تازہ ترین
معدومیت کے خطرے سے دوچار مذہبی اور لسانی اقلیت کالاش اور دیگر مادری زبانوں کے شمار کے بغیر چھٹی مردم شماری قابل قبول نہیں،عمائدین کاپریس کانفرنس


سے مطالبہ کیا ہے کہ چھٹی مردم شماری کو ناکامی سے بچانے کے لئے اس میں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق مذہبی اقلیت کالاش اور ان کی زبان کالاشہ کے ساتھ دیگر مادری زبانوں مثلاً کھوار، گوجری، پالولہ، یدغا، شینا، گاؤری، گواربتی، بشگالی وار، توروالی، بلتی، بروشسکی، گوجالی، سریقولی، ڈامیا سب کے لئے الگ خانہ مخصوص کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پاکستان کی تمام زبانوں اور اقلیتوں کی آبادی کو دیکھایا جائے ۔ کالاش اقلیت اور دیگر زبانوں کے نمائندوں نے اس امر پر دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے کہ شماریات ڈویژن نے پانچ مذاہب کا نام لے کر کالاش کے لئے صفر کا عددلکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس طرح مردم شماری میں صفر ، چترال ، غذر، تاجکستان، کابل، سکنیانگ اور پاکستان کے تمام شہروں میں بیس لاکھ آبادی کی زبان کھوار اور دیگر اہم تمام پاکستانی زبانوں کے لئے صفر لکھنے کا طریقہ اپنایا ہے جوکسی بھی طورپر ہمارے لئے قابل قبول نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کالاش اقلیت کو عالمی ورثہ قرار دینے کی تجویز دوبار عالمی فورم پر صرف اس وجہ سے مستردہوئی کہ مردم شماری رپورٹ میں کالاش کا نام نہیں تھا۔ انہوں نے کہاکہ 2015ء میں وزارت داخلہ اور نادرا نے کالاش اقلیت کو ریکارڈ میں شامل کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یونیسکو اور ECOSOCجیسے عالمی فورموں پر اس کا مطالبہ کیا جارہا ہے ، اس لئے چیف جسٹس آف پاکستان سے سوموٹو نوٹس لینے کی اپیل کی جاتی ہے۔