33

وفاق نے ارکان اسمبلی جبکہ ہم نے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا۔مظفر سید ایڈوکیٹ

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ مرکز اور ہمارے صوبے کی ترجیحات میں فرق کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ وفاق نے اپنے وزراء اور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں ڈیڑھ سو فیصد سے زیادہ اضافہ کیا ہے جبکہ حکومت خیبر پختونخوا اس سے بھی زیادہ اضافہ اپنے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کر رہی ہے چاہے اس کے لئے ہمیں اپنی ہی مراعات اور اخراجات پر کٹ کیوں نہ لگاناپڑے تاکہ سرکاری اہلکار پوری دلجمعی سے عوامی خدمات انجام دیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری صوبائی حکومت نے پہلے ہی اپنے ملازمین کی اپ گریڈیشن کے علاوہ ترقیوں کے ہزاروں کیس نمٹائے جو ایک ریکارڈ ہے اور اس سے ہماری ترجیحات کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ فی الحال ہمیں مالی مشکلات درپیش ہیں اور اس ضمن میں صوبائی حکومت نے مقتدر سیاسی حلقوں کی معاونت حاصل کر لی ہے اور وفاق کے ساتھ تمام مالی معاملات بھی بطریق احسن نمٹا دیئے جائیں گے ۔وہ محکمہ خزانہ سول سیکرٹریٹ پشاور کے کمیٹی روم میں محکمہ مدارس و خواندگی کے ای ڈی اوز اور مینجمنٹ کیڈر کے افسران کی ترقیوں اور اپ گریڈیشن سے متعلق اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔محکمہ تعلیم کے سپیشل سیکرٹری قیصر عالم خان،محکمہ خزانہ کے سپیشل سیکرٹری محمد ادریس مروت،ایڈیشنل سیکرٹری ریگولیشن نصراللہ،ڈائریکٹر ایجوکیشن رفیق خٹک اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور مینجمنٹ کیڈر میں تدریسی عملے اور کلرک و کمپیوٹر آپریٹرز کی برق رفتار ترقیوں کے تناظر میں پیدا ہونے والے احساس محرومی کو دور کرنے کیلئے طور طریقوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مختلف اقدامات تجویز کئے گئے۔ مظفر سید ایڈوکیٹ نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت نے شروع دن سے پالیسی اپنائی ہے کہ جن سرکاری ملازمین کی ترقیوں کے امکانات ختم ہوں وہاں ان کی اپ گریڈیشن کر دی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔انہوں نے کہا کہ مختلف محکموں کے وزراء اور انتظامی سیکرٹریوں کو اپنے ملازمین کے ماں باپ کی حیثیت حاصل ہے اور والدین کبھی نہیں چاہیں گے کہ اپنے ایک بچے کو تو سہولت دیں اور دوسرے کو اس سے محروم رکھیں اس لئے ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ مختلف شعبوں اور طبقوں کے ملازمین کو الگ الگ اور مختلف اوقات میں سہولیات اور مراعات دینے کی بجائے بلا امتیاز سب کے مسائل و ضروریات کا یکمشت جائزہ لیا جائے اور ایک ہی جامع پالیسی وضع کر کے ا نہیں بیک وقت سہولیات دینے اور تنخواہوں میں اضافے کے فیصلے کئے جائیں اس مقصد کیلئے وہ وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری سے بھی ملاقاتیں کر کے تمام محکموں کی جائزہ کمیٹیوں کو فعال بنانے کے ضمن میں رہنمااصول تشکیل دیں گے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں پہلے دن سے ایمر جنسی کے نفاذکا اعلان کر کے ہم نے ان دونوں شعبوں کو اپنی ترجیحات کا محور بنا دیا ہے اس لئے اگر ہم نے شعبہ تعلیم میں تدریسی عملے کی شفاف ترقیوں کا عمل تیز کیا تو مینجمنٹ کیڈر کو بھی آگے بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کے نکھار کے مواقع مہیا کریں گے جس کیلئے ہماری اولین شرط صوبے بھر میں معیار تعلیم کی بہتری اور شاندار امتحانی نتائج کا حصول ہے اور ہمیں امید ہے کہ محکمہ تعلیم کے جملہ ملازمین اس ضمن میں حکومت اور بچوں کے والدین دونوں کو مایوس نہیں کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں