36

عوامی نیشنل پارٹی کا جلسہ عام ؛سابق وزیر اعلیٰ حیدر ہوتی نے خطاب کیا؛ چترال میرا دوسرا گھر ہے ، نظر انداز نہیں کرسکتے

چترال(محکم الدین)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی نے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے میں خیبر پختونخوا ہ کوبھی اْتنا ہی حصہ ملنا چاہیے جتناپنجاب اور دیگر صوبوں کو مل رہا ہے۔چترال میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ حیدر ہوتی نے کہا کہ پاکستان کے چار صوبے چار بھائیوں کی طرح ہیں اس لئے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ سب کو برابر حصہ ملے۔ ہماری جدو جہد ملک کو کمزور کرنے اور نفرتیں بانٹنے کیلئے نہیں بلکہ مضبوط وفاق کیلئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کی سیاست صرف پنجاب تک محدود ہے اور بعض سیاستدان یہ سوچ رہے ہیں کہ پنجاب میں اکثریت کے بغیر ملک کا وزیر اعظم نہیں بن سکتا۔موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آج نواز شریف اور عمران خان کا باہمی جھگڑا تخت لاہور کیلئے ہے ملک کی ترقی کیلئے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف ایک نرم مزاج جبکہ عمران خان ترش لب ولہجے کے حامل شخص ہیں مگر انہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ کرخت زبان سے مسائل حل نہیں کئے جا سکتے۔خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ نے موجودہ صوبائی حکومت کی طرف سے انکے دور میں شروع کردہ منصوبوں کیلئے فنڈ فراہم نہ کرنے پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ہم نے لاوی ہائیڈل پاور پراجیکٹ ، چترال ماربل سٹی اور تعلیمی اداروں خصوصاً چترال یونیورسٹی اور دیگر منصوبوں پر سرخ جھنڈی نہیں لگایا کیونکہ یہ یہ چترال کی ترقی کے منصوبے تھے۔ اگر اللہ نے موقع دیا تو 2018کے الیکشن کے بعد یہ منصوبے پورے کرکے رہوں گا لیکن اس کیلئے چترال کے لوگوں کو ایک مرتبہ اپنا ووٹ اے این پی کے امیدوار کو دینا پڑے گا۔ حیدر ہوتی نے کہا ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس صوبے کی ترقی کیلئے چترال سے لے کر ڈی آئی خان تک اتفاق و اتحاد کا ایک مضبو ط بندھن قائم کریں تاکہ اپنی ترقی کے کام احسن طریقے سے انجام دے سکیں۔ ہم نے گذشتہ حکومت میں جو کام چترال کیلئے کیا تھا وہ چترال کے لوگوں پر کوئی احسان نہیں بلکہ یہ چترال کے لوگوں کا حق تھا۔ اگر گذشتہ حکومتیں اپنے دور اقتدار میں اپنے حصے کے اتنے کام کر جاتے تو آج چترال کے کئی مسائل حل ہو چکے ہوتے لیکن بد قسمی سے گذشتہ حکومتوں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے چترال میں اب بھی غربت اور بے روزگاری کا دور دورہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں چترال کو مسائل سے نکالنے کیلئے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔ آپ احسان فراموش لوگ نہیں ہیں، چترال کے لوگوں نے پرویز مشرف کو اْس وقت سپورٹ کیا جب اقتدار کے دوران اْس کے ارد گرد منڈلانے والوں نے اپنے راستے جْدا کردیے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی چترال کیلئے بہت کچھ کرنے کا دعوی نہیں کیا لیکن میں یہ جذبہ ضرور رکھتا ہوں کہ میں اقتدار میں آکر چترال کو وہ سب کچھ دوں گا جو اس ضلع کو ضرورت ہوں تا کہ چترال کے لوگوں کا کوئی گلہ نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ مردان کے بعد چترال میرا دوسرا گھر ہے اور میں چترال سے دلی محبت رکھتا ہوں۔ اس صوبے کیلئے اتحادو اتفاق کی انتہائی ضرورت ہے اور ہمیں اپنے مسائل حل کرنے کیلئے ایک پلیٹ فارم میں جمع ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے چترال کو مستقل بنیادوں پر رائلٹی دینے کی غرض سے ہائیڈل پاور سٹیشن شروع کئے جس سے صوبے کو اربوں اور چترال کو ڈیڑھ ارب روپے رائلٹی مل سکتی تھی۔ اس موقع پر پی پی پی کے سابق صدر عیدالحسین نے اپنے خاندان ،رفقا کی بڑی تعداد سمیت اور ڈاکٹر سردار نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا جس پر امیر حیدرہوتی نے پارٹی میں شامل ہونے والے سابق صدر پی پی پی عیدالحسین ،اْن کے ساتھیوں اور ڈاکٹر سردار محمد کو مبارکباد دی اور اْنہیں ٹوپی پہنا یا۔قبل ازیں سابق وزیر 3اعلیٰ حیدر ہوتی اپنے تین روزہ دورے پر چترال پہنچے تو ایئرپورٹ پر کثیر تعدا د میں کارکنوں نے انکا پرتپاک استقبال کیا۔انکے ہمراہ سابق وزیر تعلیم سردار حسین بابک ،ارم فاطمہ جوائنٹ سیکرٹری اور دیگر موجود تھے۔ درایں اثنا سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے شاہی مسجد میں تعمیراتی کام کا جائزہ لیاجس کی تعمیر کے لئے اْنہوں نے اے این پی کے صوبائی حکومت کی طرف سے3کروڑ 38لاکھ کاخطیر رقم دیا تھا۔بعد میں اْنہوں نے خطیب شاہی مسجد چترال مولانا خلیق الزامان ،امام شاہی مسجد قاری شبیر احمد اور دیگر علماء کرام سے بھی ملاقات کی۔خطیب شاہی مسجد خلیق الزمان نے حیدر خان ہوتی کو چترالی چغہ جبکہ قاری شبیر احمد نے اْنہیں چترال ٹوپی پہنایا۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں