر کی نگا ہِ رحمت سے یہ جواب ملے گا آپ ﷺ تشریف لے جا ئے اور آپ ﷺ کے جس امتی کے دل میں گندم یا جو کے دانے برابر بھی ایمان ہے اس کو دوزخ سے نکا ل کر جنت میں لے جا ئیے خدا ئے رحیم کر یم کے ارشاد پر میں جا ؤں گا اور ایسے تمام لوگوں کو جن کے دل میں گندم یا جو کے دانے برابر بھی ایمان ہو گا ان کو بھڑکتے ہو ئے جہنم سے نکال کر جنت الفردوس کی بہاروں میں داخل کرا دوں گا پھر واپس آکر اپنے خدا کی با رگاہ میں سجدہ ریز ہو جا ؤں گا اور اُس عظیم خدا کی حمد و ثنا کروں گا تو پھر رب کا ئنات فرمائیں گے اے محبوب اب تو عجز و نیاز کی حد ہو چکی‘ اپنا سر مبارک سجدہ سے اٹھا کر بو لیں اور مانگتے جا ئیں میں دیتا جا ؤں گا میں سنتا جا ؤں گا تم سفارش کر تے جا ؤ میں شفاعت قبول کر تا جا ؤں گا پھر با رگاہِ الٰہی سے اارشاد ہو گا ہر وہ شخص جس کے دل میں رائی کے برابر بھی ایمان ہو گا اس کو جنت میں لے جا ؤ چنا نچہ میں اپنے تمام امتیوں کو جن کے دلوں میں رائی کے برابر بھی ایمان ہو گا اُن کو بہشت میں پہنچا دوں گا اور میں تیسری با ر پھر سجدہ ریز ہو جا ؤنگا تو رب ذولجلال فرمائیں گے ۔ اے میرے حبیب ﷺ جس تیرے غلام کے دل میں رائی کے دانے سے بھی کم ‘بہت کم ‘بہت ہی کم ایمان ہے اس کو بھی جہنم سے نکال کر فردوس بریں میں پہنچا دیں چنانچہ میں ایسا ہی کروں گا رحیم کریم پیارے آقا ﷺ پھر سجدہ ریز ہو نگے اور خدائے بزرگ و برتر کی حمد و ثنا کریں گے تو رحیم کریم خدا ئے بے نیاز کا پیمانہ رحمت پھر چھلک پڑے گا اور ارشادِ ربانی ہو گا اے میرے محبوب ﷺ اپنا سر مبارک اٹھاؤ تم کہتے جا ؤ تم مانگتے جا ؤ میں دیتا جا ؤں گا تو نبی رحمت عرض کریں گے اے میرے پروردگار مجھے اجازت عطا فرمائیں میں ہر اس شخص کو جنت میں پہنچا دوں جس نے لا الِہ الا اللہ کہا ہے اللہ تعالی فرمائیں گے اے محبوب ﷺ یہ میرا کام ہے ‘مجھے اپنی شان اور عزت کی قسم ‘اپنی کبریا ئی کی قسم ‘اپنی عظمت کی قسم ‘اپنے جبر و قہر کی قسم میں ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لوں گا جس نے لا اِلہ الا اللہ پڑھا ہو۔حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ جب مخلوق نبی کریم ﷺ کی با رگاہ میں حاضر ہو گی اور اپنی شفا عت کی درخواست کرے گی تو پھر پل صراط بچھا دیا جا ئے گا اور پھر نبی رحمت ﷺ نو ر مجسم شافع محشر ھا دی دو جہاں سردار الانبیا ء ﷺ کی رحمت سے جن کو شفاعت مل جا ئے گی وہ پھر پل صراط سے گزریں گے بعض لوگ بجلی کی تیزی سے گزریں گے اور بعض ہوا کی رفتار سے گزریں گے اور بعض پرندوں کی طرح پرواز کر تے ہو ئے گزریں گے اور آقا کریم ﷺ کی محبت و شفقت اور مخلوق سے والہانہ محبت دیکھیں جب مخلوق پل صراط سے گزر رہی ہوگی اُس وقت نبی رحمت پل کے نزدیک کھڑے ہو کر با رگاہِ الٰہی میں التجاکر رہے ہو نگے اے میرے خدا اے میرے کریم خدا میرے امتیوں کو اس نازک مرحلے سے آسانی اور سلامتی سے گزار ۔ نبی کریم ﷺ کی اپنی امت سے محبت کا اندازہ کو ن کر سکتا ہے کہ ساری عمر اِس جہان فانی میں شب و روز اپنی امت کی بخشش کی دعائیں کر تے رہے ساری ساری رات عبا دت کر تے آنسوؤں کا نذرانہ خدا کے حضور پیش کر تے ہر وقت اپنی ذات کی بجائے اپنی امت کی فکر رہی ‘اپنی امت کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے ساری عمر سجدہ ریز رہے ‘ہا تھ امت کی بخشش کے لیے اٹھا ئے رکھے ‘کبھی بد دعا نہ دی ‘ ہمیشہ دعا دی‘ ہمیشہ امت کی بخشش کی فکر رہی ‘سردار الانبیا ء سرتاج الانبیاء ﷺ جو وجہ تخلیق کا ئنات تھے جو محبوب خدا تھے جو پاک تھے ہر گنا ہ سے جو بخشے ہو ئے تھے لیکن امت کا درد اتنا زیا دہ کہ ہر وقت امت کی فکر رہتی ہمیشہ امت کو روز محشر کا احساس دلاتے رہے آپ ﷺ سراپا رحمت تھے آپ ہی بے آسروں کے آسرے تھے آپ ہی مظلوموں بے کسوں بے سہا روں کا آخری سہا را تھے اِس دنیا میں بھی اور اگلی دنیا میں بھی روز محشر جب کو ئی کسی کو نہ پہچانے گا تو اُس وقت بھی نبی رحمت ﷺ ہی اپنے سایہ رحمت میں لے کر مخلوق کو جہنم کی آگ سے بچا کر فردوس بریں میں پہنچائیں گے روز محشر جب خدا کا جلا ل اور غضب جو بن پر ہو گا تو اُس دن بھی نبی رحمت ہی کا آسرا ہو گا حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے ہر نبی کو ایک دعا مانگنے کی اجا زت دی گئی جس کی قبولیت کا خدا ئے بزرگ و برتر نے وعدہ کیا سب انبیا ء علیہم السلام نے اپنی دعا کو اس دنیا میں ہی مانگ لیا جب کہ نو ر مجسم سرور دو جہاں ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے اِس مقبول دعا کو چھپا رکھا ہے تا کہ قیا مت کے دن اس دعا کو امت کی شفاعت کے لیے مانگوں ‘قربان جا ئیں آقائے دو جہاں ﷺ پر جو اِس دنیا اور اگلی دنیا میں پہلے اور آخری حقیقی سہارے ہیں آپ ﷺ ہی اپنی آغوش رحمت میں لیں گے ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں