169

آہ! اسامہ احمد وڑائچ شہید ۔۔۔تحریر فدا الرحمن

زندگی عارضی ہے کسی بھی چیز کو بقا نہیں۔ لیکن ہم زندگی کا یہ کڑوا سچ بھول کر وقت کی خوش گمائیوں میں کھو جاتے ہیں ،جو سامنے منظر دیکھتے ہیں اسے سچ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ گمان خاموشی کے ساتھ وقت کا تعاقب کرتا رہتا ہے۔ لیکن جب ہم کبھی کسی کی موت کی خبر سنتے ہیں تو زندگی کی بے ثباتی کا احساس غیر محسوس اداسی کی صورت میں در آتا ہے۔ تاریخ انسانیت پر نظر ڈالی جائے تو اربوں انسانوں نے اس دنیا میں اپنی عمر گزاری اور موت کو گلے لگا کر فنا کی راہوں پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے معدوم ہو گئے۔
اوراق تاریخ میں صرف انہی لو گوں کا ذکر ملتا ہے۔ جنہوں نے اپنی زندگی میں کوئی کارہائے نمایاں انجام دئیے۔ کسی نے نیک کام کر کے نام کمایا اور کوئی برے کاموں سے پہچانا گیا۔ کسی کے حصے میں نیک نامی آئی تو کوئی ذلت و رسوائی کو سمیٹے بدنامی سے رخصت ہوا۔ تاریخ تو کسی کا لحاظ نہیں رکھتی۔ انساں جو کرتا ہے وہی بھرتا ہے۔
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا۔
اصل کردار تو انسان کا وہی ہوتا ہے جو ابنائے جنس اس کے بارے میں ایک تاثر، رائے اور خیال رکھتے ہیں۔ کتنا دلکش اور نہایت مناسب مصرعہ ہے کہ درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ۔
PIA کی بد قسمت طیارہ PK-661 میں شہید ڈپٹی کمشنر اسامہ احمد وڑایچ کی ذات اقبال کی اس شعر پر پورا اترتی تھی۔ اسامہ احمد وڑائچ کی شخصیت قابل سلام اور قابل رشک تھی ۔جو ہمیشہ انسانیت کی بھلائی کے کاموں میں اپنی توانائیاں صرف کرتے تھے۔24 سال کی کم عمر میں CSS کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کر کے اسامہ احمدوڑائچ اپنے خاندان کا سر فخر سے بلند کیا۔ اس کے بعد سرخی مائل مسکراہٹ لئے کامیابی و کامرانی کی اوٹ سے جھلکتا ہوانظر آیا اور جہاں بھی ان کی پوسٹنگ ہوئی اپنی قابلیت ،ذہانت اور دیانتد اری کی مثال قائم کر کے وہاں کے لوگوں کے دلوں میں عزت و احترام کا دائمی مقام بنا لیا۔جب کسی کم عمر آفیسر کا کسی ضلع میں پوسٹنگ ہوتی ہے تو وہاں کے سیاسی مافیاکے سامنے ان کا کردار کٹھ پتلی کا سا ہوتا ہے۔ لیکن اسامہ احمد وڑائچ شہید میں سیاسی مافیا کو رام کرنے اور میرٹ کی پاسداری کا فن کمال کا تھا۔اسامہ احمد وڑائچ جہاں بھی گیا ایک غریب پرور آفیسر کے طور پر مشہور ہوا، آپ برق خاطف بن کر ان عشرت کدوں کو بھسم کر ڈالا جہاں غریبوں کے خون سے جام بھرتے جاتے تھے۔ ان سیاسی چوہوں کے بلوں کو بند کر دیا جو ایوان اقتدار میں گھس کر ملکی معیشت کی جڑیں کھوکھلی کر رکھے تھے۔ چترال میں پوسٹنگ ہوتے ہی یہاں آکر تجاوزات کے خلاف زبردست ایکشن لیا اور چترال کے بازار کا نقشہ ہی بدل دیا۔ چترال آکر ایک بہت اہم مشکل کام ٹمبر مافیا کے گریباں میں ہاتھ ڈال کر کیا۔
قومی اثاثے کی حفاظت کے لئے ایسا سپر ہوگیا کہ ٹمبر مافیا کو بھیگ مانگنے پر مجبور کر دیا۔ ایک قامل منتظم کی حیثیت سے ضلع چترال کے تمام سرکاری محکموں کا قبلہ درست کر دیا۔ وہ ایک نڈر اور بیباک آفیسر تھے۔ اپنی ذہنی، فکری، قلبی اور انتظامی صلاحیتوں کو چترالیوں کی زندگیوں میں امید اور خوشیوں کے پھول کھلا دئیے، کسی بھی مہذب معاشرے میں لائیبریوں کے بعد پارکوں کی اہمیت ہوتی ہے۔ چونکہ چترال میں سیر و تفریح اور صحت مند سرگرمیوں کے لئے کوئی عوامی پارک نہیں تھا۔اسامہ احمد وڑائچ شہید نے اس کمی کو شدت سے محسوس کیا۔ اور اپنے انتظامی قابلیت کو بروئے کار لاکر صرف 45 دنوں کی قلیل مدت میں ایک شاندار پارک تیار کر کے چترالی عوام کو تحفہ میں دیا۔ مخالفیں یہاں بھی اختلاف کا خود ساختہ حق ادا کیا اور خود اپنی جان پر روگ لگاتے رہے۔ کیونکہ وہ عظیم انسان عوامی مفاد کے خلاف کسی بھی طاقت کے آگے مات نہ کھانے کا عزم کیا تھا۔ سو بڑوں اور بزرگوں کے ساتھ ساتھ وہ بچوں کا بھی ہیرو بن گیا۔ اب اسے قوم کے نو نہالوں کی روشن مستقبل کی فکر ستانے لگی تھی۔ اسامہ احمد وڑائچ شہید اس فکر کو عملی شکل چترال کیرئیر اکیڈمی کی بنیاد رکھ کر دی۔ مختلف میڈ یکل کالجوں اور انجینیرنگ یونیورسٹیوں میں داخلے کے لئے ٹیسٹ کی تیاریوں کے سلسلے میں چترالی طلباء بڑے شہروں کا رخ کر تے تھے۔ جہاں انہیں معاشی اور مختلف قسم کی ذاتی مسائل درپیش ہوتے تھے۔ عظیم ڈپٹی کمشنر طلباء کے ان مسائل کا ادارک رکھتے ہوئے چترال کیریئراکیڈمی میں گھر کی دہلیز پر ہی وہ تمام سہولیات فراہم کیا جو بڑے شہروں کی اکیڈمیوں میں میسر تھے۔اسکے لئے تعلیمی میداں میں کام کرنے والے NGO کی خدمات بھی حاصل کئے۔ اساتذہ کو فنی تربیت دینے کے لئے کراچی سے ماسٹر ٹرینربلایا۔ کلاسز کی observation اور طلباء کی حوصلہ افزائی کے لئے آپ ہر روز ایک گھنٹہ چترال کیرئیر اکیڈمی میں گزارتے تھے۔ طلباء کو درپیش مسائل سے آگاہی حاصل کرتا اور منٹوں میں ہی انھیں حل کرتے تھے۔ بچوں کی حوصلہ افزائی کے لئے چیف سیکرٹری KPK اور کمشنر ملاکنڈ کو بھی چترال کیرئیر اکیڈمی کا وزٹ کرایا۔
اسامہ احمد وڑائچ چترالی قوم کے لئے خداوند کریم کی طرف سے ایک عظیم تحفہ تھا۔ وہ بکھرے اور بے ہنگھم لوگوں میں نظم اور ضبط بھر دینے والا شخص تھا۔ پھولوں اور گلابوں جیسا آدمی کہ جس کی شخصیت سے خوشبو چھن چھن کر آتی تھی ۔ اسے لوگوں کے ٹوٹے ہوئے دلوں میں امید اور رجائیت بھرنے کا ہنر آتا تھا۔بات کرتا تو سچائی اسکے نطق کا سنگھار بن جاتی تھی۔ مجھے ان کی شخصیت ایک ناؤ کی طرح لگتی تھی جو سطح آب کے ہچکولوں سے کھبی ڈنواں ڈول نہ ہوئی۔ اسامہ شہید کوجو پزیرائی نصیب ہوئی وہ کسی اور ڈپٹی کمشنر کو کم کم ہی نصیب ہوئی ہے۔ قطرہ قطرہ کرپشن کا زہر ٹپکنے والی اس دھرتی پر انصاف اور قانوں کی بالادستی کا نعرہ مستانہ لگا کر اسامہ احمد وڑائچ شہید چترالی قوم کا محسن اور ہیرو بن گیاتھا۔ڈی سی آرہاہے ،بجائے خود ایک ر ندانہ نعرہ تھا، مستانہ نعرہ تھا اس نعرے میں اس عظیم انسان کی صداقت و بیباکی کا پورا جذبہ موجزن تھا۔ اسامہ احمد وڑائچ شہید کو معلوم تھاکہ شمع پروالہانہ جاں نثار کر دینے والے پروانے کا سوز جگر کھبی آلودگی پر گرنے والی مکھی کو نہیں ملا کرتا۔
PIA کا بدقسمت طیارہ PK-661 ہم سے ہمارا محسن چھیں لیا۔ ہم کو یتیم کر دیا۔ وہ لمحے کتنے ستم گر تھے جو ہمارے محسن کو جل کر راکھ ہوتے ہوئے دیکھے۔
مجھ کو معلوم نہ تھا تیری قضا سے پہلے
نجم تاباں بھی زمین دوز ہوا کرتے ہیں

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں