32

سی این بی اے کے تعاون سے ضلعی سطح پر بجٹ تیاری کے مراحل پر مشتمل جائزہ رپورٹ پیش

چترال نیوز(نمائندہ ڈیلی چترال)سی پی ڈی آئی کی جانب سے(سییٹزن نیٹ ورک فار بجٹ اکا ؤنٹ ابیلیٹی (سی این بی اے) کے تعاون سے ضلعی سطح پر بجٹ تیاری کے مراحل پر مشتمل جائزہ رپورٹ پیش کر دی گئی ۔جس کے مطا بق ضلعی سطح پر بجٹ کی تیاری میں شفافیت اورعوامی شمولیت کی خاطر خواہ کمی پائی گئی۔سی پی ڈی آئی کے شمس الھادی نے کہاکہ اکثر اضلاع میں بجٹ کال لیٹرز،جاری نہیں کیے گئے جبکہ آمدنی و اخراجات کے تخمینہ جات لگانے سمیت عوامی مشاورت کی کمی دیکھی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کو بھی چاہیے کہ وہ ہر سال ماہ اپریل میں اسمبلی میں بجٹ پیش کرے تاکہ اس پرحکومت اور اپوزیشن ممبران 1کی جانب سے خاطر خواہ بحث کی جاسکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سروے رپورٹ کا مقصد ضلعی سطح پر بجٹ کی تیاری کا جائزہ لینا ہے آیا کہ بجٹ رولز2016 پر عملدرآمد کرتے ہوئے اسکی ٹائم لائن کو فالو کیا جاتا ہے یا نہیں۔ اس سلسلہ میں سول سوسائٹی نیٹ ورک کے ذریعے پنجاب کے تمام اضلاع سے معلومات حاصل کی گئیں کہ وہاں بجٹ سازی میں عوامی شمولیت کس قدر پائی جاتی ہے ۔ شمس الھادی کا کہنا تھا کہ بجٹ حکومت کی ایک انتہائی اہم دستاویز ہوتی ہے اور آج کے ترقی یافتہ دور میں عوامی رائے کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے تیار کیا جاتا ہے وفاقی اور صوبائی بجٹ نہ صرف اسمبلیوں میں پیش کرکے اس پر بحث کی جاتی ہے بلکہ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے عوامی شمولیت بھی یقینی بنائی جاتی ہے لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں کیا جاتا۔سروے رپورٹ کی تفصیلات دیتے ہوئے شمس الھادی نے بتا یا کہ بجٹ سازی کے عمل میں شدید بد انتظامی دیکھنے میں آئی ہے ۔شمس الھادی نے کہا بجٹ ایک اہم دستاویز ہے۔ موجودہ دور میں پالیسیاں عوام کی شرکت سے بننی چاہیے۔ اونہوں نے مزید کہا کہ وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کی بجٹ پر میڈیا پر بحث ہوتی ہے جبکہ ضلعی بجٹ خاموشی میں منظور ہوجاتا ہے۔ پرونشل کواڈینٹر نے کہا کہ بجٹ ایک تسلسل کا عمل ہے۔ انھوں نے کہا بجٹ سروے سے ظاہر ہوا کہ ضلعی بجٹ بدنظمی پائی گئی۔ عوام کی شرکت کو بلکل نظرانداز کیا۔کوئی بھی ضلع 6 pre budget statement بجٹ رونر کیمتابق جاری کرنے میں نا کام رہی 17 اضلاع نے (BCL) وقت پر جاری نہ کیا۔18 اضلاع کے بجٹ کو 30 june منظور کرنے میں نا کام رہی۔صرف 3اضلاع کی ویب سائٹ موجود ہے۔ ضلعی بجٹ کے دفاتر میں 63 اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بجٹ سازی میں سول سوسائٹی کی شمولیت یقینی بنائی جائے اور اس اہم دستاویز تک عام شہریوں کو رسائی دی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ نظام حکومت کو چلانے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ جن کے ادا کردہ ٹیکسوں سے بجٹ بنایا جاتا ہے انکی شمولیت کو اہمیت دی جانی چاہیے ۔ اس حوالے سے چترال میں ایک پراگرام ہوئی جس میں ڈسٹرکٹ نائب ناظم مولاناعبدالشکور،انجینئرتیمورشاہ ،آرسی ڈی پی کے کواڈینیٹرنسرین بی بی اوردیگرسرکاری اہلکارموجودتھے

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں