ناردن سوئی گیس پلانٹ تنصیب کے حوالے سے ایم این اے چترال شہزادہ افتخار الدیں اور سروے ٹیم کا دورہ سب ڈویثرن مستوج

بونی ( جمشید احمد)ناردن سوئی گیس پلانٹ تنصیب کے حوالے سے ایم این اے چترال شہزادہ افتخار الدیں نے سب ڈویثرن مستوج کا دورہ کیا ان کے ہمراہ ناردن سوئی گیس پلانٹ کے اعلی حکام سنیر جنرل منیجر اعجاز احمد چودھری سینئرانجینئرصولت رشید لون، شہزادہ خالد پرویز دیگر موجود تھے مقامی ہوٹل بونی میں وریجون ،کوشٹ، چرون ،بونی کے عمائیدیں ، کونسلر اورُ پارٹی کارکنان سے خطاب کر تے ہوئے کہا انہوں نے کہ وفاقی حکومت چترال کی ترقی کے لیے آربوں روپے خرچ کر رہے ہیں جس سے کئی بڑے منصوبوں میں کام جاری ہیں اور بعض مکمل ہو رہے ہیں جن کا وزیر اغظم پاکستان میاں محمد نواز شریف خود عنقریب افتتاح کر رہے ہیں ۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض سیاسی مخالفین وفاقی حکومت کے منصوبوں کو اپنے کھاتے میں ڈال کر عوام کو بے وقوف بناکر اپنے لیے کریڈٹ لینے کی ناکام کوشیش کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ایم پی اے سردار حسین کے ساتھ میرا قریبی تعلق ہے ا نہوں نے وفاقی حکومت کے منصوبوں کوخاص کر تورکھو روڈ کی وفاقی حکومت کے مختص شدہ فنڈ کو اپنے کھاتے میں ڈال کر عوام کو مطمئن کر رہے ہیں اور دوسروں کو چلنچ کر رہاہے جس سے عوام بخوبی واقف ہیں اس منصوبے کی تمام ریکارڈ محکمہ سی این ڈبلیو کے پاس ہیں ہم کسی سے مقابلہ نہیں کریں سچے دل سے عوام کی خد مت کے لیے تیار ہیں اور عوام کا ہم پر مکمل اعتماد ہے انہوں نے مزید کہا کہ اس لیے اوویر تاتریچ روڈ کو سروے کے لیے این ایچ اے کا حوالہ کیا گیاہے تاکہ صوبائی اور
وفاقی حکومت کی منصوبوں کے درمیاں کوئی چبقلش پھر باقی نہ رہے انہوں نے ایک کتابچہ نکال کر وفاقی حکومت کے کاموں اور ترقیاتی منصوبوں سے حاضرین کو اگاہ کیا اور مطمئن کیا ۔گیس پلانٹ کے حوالے بات کر تے ہوئے انہوں نے کہا چترال کے کئی مقامات کے لیے گیس پلانٹ کے سروے کیے گئے ہیں ان میں چترال ،ایون، اور دروش کے لیے پلانٹ لگا دیے جائیں گے اس کے بعد بونی موڑکھو، کوشٹ پلانٹ لگا دیے جائیں گے اور یہ علاقہ بہت جلد پلانٹ کی افادیت سے مستفید ہونگے ۔ کمپنی کے سنیئرجنرل منیجر اعجاز احمد چودھری نے پلانٹ کے سلسلے میں حاضریں کو اگاہ کیا انہوں نے کہا کہ بہت جلد چترال کے عوام کو ایک سستی گیس یعنی لاہور اسلام اباد کے نرخ پر مہیا کی جائے گی جس سے اس علاقے کی ایندھن کا مسئلہ حل ہو جائے گا پلانٹ کے سلسلے میں ایم این اے کی کوشیشوں کو سراہا ۔ اس بعد میں پلانٹ لگانے کی جہگوں کا معائینہ کیا گیا اور علاقے کی وسعت کو دیکھتے ہوئے بونی موڑکھو کے لیے الگ الگ پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔



